| 86064 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی، والد کی وفات کے بعد ان کی جائیداد سے میرے چچا اور پھوپھی ،بھائی،بہن ہونے کے ناطے، ہم سے شریعت کے مطابق حصہ مانگنے لگے، لہذامیرے چچا اور پھوپھی شریعت کے حساب سے ہمارے والد کے حصے سے کٹوتی کر کے باقی جو ہمارے حصے میں آتا تھا وہ بھیجتے تھے۔ لیکن اب میرے بڑے چچا کی وفات ہو گئی ہے، تو کیا اب چچا کے بچوں یعنی ان کے بیٹے میرے والد کے حصے سے ویسے ہی پیسے اٹھا سکتے ہیں جیسے میرے چچا اپنی زندگی میں اٹھاتے تھے اپنے لیے؟
نوٹ:یہ جائیداد دادا کی ہے،دادا کےانتقال کے وقت ورثہ میں یہ افراد تھے:۔
دادی(دادا کی اہلیہ) تین بیٹے تین بیٹیاں۔
ان کے والد جب فوت ہوئے تو ان کے ورثہ میں درج ذیل افراد موجود ہیں:۔
اہلیہ دوبیٹیاں دوبھائی تین بہنیں
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔یہ جائیداد دادا کی ہے ،اور ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہے،لہذاسب سے پہلے ان کے ورثہ کے حصے متعین کیے جائیں گے،تاکہ آپ کے والد کا حصہ واضح ہوجائے۔
دادا کی کل جائیداد اور مال میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر دادا پر کسی کاقرض ہوتو وہ اداکیاجائے،اس کے بعد اگر کسی کےلیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی مال کی حد تک وہ اداکی جائے ،اس کے بعد ان کا بقیہ مال ان کے ورثہ میں اس طریقے سے تقسیم کیاجائے۔
میراث کے 72 حصے بنائے جائیں،جن میں سے 9 حصے اہلیہ(آپ کی دادی) کو ملیں گے،14 حصے ہر بیٹے اور7 حصے ہر بیٹی کو دیے جائیں گے۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
بیوی |
9 |
12.5 |
2 |
بیٹا |
14 |
19.444 |
3 |
بیٹا |
14 |
19.444 |
4 |
بیٹا |
14 |
19.444 |
5 |
بیٹی |
7 |
9.722 |
6 |
بیٹی |
7 |
9.722 |
7 |
بیٹی |
7 |
9.722 |
دادا کے انتقال کے بعد جب تک دادی حیات تھی،اس وقت تک آپ کے والد کا حصہ اس جائیداد میں اس قدر تھا جو اوپر نقشے میں موجود ہے(یعنی 19.444فیصد)۔پھر دادی کے انتقال کے بعد ان کاحصہ بھی ان کے تین بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم ہوگا،ہر بیٹے کو دوحصے اور بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔اس طرح اس جائیداد میں ہر بیٹے کا حصہ(22.222) فیصد اور ہر بیٹی کا حصہ (11.111) فیصد بن جائے گا۔
2۔آپ کے والد کے انتقال کے بعد ان کی جائیداد میں حصہ (22.222فیصد،جو دادی کے انتقال کے بعد بن گیاتھا)اسی طرح تقسیم ہوگا،جیساکہ اوپر داد کی جائیداد تقسیم ہوئی ہے،لہذا ان کی کل جائیداد اور مال میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر والد پر کسی کاقرض ہوتو وہ اداکیاجائے،اس کے بعد اگر کسی کےلیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی مال کی حد تک وہ اداکی جائے ،اس کے بعد ان کا بقیہ مال ان کے ورثہ میں اس طریقے سے تقسیم کیاجائے۔
میراث کے 168 حصے بنائے جائیں،جن میں سے 21 حصے اہلیہ(آپ کی والدہ) کو ملیں گے،56 حصے ہر بیٹی،10 حصے ہربھائی کو اور 5 حصے ہربہن کو دیے جائیں گے۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
بیوی |
21 |
12.5 |
2 |
بیٹی |
56 |
33.333 |
3 |
بیٹی |
56 |
33.333 |
4 |
بھائی |
10 |
5.952 |
5 |
بھائی |
10 |
5.952 |
6 |
بہن |
5 |
2.976 |
7 |
بہن |
5 |
2.976 |
8 |
بہن |
5 |
2.976 |
اس جائیداد میں آپ کے والد کا جو حصہ(دادی کے انتقال سے پہلے19.444فیصد اور ان کے انتقال کے بعد22.222فیصد) تھا،ان کے انتقال کے بعداس حصے میں سے آپ کی فیملی (والدہ،آپ دوبہنوں)کو79.166فیصد حصہ ملے گا،جیساکہ اوپر نقشے میں موجود ہے،بقیہ20.833فیصد حصہ چچا اور پھوپھیوں میں تقسیم ہوگا۔ہرچچا کا حصہ 5.952فیصد اور ہر پھوپھی کاحصہ2.976فیصد ہے۔
3۔ایک چچا کے انتقال کے بعد ان کاحصہ(5.952)ان کے گھر والے وصول کریں گے۔جن میں ان کے بچے بھی شامل ہیں،یعنی وہ آپ کے والد کے حصے میں سے اس مقدار میں حصہ رکھ سکتے ہیں۔۔۔
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
24/ جمادی الثانیہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


