| 86166 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
دوسرا سوال میرا یہ ہے کہ جس رات خلع کا یہ عدالتی فیصلہ مجھے موصول ہوا،طبیعت میں بہت افسردگی تھی،سب جھوٹ پڑھ کر اور اس دھوکے سے خلع کو لیکر رات کو والدین سے کال پر بات کرتے ہوئے میرے منہ سے یہ جملہ نکلا:"وہ(زوجہ) بھی میری طرف سے آزاد ہے"۔
یہ جملے میں نے ایک تو اپنے والدین سے کال پر بات کرتے ہوئے بولے،میری زوجہ کے علم میں یہ بات نہیں ہے،والدین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کسی جملےمیں آزاد لفظ بولا،جیسا کہ"وہ تو عدالتی فیصلہ لے کر آزاد ہوگئی ہے اور یہ ہی برحق فیصلہ ہے،کیونکہ خلع کے فیصلے کو بدلا نہیں جا سکتا،نہ رد کروایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس پر عدالت میں مرد کی کوئی سنوائی ہے" ایسے ہی کچھ جملے بولے تھے،صحیح سے یاد نہیں،جس پر میں نے زوجہ کے حوالے سے یہ جملہ اپنے والدین کے سامنے بول دیا۔
اب اپنےاس جملے کی وضاحت دیتا چلوں کہ:
نیت: میری نیت کبھی طلاق دینے کی تھی ہی نہیں، نہ ہی خلع سے پہلے نہ ہی خلع کے بعد،یہ جملہ جومیں نے بولا،محض ایک افسردگی اور بے بسی کے تحت بولااور سیاق و سباق بھی بتا دیا کہ والدین سے کال پر کیا گفتگو چل رہی تھی۔
دل و دماغ کی حالت: یہ جملہ جب منہ سے نکلا جیسے بے بسی کی حالت ہوکہ اب تو میرے بس میں کچھ نہیں ہے، کیونکہ زوجہ نے عدالتی خلع سے خود کو آزاد کرلیا اور میرے ناقص علم کے مطابق مجھے ابھی تک یہی پتا ہے کہ جب عورت خلع لے لے تو مرد کے پاس طلاق دینے کا اختیار نہیں رہتا،کیونکہ رشتہ تو ٹوٹ چکا ہوتا ہے، پھر چاہے آپ طلاق بولو یا کوئی بھی لفظ وہ بے معنی ہے اور اس وقت مجھے یہی معلوم تھا کہ خلع ہو چکی ہے۔
طلاق اور خلع سے متعلق میرا علم: شروع سے میرے علم میں یہ بات رہی ہے کہ جب منہ سے طلاق دینی ہو تو بیوی کا سامنے ہونا ضروری ہے اسے مخاطب کرکے یا اس کے علم تک یہ بات پہنچ جائے كسی گواہ کی مدد سے یا لکھ کر بھیج دی جائے،جب تک وہ خود پڑھ نہ لے اور اگر لفظ "آزاد" کی بھی بات کی جائے تو اس کے حوالے سے بھی میرے علم میں یہی بات رہی ہےکہ بیوی کا سامنے ہونا یا ان سے مخاطب ہوکر ایسے لفظ کا بولنا نکاح پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور جب بھی اس موضوع پر کوئی یوٹیوب پر ویڈیو دیکھی تو علماء کرام کی بھی یہی تفصیل آتی ہے کہ اگر مرد نے براہ راست بیوی کو یہ بول دیا،وہ بول دیا،ایسا لفظ بول دیا تو کیا احکامات ہوتے ہیں،جبکہ میں اپنے والدین سے کال پربات کر رہا تھا اور اس لفظ یا جملے کا میری بیوی کو علم تک نہیں، وہ خلع کا فیصلہ بھیج کر مجھے واٹس ایپ پر بلاک کرگئی تھی۔
لفظ "آزاد" کا وزن: اس سارے معاملے کو دیکھتے ہوئے،جس میں اگر خلع کا غیر شرعی،غیر اخلاقی،غیر قانونی ہونا ثابت ہو جائے تو اس کے بعد بولے گئے لفط آزاد میں کتنا وزن رہ جاتا ہے؟ اس لفظ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اورمیں اپنی نیت کی، اپنے محدود علم کی، اپنے سیاق و سباق کی اور اپنے اس وقت کے دل و دماغ کے جذبات اور کیفیت کی تفصیل دینے کے بعد اب اس لفظ کی ادائیگی پر شرعی احکامات کیا لاگو ہوتے ہیں ؟ اور نکاح پر کیا اثرات پڑتے ہیں شرعی حیثیت سے ؟
علماء کرام جامعۃ الرشید سے اپنے ان دو سوالوں کے لئے الگ الگ تحریری فتویٰ کی درخواست کرتا ہوں اور مستقبل کی راہنمائی بھی چاہتا ہوں۔
ان دو سوالوں کے واقعات میں مزید کافی تفصیل بھی ہے،مگر چونکہ لکھ کر سوال پوچھنے کا کہا گیا ہے جس کی باعث جتنا محدود ہو کر سمجھاسکا اور پوچھ سکا میں نے پوری کوشش کردی، امید ہے معاملہ کافی حد تک سمجھ میں آجائے گا، مزید کسی بھی قسم کی تفصیل اگر درکار ہوئی تو میں ان شاء اللہ حاضر خدمت ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق کے وقوع کے لئے نہ طلاق کا بیوی کو علم ہونا شرط ہے اور نہ گواہوں کا موجود ہونا،بلکہ جب شوہر کی زبان سے طلاق کے جملے نکلتے ہی طلاق واقع ہوجاتی ہے،چاہے بیوی سنے یا نہ سنے،گواہ موجود ہوں یا نہ ہوں اور بیوی کو اس کا علم ہویا نہ ہو۔
نیز شریعت کے احکام سے لاعلمی کا عذر بھی شرعا معتبر نہیں ہے،لہذا آپ کے اس گمان سے بھی طلاق کے حکم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ عدالتی خلع کے نفاذ کے بعد طلاق واقع نہیں ہوگی۔
چنانچہ آپ نے اپنے جملے میں جو لفظ"آزاد" استعمال کیا ہے وہ اپنی اصل وضع کے لحاظ سے طلاق کے کنایہ الفاظ میں سے ہے اور کنایہ الفاظ کی اس قسم میں سے ہے جن میں صرف جواب بننے کا احتمال ہے جن سے قرینے(حالتِ غضب یا مذاکرہ طلاق) کی موجودگی میں بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
لہذا مذکورہ صورت میں آپ کے بولے گئے جملے "وہ زوجہ بھی میری طرف سے آزاد ہے "سے حالتِ غضب کے قرینے کی وجہ سے ایک بائن طلاق واقع ہوچکی ہے،کیونکہ بظاہر آپ نے یہ جملہ اپنے غصے کے اظہار کے لئے بولا ہے کہ جب بیوی میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور عدالت سے جھوٹے الزامات لگاکر خلع کی ڈگری لے لی ہے تو وہ بھی میری طرف سے آزاد ہے۔
جس کا حکم یہ ہے کہ اب اگر میاں بیوی دوبارہ ازدواجی زندگی میں منسلک ہونا چاہتے ہیں تو باہمی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا پڑے گا۔
لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے جب لفظ آزاد آپ کے علاقے کے عرف میں بیوی کو طلاق دینے کے لئے اس طرح خاص نہ ہو جس طرح طلاق کا لفظ کہ شوہر جب بھی بیوی کے سامنے یہ لفظ بولے تو اس سے طلاق ہی کا معنی مراد لیا جاتا ہو،بلکہ یہ لفظ طلاق کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے بھی بیوی سے بولا جاتا ہو،مثلا نکاح برقرار رکھتے ہوئے بیوی کو اعمال وافعال کی آزادی دینا وغیرہ،اگر بالفرض آپ کے علاقے کے عرف میں یہ لفظ صرف بیوی کو طلاق دینے کے لئےہی بیوی کے سامنے بولا جاتا ہوتو پھر یہ لفظ ایک دفعہ بولنے کی صورت میں ایک رجعی طلاق واقع ہوگی،جس کے بعد عدت کے دوران شوہرتجدیدِ نکاح کے بغیر بیوی سے زبانی یا عملی طور پر رجوع کرسکتا ہے۔
واضح رہے کہ دونوں صورتوں میں میاں بیوی کے دوبارہ ازدواجی رشتے میں منسلک ہونے کی صورت میں شوہر کے پاس مزید صرف دوطلاقوں کا اختیار باقی رہے گا اور پہلی (طلاق بائن واقع ہونے کی) صورت میں عدت گزرنے کے بعد وہ کسی اور نکاح کرسکے گی،جبکہ دوسری(طلاق رجعی واقع ہونے کی)صورت میں کسی اور سے نکاح کا اختیار تب ہوگا جب آپ عدت کے دوران رجوع نہ کریں۔
حوالہ جات
"البحر الرائق " (3/ 272):
"ومنه أخبرها بطلاقها بشرها بطلاقها احمل إليها طلاقها أخبرها أنها طالق قل لها إنها طالق فتطلق للحال ولا يتوقف على وصول الخبر إليها ولا على قول المأمور ذلك".
"رد المحتار"(2/ 380):
"إن الجهل بالأحكام في دار الإسلام ليس بمعتبر".
"الدر المختار " (3/ 298):
"فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى.
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله: أنت حرة) أي لبراءتك من الرق أو من رق النكاح وأعتقتك مثل أنت حرة كما في الفتح، وكذا كوني حرة أو اعتقي كما في البدائع نهر.....
(قوله :توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب،بيان ذلك :
أن حالة الغضب تصلح للرد والتبعيد والسب والشتم كما تصلح للطلاق، وألفاظ الأولين يحتملان ذلك أيضا فصار الحال في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عنى به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه ولا يكذبه الظاهر فيصدق في القضاء، بخلاف الألفاظ الأخير: أي ما يتعين للجواب ؛لأنها وإن احتملت الطلاق وغيره أيضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد والتبعيد والسب والشتم اللذين احتملتهما حال الغضب ،تعينت الحال على إرادة الطلاق فترجح جانب الطلاق في كلامه ظاهرا، فلا يصدق في الصرف عن الظاهر، فلذا وقع بها قضاء بلا توقف على النية كما في صريح الطلاق إذا نوى به الطلاق عن وثاق".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
05/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


