| 86109 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے پاس 5 مرلے کا پلاٹ ہے ،جس پر میںH B F C لون کے ذریعے مکان تعمیر کرنا چاہتا ہوں۔HBFC والے کہہ رہے ہیں کہ ہم share بیس پر trade کرتے ہیں اور اپنی share انسٹالمنٹ پر کچھ precnt بیس ریکور کرتے ہیں 10 سالوں میں ۔اس طرح کا مکان لون پر جائز ہے یا نہیں؟
سائل کی طرف سے وضاحت : لون کی قسط پر لون کے علاوہ اضافی رقم بھی دینی ہوتی ہے 12 percent چارج کرتے ہیں اور یہ ریٹ kibore کے حساب سے chnge ہوتا رہتا ہے۔ قسط شارٹ ہونے کی صورت میں بھی2500 جرمانہ ڈالتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ بالا صورت میں HBFC (ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن) سے مکان تعمیر کرنے کے لیے لون لینا جائز نہیں ۔ کیونکہ قسطوں کی صورت میں اصل لیے گئے قرضے سے زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے ، جو کہ سود ہے،لہذا یہ معاملہ ناجائز اور حرام ہے۔ہماری معلومات کے مطابق اب تک HBFC نے شریعہ کمپلائنٹ پروڈکٹ جاری نہیں کی ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ تعالی: وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاً حرام.
وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: قوله: (كل قرض جر نفعاً حرام) أي إذا كان مشروطاً.
( رد المحتار: 5/ 166)
قال العلامۃ الزيلعي رحمہ اللہ تعالی: كل قرض جر منفعة لا يجوز مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا ؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا ، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه ، وإن كانت غير مشروطة فيه فاستقرض غلة فقضاه صحاحا من غير أن يشترط عليه جاز.( تبيين الحقائق: 629/)
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
/28 جمادی الثانیہ،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


