| 85942 | علم کا بیان | علم کے متفرق مسائل کابیان |
سوال
ہمارے خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں "دیندار انجمن" کے نام سے ایک تنظیم ہے، اس تنظیم کے بانی صدیق حسین دیندار چن بسو ایشور تھے، جو پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ تھے، پھر ان سے الگ ہوکر اپنی الگ جماعت قائم کرلی تھی۔ صدیق حسین دیندار چن بسو ایشور اور اس کے پیروکاروں کو ان کے کفریہ عقائد کی بنیاد پر تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام نے دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ ان لوگوں سے جب گفتگو ہوتی ہے تو منکرینِ ختمِ نبوت کے مشہور غلط مفروضات سامنے لاتے ہیں، مسلمانوں کے درمیان باہم اختلافات کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ ان کی بھی تکفیر کرو، اسی طرح بعض علمائے اسلام کی عبارات کی غلط تشریح کر کے کہتے ہیں کہ ان کو بھی کافر کہو۔ ہم الحمد للہ ان اعتراضات کے تشفی بخش جوابات دیتے ہیں۔ چونکہ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے کفریہ عقائد کی وجہ سے ان کی تکفیر کا فتویٰ دیا ہے، جو احسن الفتاویٰ: 1/ 282- 215 میں "بھیڑ کی شکل میں بھیڑیا، یعنی دیندار انجمن" کے نام سے رسالہ کی شکل میں موجود ہے، اس لیے یہ مفتی صاحب رحمہ اللہ کے بارے میں پروپیگنڈہ کرتے ہیں، اس حوالے سے درجِ ذیل سوال کا جواب مطلوب ہے:- دیندار انجمن کے بانی صدیق حسین دیندار چن بسو ایشور کے پوتےکہتے ہیں کہ ہمارے دادا نے اپنی زندگی میں ان کتابوں سے رجوع کیا تھا جن میں ان کی کفریہ باتیں اور عقائد درج ہیں، لہٰذا ان کی بنیاد پر فتویٰ دینا درست نہیں، جبکہ احسن الفتاویٰ میں ہمارے دادا کی تکفیر کا فتویٰ ان کتابوں کی بنیاد پر دیا گیا ہے، جو علمی خیانت ہے۔ یہ لوگ اس بنیاد پر مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ کو برا بھلا کہتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی انسان کفریہ عقائد رکھتا ہو، اس کے لیے باقاعدہ جماعتیں اور تنظیمیں بنائی ہوں، ان عقائد کی نشر و اشاعت اور تبلیغ کرتا ہو، لوگوں کو ان کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس کا انتقال ہوجائے، لیکن اس کی طرف سے رجوع کا کوئی معتبر ثبوت موجود نہ ہو اور بعد میں اس کی اولاد ان کے رجوع کا دعویٰ کرے تو صرف ان کے دعویٰ کی وجہ سے اس کا رجوع ثابت نہیں ہوگا۔ یہ ایسی واضح اور بدیہی بات ہے جس پر دلائل قائم کرنے کی ضرورت نہیں، ہر صاحبِ عقل یہ بات سمجھتا ہے۔
صدیق حسین دیندار چن بسو ایشور کے دو پوتے تقریبا سال ڈیڑھ سال پہلے دار الافتاء جامعۃ الرشید آئے تھے اور ہم سے بالمشافہہ گفتگو کی تھی، انہوں نے ہمارے سامنے یہی دعویٰ رکھا کہ ہمارے دادا نے اپنی ان کتابوں سے رجوع کیا تھا، ہم نے ان سے عرض کیا کہ اس دعویٰ پر کوئی معتبر ثبوت ہو تو آپ دکھادیں، لیکن وہ کوئی معتبر ثبوت پیش نہ کرسکے، پھر ہم نے ان سے کہا کہ آپ جانے کے بعد ہمیں معتبر ثبوت بھیج دیں، لیکن سوال نامہ کے مطابق انہوں نے واپس جا کر ثبوت بھیجنے کے بجائے حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہنا شروع کردیا جو نا مناسب اور غیر اخلاقی حرکت ہونے کے ساتھ ان کے دعویٰ کے غلط اور بے بنیاد ہونے کی واضح دلیل ہے۔ نیز جب وہ اپنے دادا کی وہی تنظیم انہی عنوانات کے تحت چلاتے ہیں جو اس نے اپنے باطل اور کفریہ عقائد کے لیے بنائی تھی تو پھر رجوع کا دعویٰ کیسے؟ لہٰذا ان لوگوں کو چاہیے کہ کسی قسم کی حیلہ بازی اور بہانہ سازی کے بغیر اپنے دادا کے باطل عقائد، نظریات، کتابوں اور تحریکات سے مکمل برائت کا اظہار کریں اور عام اہلِ اسلام کی طرح زندگی گزاریں۔
حوالہ جات
۔
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
18/جمادی الآخرۃ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


