03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بین المذاہب ہم آہنگی کے تصور کے ساتھ رائج چند نظریات کا حکم
86066.ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

زید یونی ورسٹی کا طالب علم ہے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت  درجِ ذیل نظریات رکھتا ہے:-  

  • ہر انسان کو آزادئ فکر، آزادئ ضمیر اور آزادئ مذہب کا پورا حق ہے۔ اس حق میں مذہب یا عقیدے کو تبدیل کرنے اور پبلک میں یا نجی طور پر، تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل  جُل کر عقیدے کی تبلیغ ، عمل، عبادت اور مذہبی رسمیں پوری کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔
  • اپنے ذاتی عقائد رکھنا، اپنا ذاتی مذہب رکھنا، کوئی بھی مذہب نہ رکھنا ، یا مذہب کو تبدیل کرلینا  ہم سب کا حق ہے۔
  • وہ مذہبی، غیر مذہبی اور لا مذہبی تمام اعتقادات کی حفاظت کو ضروری سمجھتا ہے،  نیز اُن لوگوں کی حفاظت کو بھی ضروری جانتاہے  جو کسی قسم کا یقین یا عقیدہ نہیں رکھتے۔
  • وہ سوچ و فکر ،فہم واِدراک ، مذہب  اور عقیدے کی آزادی  کو  تحفظ فراہم کرنے  کا اور اس بات کو یقینی بنانے کا عہد کرچکا ہے کہ ہر انسان کسی بھی قسم کے جُرمانے /ہرجانے یا ظلم کے خوف سے آزاد ہو کر اپنے عقائد کو تبدیل کر سکےیا اگر چاہے تو کوئی عقیدہ نہ رکھے (یعنی دہریہ/ملحد ہوجائے)۔
  • وہ عہد کرچکاہےکہ 'مذہب و عقیدے کے انتخاب کی آزادی 'کا دفاع کرنے والوں کی حمایت کے لیے بھرپور آواز اٹھائے گا، مذہب اور عقیدے کے حوالے سےبا اثرافراد/رہنماؤں کو اپنے ساتھ شامل کرےگا، مستقبل کی باگ ڈور سنبھالنے والوں بالخصوص نوجوانوں کو (مذہب و عقیدے کے انتخاب کی آزادی سے) متاثر کرے گا اور اس پر  منظم عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے   عالمی سطح پر کئی  مختلف اتحاد/شراکت داریاں قائم کرے گا۔
  • وہ عہد کرچکا ہے کہ ایسی ہر قسم کی حق تلفی یا ظلم کے خلاف جنگ کرےگا جو نوجوانوں کو مذہب و عقیدے کے انتخاب کی آزادی سے روکتا ہو۔
  • وہ عہد کرچکا ہے کہ آن لائن بھی انسانی حقوق کی حفاظت کرے گا اور 'مذہب و عقیدے کے انتخاب کی آزادی ' بھی اس میں شامل ہوگی تاکہ ہر فرد وہ  مذہب منتخب کر سکےجو آن لائن (انٹرنیٹ کی) دنیا  پیش کرتی ہے اور جس کو  فرد  اپنے لیے مثبت و فائدہ مند جانتا  ہو۔

سائل،دارلافتاء سے  مندرجہ ذیل سوالات پر شرعی راہنمائی کا خواست گار ہے۔

  1. درج بالا نکات میں موجود نظریات کا  شرعی حکم کیا ہے؟
  2. کسی کلمہ گوکے لیے مندرجہ بالا  نظریات کا قائل ہونا  کیسا ہے؟
  3. کسی کلمہ گو کے لیے مندرجہ بالا  نظریات  پر اشتراک ِ عمل کا عہد کرنا کیسا ہے؟
  4. کسی مسلمان کے لیے  مندرجہ بالا نظریات  کے لیے منعقد میٹنگ، کانفرنس یا کسی بھی پروگرام میں شریک ہونا کیسا ہے؟
  5. جو شخص ان نکات پر اشتراک کا عہد کرتا ہو، اس کواپنا  رہنما ماننے  والوں کے لیے کیا حکمِ شرعی ہے؟
  6. درج بالا عبارات کے قائل شخص یا اشخاص سے میل جو ل اور تعلقات رکھنے والوں پر  کیا حکم ہے؟
  7. درج بالا عبارات کے قائل شخص یا اشخاص  کو  آشکار کرنا اور ان سے اعلان براءت کرنا کتنا ضروری ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ بالا سوالات کے جوابات سے پہلے بطورِ تمہید یہ سمجھنا چاہیے کہ مذہب کے انتخاب میں آزادی کا قائل ہونے کے چار مطلب ہوسکتے ہیں:-

(1)۔۔۔جو لوگ اسلام میں داخل نہیں ہوئے، ان کے لیے اپنی مرضی سے مذہب منتخب کرنے کا قائل ہونا، مگر اس کے ساتھ اسلام کو واحد دینِ حق ماننا، دیگر تمام ادیان، مذاہب، لامذہبیت اور الحاد و دہریت کو باطل ماننا اور ایسے لوگوں کے اسلام میں داخل ہونے کے لیے فکر مند ہونا۔

اس صورت کا قائل ہونا شرعا ناجائز نہیں؛ کیونکہ عاقل بالغ انسان ایمان و اسلام کا مکلف ہے، لیکن اس کو اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ قرآنِ کریم کی سورۃ البقرۃ، آیت نمبر:256 میں اللہ تعالیٰ فرماتے  ہیں:

{لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ } [البقرة: 256] 

ترجمہ: دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت کا راستہ گمراہی کے راستے سے ممتاز ہو کر واضح ہوچکا۔ اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں۔ اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ (آسان ترجمۂ قرآن: 126)

اسی طرح سورۃ الکہف، آیت نمبر: 29 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{ وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا} [الكهف: 29]

ترجمہ: اور کہہ دو کہ: " حق تو تمہارے رب کی طرف سے آچکا ہے، اب جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر اختیار کرے"۔ ہم نے بے شک ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیرے میں لے لیں گی، اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد کا جواب ایسے پانی سے دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا (اور) چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ کیسا بد ترین پانی اور کیسی بری آرام گاہ ! (آسان ترجمۂ قرآن: 632)

ان دونوں آیتوں میں یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ حق (اسلام) اور باطل (اسلام کے علاوہ ادیان و مذاہب) واضح ہو چکے ہیں، اب جو اپنی مرضی سے حق پر ایمان لانا چاہے وہ ایمان لائے اور کامیابی حاصل کرے، اور جو کفر کا راستہ اختیار کرنا چاہے تو یہ اس کی مرضی ہے، اس کو اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کے نتائج وہ خود بھگتے گا اور آخرت میں اس کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب ہوگا۔ سورۃ الکافرون کی روح اور پیغام بھی یہی ہے {لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ} کہ تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔  

یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ جو غیر مسلم ایمان نہ لانا چاہے تو اس کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے کفر اور غلط عقائد کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، یا ان کو اسلامی عقائد اور نظریات کے برابر کا درجہ دیا جائے گا اور ان غلط عقائد کی تبلیغ کی اجازت دی جائے گی یا عوامی مقامات (Public Spaces) پر ان کے اظہار کا موقع دیا جائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو غیر مسلم قانون کے مطابق اسلامی/مسلم حکومت کے زیرِ نگیں رہنا چاہیں تو حکومت انہیں شہری حقوق دینے کی پابند ہوگی اور انہیں اپنے ماحول اور اپنے دائرے میں اپنے مذہب پر عمل سے نہیں روکے گی۔

(2)۔۔۔ جو لوگ اسلام میں داخل نہیں ہوئے، ان کے لیے نہ صرف اپنی مرضی سے مذہب منتخب کرنے کا قائل ہونا، بلکہ اسلام اور دیگر ادیان، مذاہب، لامذہبیت اور الحاد و دہریت  کو (معاذ اللہ) برابر تسلیم کرنا، یعنی اسلام کو واحد سچا دین اور معیارِ حق نہ ماننا۔

یہ صورت باطل ہے اور اس کا قائل ہونا کفر ہے؛ کیونکہ مسلمان ہونے کے لیے اسلام کو واحد دینِ حق ماننا شرط ہے۔

(3)۔۔۔ اسلام کو واحد دینِ حق اور باقی تمام ادیان ومذاہب اور الحاد و دہریت کو باطل مانتے ہوئے  مسلمانوں کے لیے کسی دوسرے دین اور مذہب یا لامذہبیت اور الحاد و دہریت اختیار کرنے یعنی مرتد ہونے کی آزادی کا قائل ہونا۔

اس کی پھر مزید دو صورتیں ہوسکتی ہیں:

  1. ارتداد کو جائز سمجھنا۔

اس صورت کا قائل بلا شک و شبہہ کافر ہوگا؛ کیونکہ ارتداد کی حرمت دلائلِ قطعیہ سے ثابت ہے، لہٰذا اس کو جائز سمجھنے والا ایک ناجائز اور حرام کام کو جائز اور حلال قرار دینے کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہوگا۔  

  1. ارتداد کو ناجائز سمجھنا، مگر اس کی سزا یعنی قتل کا انکار کرنا۔

اس صورت کا قائل کافر ہوگا یا نہیں، اس کا مدار اس بات پر ہے کہ ارتداد کی سزا یعنی قتل کا انکار کفر ہے یا نہیں؟ جواہر الفقہ میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ اور احسن الفتاویٰ میں حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص کافر ہوگا؛ کیونکہ ارتداد کی سزا قرآنِ کریم کی آیتِ محاربہ، متعدد احادیثِ کریمہ اور اجماعِ امت سے ثابت ہے، البتہ اگر انکار لاعلمی یا تاویل کی بنیاد پر ہو تو اس پر کفر کا حکم لگانے میں مزید غور و فکر اور دلائل کا جائزہ لینے کی ضرورت معلوم ہوتی ہے، تاہم اگر کوئی انکار کے ساتھ اس سزا کا مذاق بھی اڑائے یا اس کے حوالے سے گستاخی پر مبنی کوئی بات کرے تو اس کے کفر میں کوئی شبہہ نہیں۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [المائدة: 33]

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قتل کو محاربہ کی سزا کے طور پر ذکر کیا ہے، جبکہ حدیثِ مبارک میں اس آیت کا جو شانِ نزول بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق یہ لوگ مرتد ہوگئے تھے اور انہوں نے ڈاکہ ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کیا تھا، چنانچہ مفسرین اور شراحِ حدیث نے لکھا ہے کہ اس آیت میں بیان کردہ سزا "قتل" کی دو وجوہات تھیں، ایک ارتداد اور دوسری محاربہ۔

صحیح بخاری شریف میں روایت ہے:

عن عكرمة قال: أتي علي رضي الله عنه بزنادقة فأحرقهم، فبلغ ذلك ابن عباس فقال: لو كنت أنا لم أحرقهم لنهي رسول الله صلى الله عليه وسلم "لا تعذبوا بعذاب الله" ولقتلتهم لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم "من بدل دينه فاقتلوه". (صحيح البخاري: 9/ 15)

اس روایت میں حضرت عبد اللہ بنِ عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے کہ: جو شخص اپنے دین کو تبدیل کرے (یعنی اسلام چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرے) تو اسے قتل کرو۔

مزید تفصیل کے لیے جواہر الفقہ، جلد 6، صفحہ 129 تا 147، احسن الفتاوی، جلد 6، صفحہ 367 تا 387 اور صحیح مسلم کی شرح تکملۃ فتح الملہم، جلد 2، صفحہ 272 تا 280 ملاحظہ فرمائیں۔  

(4)۔۔۔ نہ صرف مسلمانوں کے لیے کسی دوسرے دین و مذہب یا الحاد و دہریت اختیار کرنے کی آزادی کا قائل ہونا، بلکہ اسلام اور دیگر ادیان و مذاہب اور الحاد و دہریت سب کو (معاذ اللہ) برابر تسلیم کرنا، اسلام کو واحد سچا دین اور معیارِ حق نہ ماننا۔

یہ صورت باطل ہے اور اس کا قائل ہونا کفر ہے، جیسا کہ دوسری صورت میں بیان ہوا۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات حسبِ ذیل ہیں:

(1)۔۔۔  ان نظریات کا خلاصہ دو نکات کی شکل میں بیان کیا جا سکتا ہے، ذیل میں دونوں نکات اور ان کا حکم ملاحظہ فرمائیں:

(الف)۔۔۔ اپنی مرضی کے مطابق مذہب اور عقیدے کا انتخاب۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اگر مذہب اور عقیدے کے انتخاب کی آزادی سے مراد صرف یہ ہو کہ ہر مذہب والوں کو اپنا عقیدہ رکھنے کی اجازت ہو، کسی ایک مذہب والوں کو دوسرے مذہب میں داخل کرنے پر مجبور نہ کیا جائے تو یہ بات درست ہے، لیکن اگر صرف یہ مراد نہ ہو، بلکہ کسی مسلمان کو مذہب تبدیل کرنے یا مذہب سے منکر ہوکر الحاد و دہریت اختیار کرنے کی آزادی بھی مراد ہو تو پھر یہ نظریہ اسلام سے سراسر متصادم اور غلط ہے۔

(ب)۔۔۔ ہر کسی کو اپنے مذہب و عقیدے کی تبلیغ اور اپنی عبادات و رسوم پر عمل کی کھلی اجازت۔ یہ بات غلط ہے اور کسی اسلامی/مسلم ریاست میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

(2)۔۔۔ کسی کلمہ گو کے لیے مندرجہ بالا غلط نظریات کا قائل ہونا ہرگز جائز نہیں۔ اگر کوئی کسی غلط فہمی کی وجہ سے ان نظریات کا قائل ہوا ہو تو اس پر لازم ہے کہ مستند علماء سے گفتگو کرے، حق واضح ہونے پر صدقِ دل سے اسے اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑا کر توبہ و استغفار کر کے آئندہ اس قسم کے نظریات سے بچنے کا پکا عزم کرے۔  

(3)۔۔۔ مندرجہ بالا غلط نظریات پر اشتراکِ عمل گناہ کے کام میں تعاون کی وجہ سے حرام اور ناجائز ہے۔

(4)۔۔۔ ہرگز جائز نہیں، سخت حرام ہے، جس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔

(5)۔۔۔ جو شخص ان نکات پر اشتراکِ عمل کا عہد کرتا ہو، اس سے بیزاری کا اظہار ضروری ہے، اس کو اپنا راہنما ماننا شرعا ناجائز اور حرام ہے۔

(6)۔۔۔ ان پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں سے بے تکلفانہ تعلقات نہ رکھیں، بالخصوص ایسا تعلق جو کسی بھی درجے میں ان کے غلط نظریات کی تائید، تقویت یا ترویج کا سبب بنتا ہو۔ البتہ انہیں دعوت دینے اور راہِ راست پر لانے کی غرض سے ان سے تعلق رکھنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ پختہ معلومات اور دوسروں کو قائل کرنے کی صلاحیت ہو، ورنہ اگر اپنے پھسلنے کا اندیشہ ہو تو بالکل تعلق نہ رکھیں۔

(7)۔۔۔ ایسے لوگوں کی غلط نظریات کی تردید فرضِ کفایہ اور ان سے بیزاری کا اظہار فرضِ عین ہے۔  

حوالہ جات

صحيح مسلم (3/ 1296):

 باب حكم المحاربين والمرتدين:  

حدثنا يحيى بن يحيى التميمي وأبو بكر بن أبي شيبة كلاهما عن هشيم واللفظ ليحيى قال: أخبرنا هشيم عن عبد العزيز بن صهيب وحميد عن أنس بن مالك أن ناسا من عرينة قدموا علی رسول الله صلی الله علیه وسلم المدینة فاجتووها، فقال لهم رسول الله صلی الله علیه وسلم: إن شئتم أن تخرجوا إلى إبل الصدقة فتشربوا من ألبانها وأبوالها، ففعلوا، فصحوا، ثم مالوا على الرعاة، فقتلوهم، وارتدوا عن الإسلام، وساقوا ذود رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم، فبعث في إثرهم، فأتي بهم، فقطع أيديهم وأرجلهم، وسمل أعينهم وتركهم في الحرة حتى ماتوا.

تکملة فتح الملهم (2/272):

ثم قد یستدل بحدیث الباب علی أن عقوبة الارتداد هي القتل، ومن هذه الجهة ترجم المترجمون علی حدیث الباب: باب حكم المحاربين والمرتدين. والصحیح أن العرنیین قد استحقوا القتل من جهتین: قطع الطریق والارتداد، فیصح نسبة عقوبتهم إلی کلتا الجهتین.  ولما صارت مسألة قتل المرتد من المسائل التي کثر فیها الشغب في عصرنا من جهة أهل الغرب ومن وافقهم، أردنا أن نشرح هذه المسألة بشیئ من التفصیل، والله الموفق والمعین.

إن مسألة قتل المرتد کلمة إجماع فیما بین المسلمین من لدن عصر الصحابة إلی یومنا هذا، وقد أطبقت الفقهاء علی أن الارتداد في دار الإسلام جریمة من الجرائم عقوبتها القتل، ولانعلم لذلك مخالفا من فقهاء الأمة وعلمائها، حتی جاء القرن الرابع عشر، فطعن أهل الغرب في هذا الحکم بأنه مضاد لمبدأ حریة التفکیر وحریة الاعتقاد……..…..الخ

الأحادیث الدالة علی قتل المرتد:

1- أخرج البخارى فى كتاب استتابة المرتدين ، باب حكم المرتد (رقم 6922 ) من طريق عكرمة ، عن ابن عباس مرفوعا: "من بدَّل دينَه فاقتلوه."

2- أخرج مالك في الأقضية من موطأه عن زيد بن أسلم مرسلا : أن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال : "من غيَّر دينه فاضربوا عنقه."

3- عن أبي موسى الأشعرى رضي الله عنه قال : "قدم على معاذ ، وأنا باليمن ، ورجل كان يهوديا فأسلم ، ثم ارتد عن الإسلام ، فلما قدم معاذ قال: لا أنزل عن دابتي حتى يقتل . قال : كان قد استتيب قبل ذلك". هذا لفظ أبي داود.

وفى رواية البخارى فى استتابة المرتدين ، ورواية المصنف فى كتاب الامارة: " فلما قدم عليه" (یعنی : قدم معاذ على أبي موسى ) "قال : انزل ، وألقى له وسادة، وإذا رجل عنده موثق ، قال : ما هذا ؟ قال : هذا كان يهوديا ، فأسلم ، ثم راجع دينه دين السوء، فتهود ، قال : لا أجلس حتى يقتل ، قضاء الله ورسوله ، فقال : اجلس،  نعم. قال: لا أجلس حتى يقتل ، قضاء الله ورسوله ، ثلاث مرات ، فأمر به فقتل."

4- عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: "لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأنى رسول الله إلا بإحدى ثلاث : الثيب الزاني ، والنفس بالنفس ، والتارك لدينه المفارق للجماعة". أخرجه الجماعة، وسیأتي عند المصنف في باب ما یباح به دم المسلم.

5- عن أبي أمامة ابن سهل بن حنيف، عن عثمان بن عفان، أشرف يوم الدار ، فقال :  "أنشدكم بالله ، أتعلمون أن رسول الله قال: لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث: زنا بعد إحصان ، أو كفر بعد إسلام، أو قتل نفس بغير حق، فيقتل به ، فوالله ما زنيت في جاهلية ولا إسلام ، ولا ارتددت منذ بايعت رسول الله، ولا قتلت النفس التي حرم الله". أخرجه الترمذى فى الفتن ، باب ما جاء لا يحل دم امرئ إلا بإحدى ثلاث ، رقم 2159 ، والنسائى فى تحريم الدم، باب ذكر ما يحل به دم المسلم ؛ وأبو داود في الديات، باب الإمام يأمر بالعفو فى الدم ، رقم 4502، وإسناده صحيح.

6- عن جرير رضي الله عنه، قال : سمعت النبي صلی الله علیه وسلم يقول : " إذا أبق العبد إلى الشرك فقد حل دمه ".  أخرجه أبو داود في كتاب الحدود، باب الحكم فيمن ارتد ، رقم 4360، وسكت عليه هو والمنذري في تلخيصه.

7- عن معاوية بن حيدة رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم : "من بدل دينه فاقتلوه". رواه الطبرانى، ورجاله ثقات، كما صرح به الهيثمي في مجمع الزوائد (6/261).

8-  عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال : " من بدل دينه فاقتلوه." رواه الطبرانى فى الأوسط، وإسناده حسن ، كما في مجمع الزوائد (6/261).

9- عن عصمة ، قال : قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: " من بدل دينه فاقتلوه ". رواه الطبرانى ، وفيه الفضل بن المختار ، وهو ضعيف كما في مجمع الزوائد ، غير أنه مؤيد بما ذكرنا من الأحاديث.

10- عن عبد الرحمن بن ثوبان أن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال في خطبته : " إن هذه القرية ، يعنى المدينة ، لا يصلح فيها قبلتان ، فأيما نصر انى أسلم ، ثم تنصر ، فاضربوا عنقه." قال الهيثمي: رواه الطبرانى، وفيه من لم أعرفه، ولكن مفهومه معتضد بما ذكرنا من الأحاديث.

11- عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: "كان عبد الله بن سعد بن أبى السرح يكتب لرسول الله صلی الله علیه وسلم، فأزله الشيطان ، فلحق بالكفار، فأمر به رسول الله صلی الله علیه وسلم أن يقتل يوم الفتح، فاستجار له عثمان بن عفان، فأجاره رسول الله صلی الله علیه وسلم. أخرجه أبو داود ، رقم: 4358 ، وقال المنذري في تلخيصه : في إسناده على بن الحسين بن واقد ، وفيه مقال ، وقد تابعه عليه على بن الحسين بن شقيق ، وهو من الثقات.

و كان سبب استجارته أنه تاب من ردته ورجع إلى الإسلام ، كما هو مصرح في ما أخرجه أبو داود نفسه عن سعد ، قال : "لما كان یوم فتح مكة اختبأ عبد الله بن سعد بن أبي سرح عند عثمان بن عفان، فجاء به ، حتى أوقفه على النبي صلی الله علیه وسلم، فقال : يا رسول الله ! بايع عبد الله ، فرفع رأسه، فنظر إليه ثلاثا، كل ذلك يأبى ، فبايعه بعد ثلاث ، ثم أقبل علی أصحابه، فقال:  أما كان فيكم رجل رشيد يقوم إلى هذا حين رآني كففت يدى عن بيعته ، فيقتله ، فقالوا :

ماندری یا رسول الله! ما فى نفسك، ألا أو مأت إلينا بعينك ؟ قال: إنه لا ينبغي لنبي أن تكون له خائنة الأعين » . قال المنذرى : « وفي إسناده إسماعيل بن عبد الرحمن السدى ، وقد أخرج له مسلم ، ووثقه الإمام أحمد ، وتكلم فيه غير واحد ، كذا في تلخيص أبي داود للمنذرى: 6: 198 رقم: 4193 .

12- عن حارثة بن مضرب رضي الله عنه: " أنه أتى عبد الله - يعنى ابن مسعود - بالكوفة ، فقال : ما بيني وبين أحد من العرب حنة ، وإنى مررت بمسجد لبنى حنيفة، فإذا هم يؤمنون بمسيلمة، فأرسل إليهم عبد الله، فجيء بهم، فاستتابهم غير ابن النواحة، قال له: سمعت رسول الله صلی الله علیه وسلم يقول لك: لولا أنك رسول لضربت عنقك، فأنت اليوم لست برسول، فأمر قرظة بن كعب - وكان أميرا على الكوفة - فضرب عنقه في السوق،  ثم قال: من أراد أن ينظر إلى ابن النواحة ، فلينظر إليه قتيلاً بالسوق." أخرجه أبو داود في الجهاد ، باب في الرسل ، رقم 2762 ، وإسناده حسن، قد سكت عليه أبو داود والمنذرى ، وأخرجه النسائى أيضا.

13- عن عكرمة رضي الله عنه ، قال: " أتى على رضي الله عنه بزنادقة ، فأحرقهم، فبلغ ذلك ابن عباس، فقال: لو كنت أنا لم أحرقهم لنهى رسول الله صلی الله علیه وسلم، قال : لا تعذبوا بعذاب الله ، و لقتلتهم  لقول رسول الله صلی الله علیه وسلم: "من بدل دينه فاقتلوه". أخرجه البخاري في استتابة المرتدين ، باب حكم المرتد والمرتدة، وفي الجهاد ، باب لا يعذب بعذاب الله، وأخرجه الترمذي في الحدود، باب ما جاء في المرتد، رقم :1458 ، وأبو داود في الحدود، باب الحكم فيمن ارتد ، رقم :4351 ، والنسائى فى تحريم الدم ، باب الحكم في المرتد ، وأحمد في مسنده: 1 : 282.

14- عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال: " إن رسول الله صلی الله علیه وسلم دخل عام الفتح وعلى رأسه المغفر ، فلما نزعه جاء رجل  فقال: إن ابن خطل متعلق بأستار الكعبة، فقال: اقتلوه." أخرجه الشيخان وغيرهما، وهذا لفظ البخارى فى جزاء الصيد، رقم :1846 .

وكان سبب قتله ما ذكره ابن إسحاق ، قال: "و عبد الله بن خطل رجل من بني تميم بن غالب، وإنما أمر بقتله؛ لأنه كان مسلما، فبعثه رسول الله مصدقا، وبعث معه رجلا من الأنصار، وكان معه مولى يخدمه، وكان مسلما، فنزل منزلا، وأمر المولى أن يذبح له تيسا، فيصنع له طعاما، فنام، فاستيقظ ولم يصنع له شيئا، فعدا عليه، فقتله، ثم ارتد مشركا، وكانت له قينتان: فرتني وصاحبتها، وكانتا تغنيان بهجاء رسول الله صلی الله علیه وسلم، فأمر رسول الله صلی الله علیه وسلم بقتلهما معه."، كذا فى سيرة ابن هشام، مع الروض الأنف للسهيلي 2: 273 .

ولا يمكن أن يكون قتل ابن خطل قصاصا لمن قتله؛ لما ذكره ابن تيمية رحمه الله في الصارم المسلول ( ص: 136 ) أن المقتول كان من خزاعة، وله أولياء:  "فكان حكمه لو قتل قوداً أن يسلم إلى أولياء المقتول، فإما أن يقتلوا ، أو يعفوا ، أو يأخذوا الدية" ، ثم ذکر ابن تيمية رحمه الله

أنه لم يقتل لمجرد الردة، لأن المرتد يستتاب، وإنما قتل لأجل سب النبي صلی الله علیه وسلم وهجائه ، ولكن اعترض عليه الحافظ في فتح البارى 4 : 62 بأن ابن خطل كان حربيا، ( وحد سب النبي صلی الله علیه وسلم إنما يقام على مسلم أو ذمى) ، فتعين أن يكون قتله من أجل ارتداده، وأما عدم استتابته ، فإن وجوب استتابة المرتد مختلف فيه، والظاهر عندى أن استتابة المرتد، وإن كان واجبا ، ولكن إذا انضم إليه سب ا النبي صلی الله علیه وسلم و هجاءه سقط هذا الوجوب ، فمن أجل ذلك لم ينظر ابن خطل، ولا استتيب قبل قتله ، ولذلك يقول ابن تيمية رحمه الله في الصارم المسلول ( ص:136 ) : "وصوابه أنه كان مرتدا بلا خلاف بين أهل العلم بالسير، وحتم قتله بدون استتابة مع كونه مستسلما منقادا قد ألقى السلم كالأسير ، فعلم أن من ارتد وسب يقتل بلا استتابة ، بخلاف من ارتد فقط ».

15- عن عمرو بن شعيب ، عن أبيه عن جده قال : " كتب عمرو بن العاص إلى عمر يسأله عن رجل أسلم، ثم كفر ، ثم أسلم ، ثم كفر ، فعل ذلك مرارا أيقبل منه الإسلام ؟ فكتب إليه عمر : "اقبل منهم ما قبل الله منهم ، اعرض عليه الإسلام ، فإن قبل وإلا اضرب عنقه."،  أخرجه مسدد ، كذا فى المطالب العالية 2 : 112 رقم:1801.

16- عن قابوس بن المخارق ، عن أبيه ، قال : " كتب محمد بن بكر إلى على بن أبى طالب يسأله عن مسلمين تزندقا ، وعن مسلم زنى بنصرانية ، وعن مكاتب مات وترك بقية من كتابته وترك ولدا أحراراً ، فكتب إليه على : أما اللذان تزندقا ، فإن تابا ، وإلا اضرب أعناقهما الخ ".

 أخرجه ابن حزم فى المحلى 11 : 158 من طريق عبد الرزاق ، عن الثوري، عن سماك بن حرب ، عن قابوس، وأعله ابن حزم بسماك ، وزعم أن قابوس بن المخارق مجهول ، ولكن كليهما من رجال مسلم ، وراجع التهذيب 4 : 340 و 7 : 306 ، فالحديث صحيح على شرط مسلم، كما صرح به شيخنا في إعلاء السنن 11 : 554.

17- عن أبي عبد الرحمن السلمي ، عن على ، قال: شرب نفر من أهل الشام الخمر، وعليهم يومئذ يزيد بن أبي سفيان، وقالوا: هى حلال، وتأولوا : ( ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا ) سورة المائدة، الآية: 193، فكتب عمر : أن ابعث بهم إلي قبل أن يفسدوا من قبلك، فلما قدموا على عمر، استشار فيهم الناس ، فقالوا : يا أمير المومنين ! نرى أنهم قد كذبوا على الله وشرعوا في دينهم ما لم يأذن به الله، فاضرب أعناقهم، وعلي ساكت، فقال : ما تقول يا أبا الحسن فيهم ؟ قال : أرى أن تستتيبهم، فإن تابوا ضربتهم ثمانين ثمانين لشربهم الخمر، وإن لم يتوبوا ضربت أعناقهم، فإنهم كذبوا على الله، و شرعوا في دينهم ما لم يأذن به الله، فاستتابهم، فتابوا، فضر بهم ثمانين ثمانين. " أخرجه الطحاوى في شرح معانى الآثار 2 : 76،  باب حد الخمر.

الأصل للشيباني ط قطر (7/ 492):

باب الأحكام في الارتداد عن الإسلام:

قلت: أرأيت الرجل المسلم إذا ارتد عن الإسلام، كيف الحكم فيه؟ قال: يعرض عليه الإسلام، فإن أسلم وإلا قتل مكانه، إلا أن يطلب أن يؤجل، فيؤجله ثلاثة أيام.

قلت: فهل بلغك في هذا أثر؟ قال: نعم، بلغنا عن النبي - صلى الله عليه وسلم - في قتل المرتد نحو من هذا، وبلغنا عن علي بن أبي طالب وعبد الله بن مسعود ومعاذ بن جبل نحو من هذا. وهذا الحكم والسنة.

الأصل للشيباني ط قطر (7/ 497):

باب المرأة ترتد عن الإسلام:

قلت: أرأيت المرأة ترتد عن الإسلام كيف الحكم فيها؟ قال أبو حنيفة: لا تقتل، ولكنها تحبس أبداً حتى تسلم. قلت: ولا تقتل المرأة؟ قال: لا. قلت: لمَ؟ قال: بلغنا عن عبد الله بن عباس أنه قال: إذا ارتدت المرأة عن الإسلام حبست ولم تقتل. وبلغنا عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه نهى عن قتل نساء المشركين في الحرب. فدرأنا  عنها بهذا.

المبسوط للسرخسي (10/ 167):

باب المرتدين: قال رضي الله عنه وإذا ارتد المسلم عرض عليه الإسلام، فإن أسلم، وإلا قتل مكانه إلا أن يطلب أن يؤجل، فإذا طلب ذلك أجل ثلاثة أيام، والأصل في وجوب قتل المرتدين قوله تعالى {أو يسلمون} [الفتح: 16] قيل: الآية في المرتدين، وقال صلى الله عليه وسلم "من بدل دينه فاقتلوه"، وقتل المرتد على ردته مروى عن علي وابن مسعود ومعاذ وغيرهم من الصحابة رضي الله عنهم، وهذا لأن المرتد بمنزلة مشركي العرب أو أغلظ منهم جناية، فإنهم قرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم والقرآن نزل بلغتهم ولم يراعوا حق ذلك حين أشركوا، وهذا المرتد كان من أهل دين رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد عرف محاسن شريعته ثم لم يراع ذلك حين ارتد، فكما لا يقبل من مشركي العرب إلا السيف أو الإسلام، فكذلك من المرتدين، إلا أنه إذا طلب التأجيل أجل ثلاثة أيام؛ لأن الظاهر أنه دخل عليه شبهة ارتد لأجلها، فعلينا إزالة تلك الشبهة، أو هو يحتاج إلى التفكر ليتبين له الحق، فلا يكون ذلك إلا بمهلة، فإن استمهل كان على الإمام أن يمهله، ومدة النظر مقدرة بثلاثة أيام في الشرع، كما في الخيار، فلهذا يمهله ثلاثة أيام، لا يزيده على ذلك، وإن لم يطلب التأجيل يقتل من ساعته في ظاهر الرواية، وفي النوادر عن أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى أنه يستحب للإمام أن يؤجله ثلاثة أيام طلب ذلك أو لم يطلب.

بدائع الصنائع (7/ 134):

وأما حكم الردة فنقول وبالله تعالى التوفيق: إن للردة أحكاما كثيرة، بعضها يرجع إلى نفس المرتد، وبعضها يرجع إلى ملكه، وبعضها يرجع إلى تصرفاته، وبعضها يرجع إلى ولده.

 أما الذي يرجع إلى نفسه فأنواع: منها إباحة دمه إذا كان رجلا حرا كان أو عبدا لسقوط عصمته بالردة، قال النبي صلی الله علیه وسلم: "من بدل دينه فاقتلوه"، وكذا العرب لما ارتدت بعد وفاة رسول الله أجمعت الصحابة رضي الله عنهم على قتلهم. …. وأما المرأة فلا يباح دمها إذا ارتدت ولا تقتل عندنا، ولكنها تجبر على الإسلام، وإجبارها على الإسلام أن تحبس وتخرج في كل يوم، فتستتاب، ويعرض عليها الإسلام، فإن أسلمت، وإلا حبست ثانيا، هكذا إلى أن تسلم أو تموت.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

      23/جمادی الآخرۃ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب