| 85920 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہماری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، اور وارثوں میں ایک بیٹا، دو بیٹیاں، اور شوہر شامل ہیں۔ شوہر کو (DIMENSIA) کا مرض لاحق ہے، جس کی وجہ سے ان کی ذہنی کیفیت کبھی ٹھیک ہوتی ہے اور کبھی خراب۔ والدہ مرحومہ نے پلاٹ، زیور، اور کچھ نقد رقم کی شکل میں ترکہ چھوڑا ہے۔پوچھنا یہ تھا کہ
والدہ مرحومہ کےمذکورہ ترکہ میں کس وارث کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ،قرض اوروصیت کی علی الترتیب ادائیگی کے بعداگرمرحومہ کے صرف یہی ورثہ ہوں جو سوال میں درج ہیں تو مرحومہ کی کل منقولہ،غیرمنقولہ ترکہ میں سے شوہر کو%25،بیٹے کو%37.5اورہربیٹی کو% 18.75دیاجائےگا۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ.... وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ [النساء/11]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
16/6/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


