| 86192 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم مفتی صاحب! ہمارے ادارے میں1-16 سکیل کی ایک یونین ہے جس کے تقریباً 1500 ملازم ہیں، یونین نے ایک عمرہ اسکیم بنائی ہے جس میں ماہانہ 500 یا 1000 روپے کٹوتی ہوتی ہے اور دو تین ماہ بعد بذریعہ قرعہ اندازی 10 سے 12 افراد کا نام نکلتا ہے، 500 والے کو ایک لاکھ اور 1000 والے کو دو لاکھ روپے دیے جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ:
1۔ کیا یہ اسکیم جائز ہے؟
2۔ اگر ایک ممبر گریڈ 17 میں چلا جائے تو اس کی ممبر شپ ختم ہو جاتی ہے اگر عمرہ کر لیا پھر بھی اور نہ کیا پھر بھی اور بقایاجات کچھ بھی نہ لیا جاتا ہے اور نہ دیا جاتاہے اس بارے کیا حکم ہے؟
3۔ اگر ممبر وفات پا جائے تو کیا حکم ہے؟
4۔ اگر کوئی سکیم ختم کرنا چاہے تو کچھ بھی نہیں ملتا،اس بارے میں کیا حکم ہے؟
5۔ اگر ایک ممبر عمرہ اسکیم کے تحت عمرہ کر لیتا ہے اور اگر وہ دس سال بعد ریٹائر ہو جاتا ہے تو وہ صرف 120,000روپے جمع کرواتا ہے، لیکن وہ 200,000روپے اسکیم کے تحت لیتا ہے،اس بارےمیں کیا حکم ہے ؟ برائے مہربانی اس بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ مذکور ہ تفصیل کے مطابق یہ اسکیم جوے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے،کیونکہ اس میں ہر شخص (ملازم ) پیسے اس لیے جمع کرتا ہے کہ اگرقرعہ اندازی میں اس کا نام نکل آئے تو اس کو زیادہ پیسے ملیں گے اور اگر نام نہ آیا تو اس کو کچھ نہیں ملے گا اور یہ صورت جوا کی ہے ۔
2۔اگر 17 گریڈ میں چلا جانے سے ممبر شپ ختم ہوجائے تو اس نے جتنے پیسے جمع کیے ہیں،اتنی رقم اس کو واپس کرنا لازم ہے ۔
3۔ممبر کے وفات ہونے کی صورت میں اس نے جتنی رقم جمع کر ائی تھی اتنی رقم اس کے ورثہ کو واپس کرنا لازم ہے۔
4۔اگر کوئی ختم کرنا چاہےتو اس اسکیم میں جتنے پیسے جمع کیے ہیں اتنے پیسے اس کو واپس کرنا شرعا لازم ہے۔
5۔اگر کوئی دس سال بعد ریٹائر ہونا چاہے تو اگر اس کا نام ایک مرتبہ قرعہ اندازی میں نکل آیا ہو جس کی وجہ سے اس کو 200,000 ملے مگر اس نے 120,000 جمع کیے ہیں اس صورت میں اس کو 80,000 جوے کی وجہ سے اور بغیر کسی عوض کے ملے ہیں ۔اس کو واپس کرنا لازمی ہے۔یہ اسکیم ناجائز ہے ، اس کے تحت ہر شریک نے جتنی رقم جمع کرائی ہے صرف اتنی ہی رقم لے سکتا ہے اس سے زائد لینا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال العلامة الحصكفي رحمه الله:( وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا.(الدرالمختار:6/403)
قال العلامة ابن عابدین رحمه الله:قوله( لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.(ردالمحتار :6/403)
محمد یونس بن امین اللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
4رجب المرجب، 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


