| 86031 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ پیزہ/pizza بنانے اور اس کو بیچنے کا کاروبار کرتا ہے، وہ اس کی مارکیٹنگ کے لیے سوشل میڈیا کے ذرائع بھی استعمال کرتا ہے، جیسے واٹس ایپ اور انسٹاگرام وغیرہ، جس میں مختلف قسم کی نئی اشیاء/productsکی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر چلائی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان کو دیکھیں ، ان اشیاء کی مارکیٹنگ ہواور لوگ ان کو استعمال کریں، ان ویڈیوز کے پیچھے کسی قسم کی کوئی میوزک نہیں ہوتی لیکن سوشل میڈیا خاص طورپر انسٹاگرام اس طریقہ سے کام کرتا ہے کہ جن ویڈیوز میں ایک خاص قسم کی میوزک ہو، ان ویڈیوز کو بہ نسبت باقی ویڈیوزکے زیادہ لوگوں کے سامنے لاتا ہے، یہ مخصوص قسم کی میوزک لوگوں کی دلچسپی (جس کو انسٹاگرام اپنےالگورتھم/ algorithmسے معلوم کرتاہے )کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہے ، چونکہ انسٹاگرام پر ویڈیوز ایک دو منٹ کی ہوتی ہیں اور اپنے طریقۂ کار کے ذریعہ انسٹاگرام صرف انہی ویڈیوز کو چلاتا ہے، جن میں ایسی میوزک ہو جس کو لوگ زیادہ پسند کرتے ہوں، توکیا ایسی صورت میں یہ بندہ اپنی ویڈیوز میں جو خاص پیزہ اور برگر وغیرہ پر مبنی ہوتی ہیں اور کوئی غیر شرعی چیز ان میں نہیں ہوتی، ان ویڈیوز کے پیچھے ممکنہ طور سے بالکل ہلکی آواز میں میوزک چلا سکتا ہے، تاکہ وہ انسٹاگرام پر زیادہ لوگوں کی نظر سے گزریں اور ہماری چیزوں کی مارکیٹنگ اچھی ہو۔
اس معاملہ میں ایک معروف عالم دین مفتی طارق مسعود صاحب کے بیان سے تائید ملتی ہے، حضرت کے ویڈیو بیانات بھی سوشل میڈیا پر کافی چلتے رہتے ہیں، انہوں نے اپنے ایک بیان میں اس طرح ہی بات فرمائی کہ کسی بھی ویڈیو کے پیچھے جو میوزک چل رہی ہوتی ہے اس کے چلانے میں کوئی مضایقہ نہیں۔ کیا اس معاملہ میں ان کی بات سے جواز قائم کیا جاسکتا ہے؟ حوالہ کے لیے حضرت کے بیانات کا لنک بھی دیا جا رہا ہے تاکہ اگر صریح الفاظ معلوم کرنے ہوں تو ان کے بیانات کو سن لیا جائے، اس ویڈیو میں ۳ منٹ اور ۸ سیکنڈ میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا ہے،لنک یہ ہیں:
https://www.youtube.com/watch?v=2r9bY_AilrU https://www.youtube.com/watch?v=hipildApPSQ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جائز آڈیوز یا ویڈیوزکے بیک گراؤنڈ میں خالص میوزک کا استعمال تو ناجائز اور حرام ہے، البتہ خود
ریکارڈ شدہ آواز کو ایکو ساؤنڈ سسٹم کے ذریعہ ایسی سریلی ونغماتی آوازوں میں منتقل کرنا جو اصل آواز کے تابع اور
میوزک کے واضح طور پر مشابہ نہ ہوں تو ایسی آوازیں شامل کرنا حرام نہیں ہے،تاہم ایسی آواز میں اگر میوزک کی آواز کے ساتھ مشابہت پیدا ہو تو مکروہ ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں پروڈکٹس کی جائزویڈیو زمیں ہلکی میوزک بھی چلاناجائز نہیں،البتہ اس کے بجائے ریکارڈ شدہ اصل آواز سے اس کےتابع مگر میوزک کی مشابہت کے بغیر ایکو ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے سے سریلی ونغماتی آوازیں پیدا کرکے لگا ئی جا سکتی ہیں۔
مفتی طارق مسعود صاحب نےاپنے ان بیانات میں (جن کا لنک بھیجا گیا ہے) یہ بات نہیں فرمائی کہ ”کسی بھی ویڈیو کے پیچھے جو میوزک چل رہی ہوتی ہے اس کے چلانے میں کوئی مضایقہ نہیں“،بلکہ وہ یہ فرماتے ہیں کہ موبائل کی گھنٹی کی طرح ہلکی میوزک میرے خیال میں جائز ہونی چاہیے۔یہ انہوں نے اپناایک خیال ظاہر فرمایا ہے، مگر یہ ان کی طرف سے بیک گراؤنڈ میوزک کے جواز کا نہ فتویٰ ہے ،اور نہ ہی اس سے جواز ثابت ہوتاہے،کیونکہ عموما جو بیک گراؤنڈ میوزک ہوتی ہےوہ اس طرح سے نہیں ہوتی، بلکہ خود موبائل کی گھنٹیاں بھی مختلف طرح کی ہوتی ہیں اور ان سب کاایک حکم نہیں ہے،نیز وہ انہی بیانات میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ میوزک نہیں چلانی چاہیے،اور خبروں وغیرہ میں جو میوزک ہوتی ہے وہ مقصد نہیں ہوتی،اوراس میوزک کوبھی appreciateیعنی سراہنا نہیں چاہیے،باقی انہوں نے گنجائش دینے کے پہلو کی جو بات کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اہم معلوماتی ویڈیوز اور خبروں کے لیے حتی الامکان وہ ذرائع اختیار کئے جائیں جن میں بد نظری اور موسیقی سننے کے گناہ سے بچا جا سکے،اور جہاں مجبوری کی صورت ہوتو اس میں اگر اپنی توجہ بامقصدچیزکی طرف مبذول رکھی جائے توایک حقیقی ضرورت کو پورا کرنے کے لیےایک ایسی بیک گراؤنڈ میوزک والی ویڈیو کے دیکھنے کی گنجائش ہوگی، تاہم شوقیہ خبریں دیکھنے میں بدنظری اور میوزک سے لطف اندوز ہونا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
أحكام القرآن لابن العربي ط العلمية (3/ 525):
قوله تعالى: ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم ويتخذها هزوا أولئك لهم عذاب مهين [لقمان: 6].فيها ثلاث مسائل:المسألة الأولى: {لهو الحديث} هو الغناء وما اتصل به: فروى الترمذي والطبري وغيرهما عن أبي أمامة الباهلي أن النبي - ﷺ- قال: لا يحل بيع المغنيات، ولا شراؤهن، ولا التجارة فيهن، ولا أثمانهن؛ وفيهن أنزل الله تعالى: ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم [لقمان: 6] الآية.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (6/ 2512):
(وعنه) : أي: أبي هريرة رضي الله عنه (أن رسول الله - ﷺ - قال: الجرس مزامير الشيطان ) : قال الطيبي: أخبر عن المفرد بالجمع إما لإرادة الجنس، أو لأن صوتها لا ينقطع كلما تحرك المعلق به، لاسيما في السفر بخلاف المزامير المتعارفة ،كقول الشاعر: معى جياعا وصف المفرد بالجمع ليشعر بأن كل جزءمن أجزاء المعى بمثابته لشدة الجوع، وأضاف إلى الشيطان ؛ لأن صوته لم يزل يشغل الإنسان من الذكر والفكر، والله أعلم. (رواه مسلم وكذا أحمد، وأبو داود)
الفقه الإسلامي وأدلته (ج 1 / 159):
القاعدة الثانية ـ ( الأمور بمقاصدها ) :معنى هذه القاعدة: أن أعمال الإنسان وتصرفاته القولية و الفعلية تخضع أحكامها الشرعية التي تترتب عليها لمقصوده الذي يقصده منها، وليس بظاهر العمل أو القول... وذكر قاضي خان في فتاواه عند الحنفية : أن بيع العصير ممن يتخذه خمراً: إن قصد به التجارة، فلا يحرم، وإن قصد به لأجل التخمير حرم ، وكذا غرس الكرم على هذا.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
23/جمادی الثانیہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


