| 85889 | خرید و فروخت کے احکام | سلم اور آرڈر پر بنوانے کے مسائل |
سوال
پاکستان میں موجود سافٹ وئیر بنانے والی ایک کمپنی (فریقِ اول) نے کسی دوسرے ملک میں موجود کمپنی(فریقِ ثانی) کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ،جس میں دو کمپنیوں کے درمیان یہ بات طے ہوئی کہ فریق ثانی نے بیرون ملک سے IT سے متعلق پروجیکٹ تلاش کر کے حاصل کرنا ہے ،اور پروجیکٹ لینے کی تمام ذمہ داریاں اور اخراجات بھی فریقِ ثانی کے ہونگے،جبکہ فریقِ اول نے اس پروجیکٹ پر کام کرنا ہے اور پروجیکٹ شروع کرنے سے مکمل ہونے اور کلائنٹ کو ڈلیور کرنے تک تمام ذمہ داری فریق اول کی ہو ں گی ، یعنی پروجیکٹ پر کام کرنیوالے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی ، پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد پروجیکٹ میں آنے والی خرابی کی اصلاح ،اسی طرح جرمانہ وغیرہ کی تمام مالی ذمہ داریاں فریق اول پر ہونگی،اور معاہدہ میں یہ بات طے کی گئی ہے کہ کلائنٹ فریق ثانی(پروجیکٹ لانے والی کمپنی ) ہی کی ملکیت رہے گا،فریق اول(پروجیکٹ پر کام کرنے والی کمپنی )کا کلائنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا،اسی طرح پروجیکٹ پر کام کرنے والے انجینئرز کے ساتھ فریق ِ ثانی کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔نیز یہ کہ اگر فریقین میں سے کوئی بھی یہ ایگریمنٹ ختم کرنا چاہے تو دو مہینے پہلے نوٹس دے کر ختم کر سکتا ہے،تاہم اگریمنٹ ختم کرنے کی صورت میں پہلے سے لیا ہوا کام مکمل کرنا ضروری ہو گا۔ کیاایسا عقد کرنا شریعت کی نظر میں جائز ہے؟ صورت ِ مسئولہ میں دو کمپنیوں کا باہمی ہونے والا معاہدہ شرعی اعتبار سے کون سا عقد ہے۔عقدِ اجارہ ، عقدِمضاربت،یاعقدِ شرکت؟ اگر شرکت ہے تو شرکت کی کونسی قسم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ معاہدہ متوازی استصناع (Parallel Istisna)کی صورت ہے، اس میں دو الگ الگ معاہدے ہوں گے۔
پہلا معاہدہ: فریقِ ثانی اور کلائنٹ کے درمیان، جس میں فریقِ ثانی پروجیکٹ کی فراہمی کا ذمہ دار ہوگا۔
دوسرا معاہدہ: فریقِ ثانی اور فریقِ اول کے درمیان، جس میں فریقِ اول پروجیکٹ کی تیاری اور تکمیل کا ذمہ دار ہوگا۔ ان دونوں معاہدوں میں ہر فریق کی ذمہ داریاں اور حقوق واضح طور پر متعین ہوں گے، اور ہر معاہدہ دوسرے سے آزاد اور خودمختار ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں فریقین کے درمیان ہونے والا معاہدہ شرعاً درست اور جائز ہے۔
حوالہ جات
الموسوعة الفقهية الكويتية (3/ 325):
الاستصناع في اللغة: مصدر استصنع الشيء: أي دعا إلى صنعه، ويقال: اصطنع فلان بابا: إذا سأل رجلا أن يصنع له بابا، كما يقال: اكتتب أي أمر أن يكتب له.وفي الاصطلاح هو على ما عرفه بعض الحنفية: عقد على مبيع في الذمة شرط فيه العمل. فإذا قال شخص لآخر من أهل الصنائع: اصنع لي الشيء الفلاني بكذا درهما، وقبل الصانع ذلك، انعقد استصناعا عند الحنفية .
الموسوعة الفقهية الكويتية (1/ 254):
الاستصناع:
8 - تفترق الإجارة (في الأجير المشترك) عن عقد الاستصناع (الذي هو بيع عين شرط فيها العمل) في أن الإجارة تكون العين فيها من المستأجر والعمل من الأجير، أما الاستصناع فالعين والعمل كلاهما من الصانع (الأجير).
المعاییر الشرعیہ ص 306:
الاستصناع الموازي
١/٧ يجوز أن تبرم المؤسسة بصفتها مستصنعًا عقد استصناع مع الصانع للحصول على مصنوعات منضبطة بالوصف المزيل للجهالة وتدفع ثمنها نقدًا عند توقيع العقد، وتبيع لطرف آخر بعقد استصناع مواز مصنوعات تلتزم بصنعها بنفس مواصفات ما اشترته، وإلى أجل بعد أجل الاستصناع الأول وهذا بشرط عدم الربط بين العقدين.
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27 /جمادی الثانیہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


