| 86711 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع تورغر کا ایک گاؤں" تلی "کے نام سے موسوم ہے،ایک عرصہ سے اس گاؤں (تلی) والوں میں نماز جمعہ کے مسئلے پر اختلاف پایا جا رہا ہے،گاؤں دوفریقوں میں بٹ چکا ہے،ایک فریق کے نزدیک گاؤں میں جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں،اس لیے وہ گاؤں تلی میں نماز جمعہ کے قائل نہیں،جبکہ دوسرے فریق کے ہاں تلی میں نماز جمعہ واجب ہے،یہ تنازع دن بہ دن بڑھتا جا رہا تھا اور دونوں فریق اپنے موقف کی تائیدمیں فتوی کی تلاش میں تھے،اس سلسلے میں جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء میں جب یکے بعد دیگرے دونوں فریق کی طرف سے استفتاء موصول ہوئے اور فریقین کے سوال کے انداز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ ہر ایک اپنے موقف کی تائید میں فتوی کا متمنی ہے، تو معاملے کی سنگینی کو بھانپ کر مفتیان بنوری ٹاؤن نے نگران دار الافتاء حضرت مفتی انعام الحق صاحب دامت بر کاتہم کی سربراہی میں معزز مفتیان کرام کی ایک ٹیم تشکیل دی،جو کئی بڑے بڑے مفتیان عظام پر مشتمل تھی اور وفدکوگاؤں تلی سیداں کی طرف روانہ کیا تاکہ حضرات مفتیان کرام خود مشاہدہ و معاینہ کر کے اور اہل علاقہ سے گفتگو کرنے کے بعد بصیرت کے ساتھ کوئی رائے قائم کر سکیں اور اہل علاقہ کایہ نزاع ختم ہوکر گاؤں میں امن و امان اور اتحاد کی فضاء قائم ہو۔ چنانچہ وفد وہاں پہنچا، چند دن تلی سیدان میں ٹھہرا رہا، اہل علاقہ سے کافی تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں،گاؤں میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم رکھنے پر زور دیا،اہل علاقہ نے بھی بھر پور ساتھ دیا، مفتیان کرام پر پورا اعتماد اور ان کے فیصلہ پر پورا اطمینان ظاہر کیا اور ان کی مدد سے اور گاؤں کے بااثر لوگوں کی معیت میں مفتیان کرام نےپورے گاؤں کا بالاستیعاب مشاہدہ کیا اور ہر چیز کا بھر پور جائزہ لینے کے بعد وفد میں موجودتمام کے تمام مفتیان کرام اس رائے پر متفق ہوئے کہ گاؤں تلی سیداں اور اس کے ساتھ متصل گاؤں گانگھٹ اور شو کانتی میں نماز جمعہ قائم کرنا درست نہیں اور دار الافتاء بنوری ٹاؤن سے گاؤں تلی سیداں میں نماز جمعہ کے عدم جواز کا فتوی جاری کیا گیا ۔ نیوٹاؤن کے فتوی کے بعد جو فریق تلی میں جمعہ قائم کرنے کا خواہاں تھا اس نے دار الافتاء جامعۃ الرشید کا رخ کیا اور استفتار کو کچھ اس انداز سے تحریر کیا جس کے مطابق انہیں اپنی مرضی کا فتوی مل گیا کہ تیلی میں نماز جمعہ درست ہے،دارالافتاء
جامعة الرشید سے جاری فتوی کا حوالہ نمبر یہ ہے :حوالہ نمبر : 22677/46
نیوٹاؤن کے فتوی کی کاپی ملصق کردی گئی ہے،عرض یہ ہے کہ معزز مفتیان کرام ان فتاوی اور صورتحال کے پیش نظر اس تنازعہ کو حل فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین رہے کہ مفتی عالم الغیب نہیں ہو تا ،اس کے سامنے سوال میں جو صورت بیان کی گئی ہوتی ہےیا مستفتی براہ راست جو صورتحال بیان کررہاہوتا ہے ، اس کے مطابق وہ جواب دیتاہے ،سوالنامہ میں درست صورت بیان کرنے کی تمام تر ذمہ داری سائل پر ہے ،لہذا اگر سوال حقیقت کے مطابق نہ ہو تو جواب خود بخود کا لعدم شمار ہوتا ہے۔
جمعہ کے جواز کے حوالے سے پہلا فتوی جو یہاں سے جاری ہوا وہ سوال میں موجودصورت کی بنیاد پر تھا،اب ایک معتبر ادارے کے اہل افتاء نے گاؤں جاکر حالات کی تحقیق کی ہے اور اس کے بعد فتوی جاری کیا ہے تو اسی پر سب کو عمل کرنا چاہیے،ہمارے ہاں سے بھی اکثر یہی مشورہ دیاجاتاہے کہ سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ علماء کو متعلقہ گاؤں یا شہر کا معاینہ کرایا جائے اور ان کی رائے پر عمل کیاجائے،لہذا ہمارا سابق فتوی جس سوال کے تناظر میں ہے،اب بھی برقرار ہے،لیکن جب علماء کی تحقیق کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ وہ موضع قابل اقامت جمعہ نہیں ،تو اس پر عمل کرنا لازم ہے۔دارالافتاء جامعة الرشید،جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے حضرات کی تحقیق اور فتوی کےبعد زیر بحث مسئلہ میں کوئی فتوی جاری کرنے کو غیر ضروری سمجھتا ہے،اسی کو کافی سمجھا جائے۔
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
5/رجب1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


