| 85916 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہماری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، اور وارثوں میں ایک بیٹا، دو بیٹیاں، اور شوہر شامل ہیں۔ شوہر کو (DIMENSIA) کا مرض لاحق ہے، جس کی وجہ سے ان کی ذہنی کیفیت کبھی ٹھیک ہو جاتی ہے اور کبھی خراب۔ والدہ کی خواہش تھی کہ ان کا سونا ان کی بیٹی اور بہو کو دیا جائے۔
سوال یہ ہے کہ کیا والدہ کی خواہش کے مطابق، باہمی رضامندی سے، سونا بیٹی اور بہو کو دیا جا سکتا ہے؟ اگر دیا جا سکتا ہے، تو شوہر کی رضا مندی کیسے حاصل کی جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ وصیت صرف ثلث تک صحیح ہوتی ہے اور غیر وارث کے لیے صحیح ہوتی ہے، وارث کے لیے شرعاً وصیت کرنا معتبرنہیں ہوتی۔
مسئولہ صورت میں چونکہ زیورکی وصیت وارث (بیٹی) اور غیر وارث (بہو) دونوں کے لیے کی گئی ہے، اور شرعاً وارث کے لیے وصیت صحیح نہیں، لہٰذا زیور کے آدھے حصے میں وصیت باطل ہے اور آدھے حصے میں درست۔ لہٰذا مذکورہ زیور کا آدھا، اگر والدہ کے چھوڑے ہوئے کل مال کے ثلث سے نکل سکتا ہے، تو وہ آدھا زیور بہو کو دیا جائے گا۔ اور اگر یہ آدھا زیور ثلث سے زائد ہے تو زائد کے لیے ورثاء کی اجازت ضروری ہوگی۔ تاہم، ورثاء اپنے حصے کی حد تک اجازت دے سکتے ہیں، لیکن مرحومہ کے شوہر کے حصے میں اجازت نہیں دے سکتے، اور نہ ہی شوہر کی مذکورہ حالات میں اس کی اپنی اجازت کا اعتبار ہوگا۔
بیٹی کے لیے وصیت صحیح نہیں، جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے، تاہم اگر بالغ ورثاء اجازت دیں تو شوہر کے حصے کے علاوہ باقی ورثاء اپنے اپنے حصوں میں سے جتنا چاہیں، اسے دے سکتے ہیں۔
حوالہ جات
سنن أبى داود (3 / 73)
عن شرحبيل بن مسلم سمعت أبا أمامة سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول « إن الله قد أعطى كل ذى حق حقه فلا وصية لوارث ».
ومن اوصى لاجنبي و لوارثه ، فللاجنبي نصف الوصية ، وتبطل وصية الوارث۔(الهداية ،كتاب الوصايا ، باب الوصية بثلث المال ج8ص 291)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 649)
وشرائطها أي شرائط الوصية۔۔۔(و) كونه (غير وارث) وقت الموت.
الفتاوى الهندية - (6 / 90)
ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان ……. وفي كل موضع يحتاج إلى الإجازة إنما يجوز إذا كان المجيز من أهل الإجازة نحو ما إذا أجازه وهو بالغ عاقل صحيح، كذا في خزانة المفتين.
الفتاوى الهندية (90/6):
"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين و لاتجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية ... ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة."
الدرالمختار وحاشیہ ابن عابدین:
(ولا لوارثه وقاتله مباشرة) (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها
الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
16/6/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


