| 86018 | حج کے احکام ومسائل | حج کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اگر ایک شخص کرائے کے مکان میں رہ رہا تھا، اسے وراثت میں کچھ رقم ملی ۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ یہ رقم استعمال کر کے اپنا مکان خریدے تاکہ کرائے سے بچ سکے، یا پہلے اس پر حج فرض ہوگا اور اسے حج کی ادائیگی کرنی ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگروراثت میں ملنے والی مذکورہ رقم حج کے وقت میں ہواوروہ اتنی ہوکہ جتنی رقم سے حج کیا جاسکتا ہے توپھر اس رقم سے مکان خریدنا جائز نہیں ہے، بلکہ حج کرنا ہی لازم ہے، لیکن اگر یہ رقم حج کے موقع پر نہیں ملی تھی بلکہ موسم حج سےپہلے ملی تھی تو چوں کہ حج کا وقت آنے سے پہلے حج ذمہ میں فرض نہیں ہوتا؛ اس لیے حج کا وقت آنے سے پہلے اگر اس رقم سے مکان خریدا جائے تو یہ جائز ہوگا اور اس صورت میں حج فرض نہ ہونے کی وجہ سے گناہ بھی نہیں ملے گا، لیکن اگر حج کا وقت آگیا اور یہ رقم پاس موجود تھی تو حج فرض ہو جائے گا اور پھراس رقم سے حج کرنے کے بجائے مکان خریدنا جائز نہیں ہوگا۔
حج فرض ہونے کے بعد تاخیر کرنا مناسب نہیں ہے، اور بعض علماء کے نزدیک تاخیر سے گناہ بھی ہوتا ہے۔ مکان بعد میں بھی بنایا جا سکتا ہے، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ حج کرنے کی برکت سے مکان بنانے کے لیے بعد میں انتظامات مہیا فرما دیں گے، کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حج فقر کو دور کر دیتا ہے۔ لہٰذا حج فرض ہونے کے بعد تاخیر نہ کی جائے اور پہلے فرصت میں ادا کیا جائے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/217):
وإن لم يكن له مسكن، ولا شيء من ذلك وعنده دراهم يبلغ بها الحج أو يبلغ ثمن مسكن وخادم وطعام وقوت فعليه الحج، فإن جعلها في غير الحج أثم، كذا في الخلاصة.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/123):
إذا لم يكن له مسكن، ولا خادم، ولا قوت عياله، وعنده دراهم تبلغه إلى الحج لا ينبغي أن يجعل ذلك في غير الحج، فإن فعل أثم؛ لأنه مستطيع؛ لملك الدراهم، فلا يعذر في الترك، ولا يتضرر بترك شراء المسكن، والخادم، بخلاف بيع المسكن، والخادم، فإنه يتضرر ببيعهما.
الفتاوى الهندية (1/219):
ثم ما ذكر من الشرائط لوجوب الحج من الزاد، والراحلة، وغير ذلك يعتبر وجودها وقت خروج أهل بلده
إلى مكة حتى لو ملك الزاد، والراحلة في أول السنة قبل أشهر الحج، وقبل أن يخرج أهل بلده إلى مكة فهو في سعة من صرف ذلك إلى حيث أحب، وإذا صرف ماله ثم خرج أهل بلده لا يجب عليه الحج، فأما إذا جاء وقت خروج أهل بلده فيلزمه التأهب، فلا يجوز له صرفه إلى غيره، فإن صرفه إلى غير الحج أثم، وعليه الحج.
وفی بدائع الصنائع:
ثم ما ذكرنا من الشرائط لوجوب الحج من الزاد، والراحلة، وغير ذلك يعتبر وجودها وقت خروج أهل بلده حتى لو ملك الزاد، والراحلة في أول السنة قبل أشهر الحج، وقبل أن يخرج أهل بلده إلى مكة فهو في سعة من صرف ذلك إلى حيث أحب؛ لأنه لا يلزمه التأهب للحج قبل خروج أهل بلده؛ لأنه لم يجب عليه الحج قبله، ومن لا حج عليه لا يلزمه التأهب للحج، فكان بسبيل من التصرف في ماله كيف شاء، وإذا صرف ماله ثم خرج أهل بلده لا يجب عليه الحج، فأما إذا جاء وقت الخروج، والمال في يده فليس له أن يصرفه إلى غيره على قول من يقول بالوجوب على الفور؛ لأنه إذا جاء وقت خروج أهل بلده فقد وجب عليه الحج لوجود الاستطاعة، فيلزمه التأهب للحج، فلا يجوز له صرفه إلى غيره كالمسافر إذا كان معه ماء للطهارة، وقد قرب الوقت لا يجوز له استهلاكه في غير الطهارة، فإن صرفه إلى غير الحج أثم، وعليه الحج، والله تعالى أعلم. (كتاب الحج، فصل ركن الحج، ج:2، ص:125، ط: دار الكتب العلمية)
وفي كنز العمال(11851):
تعجلوا الخروج إلى مكة، فإن أحدكم لا يدري ما يعرض له من مرض أو حاجة." (الديلمي عن ابن عباس).
وفي سنن الترمذي (810):
عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "تابعوا بين الحج والعمرة، فإنهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد، والذهب، والفضة." (ورواہ النسائيٲیضاً: 2631).
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
24/6/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


