| 86207 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
بچی کا نام ”انشراح (Inshirah)“ یا ”انشرہ (Ansharah)“ رکھنا کیسا ہے؟ ایک دار الافتاء کی ویب سائٹ پر ”انشراح (Inshirah)“ کو ایک جگہ مذکر بتایا گیا ہے جبکہ فتوی 143905200027 میں اسی نام کو مونث بتایا گیا ہے۔ راہنمائی کی درخواست ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
’’اِنشراح‘‘ کا معنی ہے کشادہ ہونا ،واضح ہونا لہذا بچی کا نام’’ انشراح ‘‘رکھا جا سکتا ہے۔ البتہ بہتر یہ ہےکہ بچی کا نام امہات
المؤمنین ،صحابیات یا صالحاتِ امت میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے ۔ نیز’’ انشراح‘‘عربی زبان کا لفظ ہے، جو عربی کے علاوہ اردو زبان میں بطورِ مصدر’ مذکر‘استعمال ہوتا ہے ۔جیساکہ فیروز اللغات،فرہنگِ تلفظ، اردو لغت(تاریخی اصول پر)اوررافع اللغات،ان مذکورہ کتابوں میں یہ لفظ مذکر آیا ہے۔تاہم یہ لفظ عرفاً مؤنث کے نام کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور معنی بھی درست ہے۔ لہذا یہ نام رکھنے کی گنجائش ہے۔
جبکہ ’’انشرہ ‘‘عربی زبان میں اسم (نام) نہیں، بلکہ ایک جملہ ہے۔ قرٓن مجید کی سورہ ٔعبس میں ہے:ثم إذا شآء أنشرہ .
(ترجمہ: پھر جب اللہ چاہے گا اس کو دوبارہ زندہ کرے گا)،لہذا انشرہ نام رکھنا درست نہیں۔
حوالہ جات
أخرج الإمام أبوداؤد:عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ،قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:إنکم تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم وأسماء آبائکم،فاحسنوا أسماءکم.
( أبوداؤد:303/7)(الحدیث رقم:4948)
وفي فتاویٰ الهندية : وفي الفتاوى: التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط.
( الفتاوى الهندية: 5/ 362)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید، کراچی
6/رجب المرجب،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


