03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈیمینشیا کےمریض کواس کاحصہ میراث کیسے دیاجائےگا؟
85915میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہماری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، اور وارثوں میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں، والدہ کی میراث میں ایک پلاٹ ہے جس کی مالیت کا صحیح اندازہ تو نہیں، لیکن غالب گمان ہے کہ سرجانی ٹاؤن میں واقع ہونے کی وجہ سے 20 گز کا یہ پلاٹ زیادہ مالیت کا نہیں ہوگا، تقریباً 5-6 لاکھ روپے کے قریب ہوگا۔ اسی طرح والدہ کی میراث میں کچھ سونا بھی شامل ہے جس کی مالیت 9 لاکھ روپے ہے۔

سوال یہ ہے کہ والدہ مرحومہ کے شوہر کو (DIMENSIA) کا مرض لاحق ہے، جس کی وجہ سے ان کی ذہنی حالت کبھی ٹھیک ہو جاتی ہے اور کبھی خراب۔ ان کا حصہ کیسے نکالا جائے گا، اور ان کے حوالے کیسے کیا جائے گا؟ جبکہ ان کے حوالے کرنے میں مال کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ رہتے ہیں، اور ان کا سارا خرچ بیٹا ہی اٹھاتا ہے۔توپوچھنایہ ہےکہ

کیا بیٹا ان کا وکیل بن سکتا ہے؟ یعنی جو مال وہ ان پر خرچ کرے، وہ ان کے میراث کے حصے سے منہا کر سکتا ہے؟ یا براہ راست ان کا مال ان کے حوالے کرنے کے بجائے خود ہی ان پر خرچ کر سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ڈیمینشیا کےمریض کواس کامال دینے کاشرعی حکم یہ ہےکہ اس مریض کی کیفیت اگرایسی ہوکہ خود اپنے مال کو سنبھالنے کی صلاحیت اس میں نہ ہوتو ایسی صورت میں شریعت کے مطابق مرحوم بیوی کی میراث میں سے اس کاحصہ اسے براہ راست نہیں دیاجائے گابلکہ ایسی صورت میں شریعت کے مطابق ایک ولی مقرر کیا جائے گا، جو مریض کے فائدے کے لیے اس مال کی حفاظت اور استعمال کرے گا۔ مثلاًاس کےکھانے،پینے،علاج، رہائش، یا دیگر ضروریات میں۔

مسئولہ صورت میں مریض کی جوکیفیت لکھی گئی ہے اس کے مطابق مال اس کو دینے کے بجائے بیٹااگرامانت دارہے تو اسے ولی بناکردیاجائے اوروہ اس مال کو مریض کے مصالح اورضروریات  جیسے کہ کھانے،پینے،لباس،رہائش اورعلاج وغیرہ میں اعتدال کےساتھ خرچ کرے،اوراس کاپورا حساب وکتاب رکھے،اوراپنےاستعمال میں قطعااس مال کو نہ لائے۔

 

حوالہ جات

قال للہ تعالی:

{ وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا} [النساء: 5]

تنوير المقباس من تفسير ابن عباس (ص: 65) :

{وَلاَ تُؤْتُواْ السفهآء} لَا تعطوا الْجُهَّال بِموضع الْحق من النِّسَاء وَالْأَوْلَاد {أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ الله لَكُمْ قِيَاماً} معاشاً {وارزقوهم فِيهَا} أطعموهم فِيهَا {وَاكْسُوهُمْ} وَكُونُوا أَنْتُم القوامون على ذَلِك فَإِنَّكُم أعلم مِنْهُم فِي النَّفَقَة وَالصَّدَََقَة بِموضع الْحق {وَقُولُواْ لَهُمْ} إِن لم يكن لكم شَيْء {قَوْلاً مَّعْرُوفاً} عدَّة حَسَنَة أَي سأكسو وسأعطى {وابتلوا الْيَتَامَى} اختبروا عقول الْيَتَامَى {حَتَّى إِذَا بَلَغُواْ النِّكَاحَ} الْحلم {فَإِنْ آنَسْتُمْ مِّنْهُمْ} فَإِن رَأَيْتُمْ مِنْهُم {رُشْداً} صلاحاً فِي الدّين وحفظاً فِي المَال {فادفعوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ} الَّتِي عنْدكُمْ {وَلاَ تَأْكُلُوهَآ إِسْرَافاً} فِي الْمعْصِيَة حَرَامًا {وَبِدَاراً} مبادرة كبر الْيَتِيم إِلَى أكلهَا الأول فَالْأول {أَن يَكْبَرُواْ} مَخَافَة أَن يكبروا فيمنعوكم من ذَلِك {وَمَن كَانَ غَنِيّاً} عَن مَال الْيَتِيم {فَلْيَسْتَعْفِفْ} بغناه عَن مَال الْيَتِيم وَلَا يرزأ أَي لَا ينقص مِنْهُ شَيْئا.

المبسوط للسرخسي (24/ 157) :

الحجر في اللغة هو المنع والاختلاف بين العلماء - رحمهم الله -، ورأى هذا في فصلين: أحدهما الحجر على السفيه المبذر، والآخر الحجر على المديون بسبب الدين، والسفه هو العمل بخلاف موجب الشرع، وهو اتباع الهوى، وترك ما يدل عليه العقل، والحجى، وأصل المسامحة في التصرفات، والبر والإحسان مندوب إليه شرعا، ولكن بطريق السفه والتبذير مذموم شرعا وعرفا، ولهذا لا تنعدم الأهلية بسبب السفه، ولا يجعل السفه عذرا في إسقاط الخطاب عنه بشيء من الشرائع، ولا في إهدار عبارته فيما يقر به على نفسه من الأسباب الموجبة للعقوبة.

وقال أبو حنيفة - رحمه الله - لا يجوز الحجر عليه عن التصرفات بسبب السفه أيضا، وقال أبو يوسف ومحمد والشافعي - رحمهم الله - يجوز الحجر عليه بهذا السبب عن التصرفات المحتملة للفسخ إلا أن أبا يوسف ومحمدا رحمهما الله قالا أن الحجر عليه على سبيل النظر له، وقال الشافعي على سبيل الزجر، والعقوبة له.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

16/6/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب