| 86079 | جائز و ناجائزامور کا بیان | لباس اور زیب و زینت کے مسائل |
سوال
اگر کوئی شخص الکحل ملا ہوا پرفیوم کپڑوں پر استعمال کرے اور انہی کپڑوں کے ساتھ نماز ادا کرے تو کیا اس کی نماز ادا ہو جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
انگور اور کھجور سے بنا ہوا الکحل نجس ہے اور اس کا استعمال حرام ہے۔ البتہ دیگر اشیاء سے تیار شدہ الکحل جب تک نشہ آور مقدار میں نہ ہو، نہ نجس ہے اور نہ حرام۔ عام طور پر پرفیوم میں استعمال ہونے والا الکحل انگور یا کھجور سے کشید نہیں کیا جاتا، اس لیے ایسے پرفیوم کا استعمال جائز ہے اور ان کا کپڑوں پر استعمال کپڑوں کو ناپاک نہیں کرتا۔ تاہم، اگر کسی خاص پرفیوم کے بارے میں یقین ہو جائے کہ اس میں انگور یا کھجور سے کشید کیا گیا الکحل شامل ہے، تو اس پرفیوم کا استعمال اور اس کے ساتھ نماز ادا کرنا جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
(تکملۃ فتح الملھم:3/608)
لما في تکملۃ فتح الملھم:أن معظم الکحول التي تستعمل الیوم في الادویۃ والعطور وغیرھا لاتتخذ من العنب أوالتمر... وحینئذ ھناك فسحۃ في الأخذ بقول أبي حنیفۃ عند عموم البلوی.
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
27 ٖ جماد الثانیہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


