| 86226 | رضاعت کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
میرے بھائی بچپن میں دو سال کی عمر تک جب نانی کے پاس ہوتے، توجب کبھی روتے ،نانی اپنا پستان ان کے منہ میں دے دیتی تاکہ بچہ بہل جائے،اس وقت میری نانی کی عمر 49سال سے زائد تھی ،پھر میری نانی کاانتقال ہو گیا ،جبکہ ہمیں علم نہیں کہ حقیقتاً میرے بھائی نے نانی کے پستان سے دودھ پیا تھا یا نہیں، اب میرے بھائی اپنی خالہ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتےہیں۔کیا نانی سے رضاعت ثابت ہوئی ؟ اور کیا مذکورہ صورت میں میرے بھائی کا خالہ کی بیٹی سے نکاح کرنا شرعاً درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حرمت رضاعت کا ثبوت یقینی طور پر دودھ پینے سے ہوتا ہے، محض شک کی بنیاد پر حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
لہذا،صورت مسؤولہ میں اگرغالب گمان یہی ہو کہ جب نانی نے پستان بچے کے منہ میں داخل کیا تھا اس میں دودھ نہیں تھا،تو حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوئی اور مذکورہ شخص کا اپنی خالہ کی بیٹی سے نکاح کرنا بھی درست ہو گا۔
البتہ اگر غالب گمان یہ ہو کہ بچے نے ایک مرتبہ بھی پستان سے دودھ پیاتھا ، تو حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی اوریہ نکا ح شرعا ً جائز نہیں ہو گا ۔احتیاط کا تقاضہ بھی یہی کہ مذ کورہ شخص اپنی خالہ کی بیٹی سے نکاح نہ کرے ۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني (3/ 75):
وفيه أيضا(فتاوى أهل سمرقند): أدخلت المرأة حلمة ثديها فم رضيع ولم تدر أدخل اللبن في حلقه أم لا فإنه لا يحرم النكاح؛ لأن في المانع شكا۔
رد المحتار ط الحلبي(3/ 212)
وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك۔
المبسوط» للسرخسي (5/ 138):
فإنه قال: «جاءت امرأة سوداء تستطعمنا فأبينا أن نطعمها فجاءت تشهد على الرضاع» وبالإجماع بمثل هذه الشهادة لا تثبت الحرمة فعرفنا أن ذلك كان احتياطا على وجه التنزه وإليه أشار صلى الله عليه وسلم في قوله: «كيف وقد قيل» وعندنا إذا وقع في قلبه أنها صادقة فالأحوط أن يتنزه عنها ويأخذ بالثقة۔
«شرح مشكلات القدوري» (2/ 159):
قال شمس الأئمة السرخسي رحمه الله: إذا أخبرت امرأة واحدة بالرضاع، فوقع في ظنه أنها صادقة، فالأحوط أن يتنزه [عنها]، ويأخذ الثقة سواء أخبرت بذلك قبل النكاح، أو بعده۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
06/رجب /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


