03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دیندار انجمن کا انوار الرشید کے بارے میں پروپیگنڈہ کرنا
85943علم کا بیانعلم کے متفرق مسائل کابیان

سوال

ہمارے خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں "دیندار انجمن" کے نام سے ایک تنظیم ہے، اس تنظیم کے بانی صدیق حسین دیندار چن بسو ایشور تھے، جو پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ تھے، پھر ان سے الگ ہوکر اپنی الگ جماعت قائم کرلی تھی۔ صدیق حسین دیندار چن بسو ایشور  اور اس کے پیروکاروں کو ان کے کفریہ عقائد کی بنیاد پر تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام نے  دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ ان لوگوں سے جب گفتگو ہوتی ہے تو منکرینِ ختمِ نبوت کے مشہور غلط مفروضات سامنے لاتے ہیں، مسلمانوں کے درمیان باہم اختلافات کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ ان کی بھی تکفیر کرو، اسی طرح بعض علمائے اسلام کی عبارات کی غلط تشریح کر کے کہتے ہیں کہ ان کو بھی کافر کہو۔ ہم الحمد للہ ان اعتراضات کے تشفی بخش جوابات دیتے ہیں۔ چونکہ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے کفریہ عقائد کی وجہ سے ان کی تکفیر کا فتویٰ دیا ہے، جو احسن الفتاویٰ: 1/ 282- 215 میں "بھیڑ کی شکل میں بھیڑیا، یعنی دیندار انجمن" کے نام سے رسالہ کی شکل میں موجود ہے، اس لیے یہ مفتی صاحب رحمہ اللہ کے بارے میں پروپیگنڈہ کرتے ہیں،  اس حوالے سے درجِ ذیل سوال کا جواب مطلوب ہے: 

دیندار انجمن کے لوگ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ کے بارے میں "انوار الرشید" سے مختلف القاب نقل کر کے کہتے ہیں کہ مفتی صاحب خود ان مقامات پر فائز ہو رہے ہیں، ان کی اپنی عبارات میں ایسی باتیں ہیں، لیکن دوسروں پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں۔ وہ القاب مندرجہ ذیل ہیں:-

"عارفِ کامل، روشنی کا مینار، ثانی بشکلِ امام ابو حنیفہ، فقیہ العصر، مجدد پندرھویں صدی، نبوت کی طرف گامزن، نبوت سے سرفراز، مثیلِ یوسف علیہ السلام، مثیلِ موسیٰ علیہ السلام، مقامِ بعثتِ ثانی کا آرزو مند، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر متمکن، جسمِ اطہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہو بہو، اختیاراتِ خدائی کا حامل، زمین و آسمان کا نور، منبعِ رشد و ہدایت"۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ اصولی بات سمجھنی چاہیے کہ شخصیات سے منسوب کتب تین قسم کی ہوتی ہیں: ایک وہ کتابیں جو انہوں نے اپنی سوچ اور نظریہ کے مطابق دین کی تشریح و توضیح کے لیے لکھی ہوں، دوسری قسم کتابیں خود نوشت سوانحِ حیات ہوتی ہیں جن میں لکھنے والے اپنے حالاتِ زندگی قلم بند کرتے ہیں، جبکہ تیسری قسم سوانح کی وہ کتابیں ہوتی ہیں جو صاحبِ سوانح کی زندگی میں یا اس کی وفات کے بعد دوسرے لوگ لکھتے ہیں۔

ان تین قسم کی کتابوں میں فرق اہلِ علم پر مخفی نہیں، تیسری قسم کی کتابیں اگر صاحبِ سوانح کی نظر سے سرسری طور پر گزری ہوں، تب بھی وہ ان کی تصنیف نہیں کہلاتی اور اس میں لکھی ہوئی ہر بات کی نسبت ان کی طرف نہیں کی جاسکتی۔ "انوار الرشید" بھی تیسری قسم کی کتابوں میں شامل ہے، یہ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی نہیں ہے، لہٰذا اگر بالفرض اس میں کوئی قابلِ غور بات موجود ہو تو اس کی نسبت حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا اور اس بنیاد پر اعتراض کرنا درست نہیں ہوگا۔

اس تمہید کے بعد سوال میں "انوار الرشید" کی طرف منسوب الفاظ اور القاب کے بارے میں عرض یہ ہے کہ ان سے میں بعض القاب کا عقیدہ سے کوئی تعلق نہیں، ان کا استعمال مشایخ اور اہلِ علم کے لیے عام ہے، لہٰذا اگر "انوار الرشید" میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہوں تو اس کی وجہ سے حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرنا درست نہیں، یہ معترض کی کم فہمی اور ناسمجھی کی دلیل ہے، اس قسم کے القاب میں"عارفِ کامل، روشنی کا مینار، فقیہ العصر، مجدد پندرھویں صدی اور منبعِ رشد و  ہدایت" شامل ہیں۔  البتہ بعض الفاظ اور القاب ایسے ہیں جو درست نہیں، غلط ہیں، لیکن سوال میں ان کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا جس سے معلوم ہو کہ کیا واقعتاً کتاب میں حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے لیے ان الفاظ و القاب کا استعمال ہوا بھی ہے یا وہاں کسی خاص سیاق و سباق میں مضامین لکھے گئے ہیں اور اعتراض کرنے والوں نے ان سے اس قسم کے القاب کشید کر کے کتاب کی طرف منسوب کردئیے ہیں، اس قسم کے القاب اور الفاظ میں "نبوت کی طرف گامزن، نبوت سے سرفراز، مثیلِ یوسف علیہ السلام، مثیلِ موسیٰ علیہ السلام، مقامِ بعثتِ ثانی کا آرزو مند، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر متمکن، جسمِ اطہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہو بہو، اختیاراتِ خدائی کا حامل، زمین و آسمان کا نور" شامل ہیں۔ اس لیے اگر معترضین "انوار الرشید" کے وہ صفحات دکھاسکیں جن میں حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے لیے ان القاب کا استعمال ہوا ہو تو ہم ان پر غور کر کے ان شاء اللہ جواب دیدیں گے۔ دیندار انجمن کے حضرات چونکہ مذکورہ الفاظ و القاب کی نسبت "انوار الرشید" کی طرف کرتے ہیں، اس لیے ان سے انوار الرشید ہی کے صفحات اور حوالہ جات کا مطالبہ کیا جائے، دوسرے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابوں کے حوالے دینا کافی نہیں ہوگا۔  

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        18/جمادی الآخرۃ/1446ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب