| 85919 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہماری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، اور وارثوں میں ایک بیٹا، دو بیٹیاں، اور شوہر شامل ہیں۔ شوہر کو (DIMENSIA) کا مرض لاحق ہے، جس کی وجہ سے ان کی ذہنی کیفیت کبھی ٹھیک ہوتی ہے اور کبھی خراب۔ والدہ نے میراث میں کچھ سونا بھی چھوڑا ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ
کیا کچھ سونا بیچ کر والدہ مرحومہ کی طرف سے صدقہ و خیرات کیا جا سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی نقطہ نظر سے وفات کے وقت میت کی ملکیت میں جو کچھ موجود ہو وہ سب اس کے ترکہ میں شمار ہوتا ہے، جسے ورثا کے مابین ان کے شرعی حصص کے بقدر تقسیم کیا جاۓ گا ۔ تقسیم ترکہ سے پہلے کسی وارث کو یہ حق نہیں کہ وہ مشترکہ ترکہ میں سے دیگر ورثا کی رضامندی کے بغیر کوئی تصرف کرے ،خواہ میت کے ایصال ثواب کے لئےہی خرچ کرنا ہو۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر مرحوم کے عاقل بالغ ورثہ اجازت دیں توان کے حصوں کاسونا بیچ کر حاصل ہونے والی رقم سے رسم رواج سے ہٹ کر والدہ کی طرف سے صدقہ کیاجاسکتاہے۔
لیکن اگر ورثا کی رضامندی نہ ہو یا کچھ نا بالغ ورثا بھی ہوں تو اسں صورت میں تقسیم میراث سے قبل ایصال ثواب نہ کیا جائے تقسیم کے بعد ہر ایک اپنے حصے میں خود مختار ہو گا اگر چا ہے تو ایصال ثواب کر سکتا ہے ۔
شوہرکے حصے سےبہرحال ایصالِ ثواب نہیں ہوسکتاہےاورنہ ہی ان کی اجازت کا اعتبارہے۔
حوالہ جات
يجوز لأحد أصحاب الحصص التصرف مستقلا في الملك المشترك بإذن الآخر ، لكن لا يجوز له أن يتصرف تصرفا مضرا بالشريك ، والإذن نوعان: صريح و دلالة ، ففي الأول يتصرف الشريك بحصة شريكه كما أذنه سواء أضر أو لم يضر فله أن يرهن و يبيع أو يهب - (شرح المجلة لسليم رستم باز ، الكتاب العاشر في أنواع الشركات ، الفصل الثاني ، المادۃ: 1071 ص:600)
.”وعن سعد بن عبادة قال: يا رسول الله إن أم سعد ماتت، فأي الصدقة أفضل؟ قال: «الماء». فحفر بئراً وقال: هذه لأم سعد. رواه أبو داود والنسائي”.(مشكاة المصابيح كتاب الزكاة, ،باب فضل الصدقة ج:1 ص597))
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
16/6/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


