| 86082 | نکاح کا بیان | نسب کے ثبوت کا بیان |
سوال
دو بھائی ہیں: محمد شکیل شہزاد اور عدیل شہزاد۔ عدیل صاحب کے ہاں اولاد نہیں ہوئی، جبکہ محمد شکیل شہزاد کو اللہ نے تین بچوں سے نوازا ہے۔ محمد شکیل شہزاد نے اپنا ایک نومولود بچہ عدیل شہزاد صاحب کے حوالے کر دیا تھا، اور وہ بچہ دس سال سے ان کے پاس رہ رہا ہے۔ کچھ مسائل کے باعث عدیل شہزاد صاحب کی زوجہ تقریباً ڈیڑھ سال سے ان سے علیحدگی اختیار کر کے جاچکی ہیں، اور بچے کی پرورش اب ان کی ضعیف والدہ کر رہی ہیں، جس کے سبب بچے کی صحیح تعلیم و تربیت ممکن نہیں ہو پارہی۔ پہلے بھی بارہا والدہ بھائی اور بھابھی سے کہا گیا تھا کہ بچے کی تعلیم و تربیت درست طریقے سے نہیں کی جارہی، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اب محمد شکیل شہزاد بچے کو واپس لینا چاہتے ہیں، تاکہ وہ اس کی بہتر دیکھ بھال کر سکیں، اور بچے کا مستقبل سنور سکے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا والد (محمد شکیل شہزاد) کو شرعی طور پر اپنا بچہ واپس لینے کا حق حاصل ہے؟ بچے کی واپسی کے لیے شرعا کیا صورت اختیار کیا جائے؟ جبکہ بچے کے سرکاری دستاویزات، برتھ سرٹیفکیٹ اور بے فارم چچا عدیل شہزاد صاحب نے اپنے نام کے ساتھ بنوائے ہیں، یعنی ولدیت کی جگہ اپنا نام درج کیا ہے، کیا یہ ان کے لیے جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی کو اپنا بچہ پالنے کے لیے بطورِ لے پالک دینا فی نفسہ جائز ہے، لیکن اس کی وجہ سے نسب، پرورش، اس کے نکاح کا اختیار اور میراث وغیرہ شرعی احکام تبدیل نہیں ہوتے۔ لے پالک بچے کا نسب اصل والدین سے ہی ثابت ہوتا ہے، اس کی پرورش کا حق، اس کے نکاح کا اختیار اور وراثت وغیرہ تمام شرعی احکام کا تعلق اس کے اصل ماں باپ سے ہوتا ہے، نہ کہ پالنے والے مرد اور عورت سے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر محمد شکیل شہزاد اپنا بیٹا عدیل شہزاد صاحب سے واپس لینا چاہتا ہے تو اس کو یہ حق حاصل ہے، عدیل شہزاد صاحب کے لیے جائز نہیں کہ وہ بچے کو اپنے والدین کے حوالہ کرنے سے انکار کرے۔
جہاں تک سرکاری دستاویزات کا تعلق ہے تو جیسے اوپر بیان ہوا کہ لے پالک کا نسب تبدیل نہیں ہوتا، اس لیے جہاں جہاں والد کا نام لکھنے یا بتانے کی ضرورت ہو، وہاں اصل والد کا نام بتانا ضروری ہوتا ہے، اس لیے عدیل شہزاد صاحب کا ولدیت کے خانے میں اپنا نام لکھنا جائز نہیں تھا، اس معاملے میں محمد شکیل شہزاد صاحب بھی قصور وار ہیں، ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے دستاویزات خود بناتے اور ان میں درست کوائف کا اندراج کراتے۔ اب ان دونوں پر لازم ہے کہ دستاویزات میں بچے کی ولدیت کی تصحیح کرائیں اور آئندہ ہر جگہ اصل والد کا نام ہی لکھیں اور لکھوائیں۔
حوالہ جات
القرآن الکریم، [الأحزاب]:
{وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4)} {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [ 5].
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27/جمادی الآخرۃ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


