| 86224 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے دادا کے ترکے میں ایک رہائشی مکان اور ایک پلاٹ تھا ،ان کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں،ان کے بیٹے (میرے والد صاحب)نے اپنے والد (میرے دادا) کی وفات کے بعد اپنی بہنوں سے پوچھا کہ اگر وہ حصہ لینا چاہیں تو وہ ان کو حصہ دےدیں،مگر ان دونوں بہنوں نے کہا کہ انہیں حصہ نہیں چاہئے،اب میں نے دین کا علم حاصل کرنا شروع کیا ہے ،میرا یہ سوال ہے کہ کیادوبارہ ان دونوں بہنوں کو حصہ دینا چاہئے؟ باوجود اس کے کہ انہوں نے کہا کہ انہیں حصہ نہیں چاہئے، اوراب وہ مطالبہ بھی نہیں کر رہی ہیں ، ابھی میرے والد حیات ہیں اور مکان اور پلاٹ ان کے اختیار میں ہے۔ اس معاملے میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ میراث ایک ایسا حق ہے کہ وہ وصول کرنے سے پہلے معاف نہیں کیا جاسکتا ،لہذا میراث اور ترکہ میں جائیداد کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ سے بلا عوض دست بردار ہوجانا شرعاً معتبر نہیں ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں بہنوں نے صرف زبانی طور پر اپنا حصہ بھائی کے حق میں بغیر کسی عوض کےچھوڑ دیا ہےتو یہ دستبرداری شرعاً معتبر نہیں، اور بہنوں کاحق اب بھی ترکہ میں باقی ہے،ہاں اگر کوئی بہن دلی رضامندی کے ساتھ اپنا حق چھوڑنےپر ازخود راضی ہے تو یہ دو صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں :
(۱)انہیں ان کاحق الگ کر کے حوالے کیا جائے، پھروہ چاہے اپنا حصہ خود رکھ لیں یا اپنا حصہ لے کر اپنی صوابدید پر بھائی کو یاجسے چاہیں ہبہ کردیں۔
(۲)دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے حصے کے بدلے کچھ مال (خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو) پرصلح کرلیں اور ترکہ میں سے اپنے باقی حصہ سے دست بردار ہوجائیں،تو یہ بھی درست ہے۔
حوالہ جات
۔(مستفاد از تبویب:84054)
«تكملة حاشية ابن عابدين = قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتار ط الفكر» (8/ 208):
«ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه اهـ.»
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (6/ 474):
ومن صالح من الغرماء أو الورثة على شيء من التركة فاطرحه كأن لم يكن ثم اقسم الباقي على سهام الباقين مثاله زوج وأم وعم صالح عن نصيبه من التركة على ما في ذمته من المهر فاطرحه كأنها ماتت عن أم وعم فاقسم التركة بينهما للأم الثلثان، والباقي للعم كذا في الاختيار شرح المختار»
المبسوط للسرخسي (20/ 179):
لأن فيما سوى العقار للوصي ولاية البيع في تركة الموصي فكذلك له ولاية الصلح فأما في العقار فليس له ولاية البيع فيما صار للصغير من هذه التركة كما لم يكن للموصي ذلك في ملك الصبي ولايجوز صلحه فيه أيضا، وكذلك لو كانت الورثة كبارا وصغارا فصلح الوصي فيما سوى العقارجائز عليهم بشرط النظر كما لا يجوز بيعه فيه للحفظ عليه۔
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
5/رجب /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


