03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مروجہ حیلۂ اسقاط کاحکم
86057سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہمارے محلے میں میت پر جنازہ پڑھنے کے بعد دفن کرنے سے پہلے امام صاحب اور محلے کے لوگ ایک دائرہ بناتے ہیں، اور میت کاکوئی وارث (بیٹاوغیرہ) کچھ پیسے امام صاحب کے ہاتھ میں دیتا ہے۔ پھر امام صاحب ان پیسوں کو دائرے میں گھماتا ہے، اور دائرے میں جو لوگ بیٹھے ہوتے ہیں وہ یہ پیسے لے کر کہتے ہیں، "آپ کو بخش دیا ہے"، پھر وہ دوسرے کو دے کر یہی جملہ دہراتا ہے۔ اس طرح یہ عمل پورے دائرے میں کیا جاتا ہے، اور پیسوں کو پانچ مرتبہ دائرے میں گھمایا جاتا ہے۔گھمانے کے بعد ان پیسوں میں سے صدقہ فطر کی مقدار نکالی جاتی ہے، اور یہ دائرے میں موجود لوگوں اور قبرستان یا جنازہ گاہ میں موجود دیگر افراد میں تقسیم کی جاتی ہے۔ ان پیسوں کو وہ لوگ "اسقاط" یا" سخات" کہتے ہیں۔

میں نے اس صورتِ حال کے بارے میں امام صاحب سے سوال کیا کہ یہ کہاں سے ثابت ہے؟ امام صاحب نے جواب دیا کہ یہ تابعین سے ثابت ہے، اور پہلے علماء بھی اس کے قائل تھے اور اب بھی ہیں، اور افغانستان کے علماء بھی اس کے قائل ہیں۔پھر میں نے ان پیسوں کو پانچ مرتبہ گھمانے کی وجہ پوچھی تو امام صاحب نے کہا کہ یہ میت کی پانچ چیزیں بخشوانے کے لیے کیا جاتا ہے:١۔نماز ۲۔روز۳۔قسمیں،۴۔کفارہ۵۔اورنذر

اب پوچھنایہ ہےکہ

١۔کیا اس طرح کرنا ثابت ہے؟

۲۔ یہ جو اسقاط کے پیسے ہیں، ان کو کیا کیا جائے؟

۳۔ ان پیسوں کو لینے کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ذکرکردہ مروّجہ حیلہ اسقاط بہت سارے شرعی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے نا جائز اور بدعت ہے، مثلا:

١۔مروّجہ حیلہ میں بعض دفعہ قرآن مجید کو فدیہ کا جزء بنایا جاتا ہے، حالاں کہ قرآن وحدیث اور فقہاء کرام کی عبارات میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں۔

۲۔حیلہ اسقاط میں حسب تصریح فقہاء قضاء نمازوں اور روزوں کا حساب ضروری ہے، تا کہ فعل دور اسی قدر کیا جائے، جب کہ عوام کے اسقاط میں یا تو دور ہوتا ہی نہیں اور یا صرف تین دفعہ ہوتا ہے، جس سے فدیہ کی صحیح مقدار پوری نہیں ہوتی۔

۳۔حیلہ اسقاط صرف ان اموات کے لیے جائز ہے، جن کا مال بالکل نہ ہو، یا ثلث مال سے وہ فدیہ پورا نہ ہوسکتا ہو، جب کہ عوام کے اسقاط میں غنی اور فقیر سب برابر ہیں۔

۴۔ثلث مال سے فدیہ ادا ہوسکتا ہو تو وصیت نہ کرنے کی صورت میں ورثاء میں سے بعض غائب یا نا بالغ ہوں تو ترکہ کے بعض مال کو اس حیلہ میں خرچ کرنا ورثاء کی بے جا حق تلفی ہے، جب کہ مروّجہ حیلہ میں ثلث مال سے فدیہ ادا ہوسکتا ہو یا نہیں، وصیت کی ہو یا نہیں، ورثاء ناراض ہوں یا راضی، بہر صورت زبردستی یہ حیلہ کیا جاتا ہے جو کہ سراسر شریعت کے خلاف ہے۔

۵۔لوگ اسقاط کو ایک رسم اور رواج سمجھ کر یا لوگوں میں بد نامی کے خوف سے کرتے ہیں، ثواب کی نیت بالکل نہیں ہوتی، تو عدمِ نیت کی صورت میں ثواب کہاں؟ بلکہ بعض مرتبہ لوگوں کو اصل مقصود کا علم ہی نہیں ہوتا کہ یہ حیلہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

٦۔ مالِ اسقاط کا مصرف فقراء ہیں، جب کہ مروّجہ حیلہ میں اصحابِ دائرہ اکثر مالدار ہوتے ہیں، جن کے لیے صدقات واجبہ کا لینا حرام ہے۔

۷۔ اس حیلہ کے لیے ایک خاص وقت مقرر کیا گیا ہے، حالاں کہ شریعت اس قسم کی قید کی اجازت نہیں دیتی۔

۸۔ اس میں فقراء کو صرف رسمی تملیک کروائی جاتی ہے، واقعی تملیک نہیں ہوتی جو کہ درست نہیں۔

۹۔ اس سے فسادِ عقیدہ بھی لازم آتا ہے کہ عوام گناہوں پر دلیر ہوجاتی ہے، اور نماز و روزے کی کوئی پرواہ نہیں کرتی۔

١۰۔ عوام اسے فرض وواجب سمجھتی ہے، حالاں کہ یہ حیلہ زیادہ سے زیادہ مباح ہوسکتا ہے، اور ایک مباح بلکہ مندوب فعل کو بھی ضروری سمجھنے سے اس کا ترک واجب ہوجاتا ہے۔

لہذابعض فقہاء نے جو حیلہ اپنے کتابوں میں لکھا ہے اس کی اجازت انہوں شرائط کے ساتھ دی تھی اور صرف ایسے شخص کے لیے دی تھی جس کے ترکہ سے اس کا فدیہ ادا نہ ہو رہا ہو، لیکن آج کل بعض علاقوں میں اسے معمول بنا دیا گیا ہے، اور جو آداب و شرائط اس حیلے کے لیے لازمی ہیں ان کی بھی رعایت نہیں رکھی جاتی۔ لہٰذا مروجہ حیلہ اسقاط ناجائز ہے۔

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی صاحبؒ فرماتے ہیں:

"الغرض اس حیلہ کی ابتدائی بنیاد ممکن ہے کہ کچھ صحیح اور قواعدِ شرعیہ کے مطابق ہو، لیکن جس طرح کا رواج اور التزام آج کل چل گیا ہے، وہ بلا شبہ ناجائز اور بہت سے مفاسد پر مشتمل، قابلِ ترک ہے۔

اب آپ کے سوالوں کے مختصر جوابات درج ذیل ہیں:

1۔ نہیں، اس طرح کا مروجہ حیلۂ اسقاط شرعی طور پر ثابت نہیں۔

2۔ یہ ورثاء کا حق ہے اور ترکہ میں شامل کیے جائیں۔ پھر جو وارث میت کا فدیہ ادا کرنا چاہے یا ان کی طرف سے صدقہ کرنا چاہے، تو وہ اپنے حصے سے کر سکتا ہے۔

3۔ ان پیسوں کو لینے سے گریز کیا جائے۔

حوالہ جات

وفی المختارمع شرحہ رد المحتار:

ولو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم.

)قوله ولو لم يترك مالا إلخ) أي أصلا أو كان ما أوصى به لا يفي. زاد في الإمداد: أو لم يوص بشيء وأراد الولي التبرع إلخ وأشار بالتبرع إلى أن ذلك ليس بواجب على الولي ونص عليه في تبيين المحارم فقال: لا يجب على الولي فعل الدور وإن أوصى به الميت لأنها وصية بالتبرع، والواجب على الميت أن يوصي بما يفي بما عليه إن لم يضق الثلث عنه، فإن أوصى بأقل وأمر بالدور وترك بقية الثلث للورثة أو تبرع به لغيرهم فقد أثم بترك ما وجب عليه. اه)كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:73، ط: ايچ ايم سعيد(

وفی مجموعة رسائل ابن عابدینؒ (1/225-210):

  الرسالة الثامنة: منة الجلیل لبیان إسقاط ما علی الذمة من کثیر و قلیل.أقول: بیان الإسقاط و الکفارة و الفدیة و کونه بوصیة من الشخص أولی من أن یفعله عنه  وارثه تبرعا، و هو یجری فی الصلاة، و الواجب فیها أن یعطی للفقیر عن کل فرض نصف  صاع من بر أو دقیقه أو سویقه أو صاع من تمر أو زبیب أو شعیر أو دقیقه إلی غیر ذلك مما ذکر فی باب الفطرة……….. والفروض فی کل یوم و لیلة ستة بزیادة الوتر علی الصلوات الخمس بناءً علی أنه فرض عملی عند الإمام الأعظم رحمه الله تعالی……. فیستقرض الولی قیمتها و یدفعها للفقیر، ثم یستوهبها منه و یتسلمها منه لتتم الهبة، ثم یدفعها لذلك الفقیر أو لفقیر آخر، و هکذا، فیسقط فی کل مرة کفارۃ سنة، و إن استقرض أکثر من ذلك یسقط بقدره، و بعد ذلك یعید الدور لکفارة الصیام، ثم للأضحیة، ثم للأیمان…… ( و المنصوص) علیه فی المذهب، و علیه العمل أن یجمع الوارث عشرة رجال لیس فیهم غنی و لا عبد و لا صبی و لا مجنون، ثم یحسب سن المیت فیطرح منه اثنتی عشرة سنة لمدة بلوغه إن کان المیت ذکرا أو تسع سنین إن کان أنثی، و إن لم یعلم سنة فیقدر عمر الشخص بغلبة الظن، فإن لم یوقف علیه قصد إلی الزیادة؛ لأن ذلك أحوط، ثم بعد التخمین علی عمره یسقط عنه ما ذکر من مدة الذکر و الأنثی، و یخرج الکفارة عن الباقی؛ لأن أدنی مدة یبلغ فیها الذکر اثنتا عشرة سنة والأنثی تسع سنین، هکذا ینبغی أن یفعل، و إن کان الشخص محافظا علی صلواته احتیا طا خشیة أن یکون وقع خلل و لم یشعر به. ( و مما تعارفه الناس) و نص علیه أهل المذهب أن الواجب إذا کثر أداروا صرة مشتملة علی نقود، أوغیرها کجواهر، أوحلی، أوساعة، وبنوا الأمر علی اعتبار القیمةو لإدارة الصرة طرایق، أحسنها أن یعطی الوصی الصرة إلی الفقیر علی أنها فدیة عن صلاة یقدرها و یقول له: خذ هذه الصرة عن فدیة صلاة سنة أو عشر سنین مثلا عن فلان بن فلان الفلانی، أو ملکتك هذه عن فدیة صلوات سنة عن فلان الخ، و یقبلها الفقیر و یقبضها و یعلم أنها صارت ملکا له، و یقول الفقیر هکذا: و أنا قبلتها و تملکتها منك، ثم یعطیها الفقیر إلی الوصیة بطریق الهبة و یقبضها الوصی، ثم یعطیها الوصی إلی الفقیر الآخر و یأخذها منه علی نحو ما ذکرنا، و هکذا یفعل الوصی حتی یستوعب الفقراء و یستوعب قدر ما علی المیت من الصلوات، ثم یفعل کذلك عن الصوم، و عن جمیع ما ذکرنا من الصیام و الأضحیة، ثم بعد تمام ذلك کله ینبغی أن یتصدق علی الفقراء بشیئ من ذلك المال أو بما أصی به المیتو المنصوص فی کلامهم متونا و شروحا و حواشی أن الذی یتولی ذلك إنما هو الولی، و أن المراد بالولی من له ولایة التصرف فی ماله بوصایة أو وراثة، و أن المیت لو لم یملك شیئًا یفعل له ذلك الوارث من ماله إن شاء، فإن لم یکن للوارث مال یستوهب من الغیر أو یستقرض لیدفعه للفقیر ثم یستوهبه من الفقیر، و هکذا إلی أن یتم المقصود……….. و یجب الاحتراز من أن یلاحظ الوصی عند دفع الصرة للفقیر الهزل أو الحیلة، بل یجب أن یدفعها عازما علی تملیکها منه حقیقةً لا تحیلًا، ملاحظا أن الفقیر إذا أبی عن هبتها إلی الوصی کان له ذلك و لا یجبر علی الهبةو یجب أن یحترز عن کسر خاطر الفقیر بعد ذلك بل یرضیه بما تطیب به نفسه کما قدمناه.    

وفي الا عتصام:

عن عائشة-رضي الله عنها-عن النبي –صلی الله عليهوسلم-قال:’’من أحدث في أمرنا هذا مالیس منه فهو ردٌ‘‘.....عن إبن مسعود -رضي الله عنه-أن رسول الله–صلی الله عليه وسلم-قال:’’إیاكم ومحدثات الأمور،فإن شر الأمورمحدثاتها،وإن کل محدثة بدعة وإن کل بدعة ضلالة‘‘.(باب:في ذم البدع وسوء منقلب أصحابها، ص:51،52،    ط:دار المعرفة)

مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (3/ 301)

قال الطيبي: في الحديث أن من أصر على أمر مندوب وجعله عزماً ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

26/6/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب