03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مضاربت میں نقصان کا ذمہ دار کون ہو گا؟
86322مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

دو افراد نے لوگوں سے مضاربت کے طور پر مال لیا، جس میں طے پایا کہ ایک شریک 70 فیصد منافع لے گا، دوسر ا 30 فیصد منافع پر حق دارہو گا اور کام دونوں فریق کریں گے،  اس کی مزید تفصیل یہ ہے:

(۱) لوگوں سے لیا گیا مال کاروبار میں لگانے کا دعوی کیا گیا، لیکن نقصان (تاوان) کے باعث اصل مال ختم ہو گیا۔ یہ دعوی بھی صرف اس شریک کا ہے جو 70 فیصد منافع لے رہا تھا۔

(۲) نقصان کے بعد دوبارہ کچھ لوگوں سے مضاربت پر مال لیا گیا، لیکن یہ مال کاروبار میں لگانے کی بجائے  بطورِ نفع ان لوگوں کو دے دیا گیا، جن کا مال تاوان میں ختم ہو گیا تھا اور یہ مال دینا بھی اسی شریک کےحکم سے تھا جو 70 فیصد منافع کا مالک ہے۔

(۳) 30 فیصد منافع لینے والے شریک کوعملی طور پر زیادہ تصرف کرنے کا اختیار نہ تھا،بلکہ سترفیصد والا ہی زیادہ کام کرتا تھا، یہ سلسلہ کافی عرصے تک اسی طرح جاری رہا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح معاملہ کرنے سے دونوں شرکاء پر ضمان (مال کی ذمہ داری) لازم آتی ہے یا نہیں ؟ اگر ضمان لازم آتا ہے تو کیا دونوں شرکاء پر ہو گا یا صرف ایک پر ؟ اور ہر ایک پر کتنا ضمان لازم ہو گا؟  نیزاگر یہ نقصان کسی مضارب کی تعدی اور کوتاہی کی وجہ سے ہوا ہو تو ایسی صورت میں نقصان کا ضامن کون ہو گا؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ ان دونوں کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ ہم لوگوں سے رقم لے کر ایمازون پر مختلف چیزوں کی مارکیٹنگ کر کے نفع کمائیں گے اور حاصل شدہ  نفع میں سے کچھ خود رکھیں گے اور کچھ انویسٹروں کو دیں گے، ان میں سے ایک نے اپنی دکان بھی اس کام کے لیے دی، اس کا نفع تیس فیصد رکھا گیا، جبکہ دکان کا کرایہ الگ سے طے نہیں کیا گیا، بلکہ اسی تیس فیصد میں شامل سمجھا گیا، عقد کےوقت کام دونوں کا کرناطے تھا، مگرعملی طورپر ان میں سے ستر فیصد رکھنے والا ہی سب کچھ کام کرتا تھا، تھوڑا بہت دوسرا شخص بھی کرتا تھا، رقم کا استعمال بھی زیادہ تر ستر فیصد والے شریک کے ہی ہاتھ میں تھا، کچھ وقت گزرنے کے بعد اس نے کہا کہ کاروبار میں نقصان ہو گیا ہے، اس کے بعد دیگر انویسٹروں سے مزید رقم لی گئی اور وہ پہلے انویسٹروں کو بطور نفع دے دی گئی، اب نئے اور پرانے انویسٹروں کو رقم دینے کا مسئلہ ہے، جبکہ ایک مضارب نقصان کا دعوی کرتا ہے، دوسرا خاموش ہے، کیونکہ وہ کاروبار میں زیادہ کام نہیں کرتا تھا،  تو سوال یہ ہے کہ اس نقصان کا ضامن کون ہو گا؟  جبکہ شبہ یہ ہے کہ ایک ستر فیصد والے انویسٹر کی کوتاہی سے ہی یہ نقصان ہوا ہے، کیونکہ تیس فیصد والے شریک کو نفع ونقصان کی صورتِ حال بالکل علم نہ تھا، کیونکہ فرنٹ لائن پر ستر فیصد والا شریک ہی کام کرتا تھا، تیس فیصد والا خریدوفروخت میں شریک نہیں ہوتا تھا، اس کا کام محض لوگوں سے میل ملاقات کرنا ہوتا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی اعتبار سے مضاربت کا اصول یہ ہے کہ اگر نقصان مضارب کی تعدی اور کوتاہی کے بغیر ہو تو مضارب اس نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوتا،  خواہ  مضارب ایک  ہویا ایک سے زیادہ، اور مضارب اور رب المال کے درمیان نفع کی شرح برابر طے کی گئی ہو یا کم وبیش۔نیز پہلے اس نقصان کو نفع سے پورا کیا جائے گا، جس میں سابقہ تقسیم شدہ  نفع بھی شامل ہو گا اوراگر نفع سے یہ نقصان پورا نہ ہو تو پھر اس کو راس المال یعنی سرمایہ سے پورا کیا جائے گا۔ البتہ ایسی صورت میں مضارب شرعی طورپر کسی نفع کا مستحق نہیں ہوتا اور اگر نقصان مضارب کی تعدی، کوتاہی اور غفلت کی وجہ سے ہو تو نقصان کرنے والا مضارب تمام نقصان کا ضامن اور ذمہ دار ہوتا ہے اور یہ نقصان  سرمایہ اورنفع سے پورا نہیں کیا جائے گا، بلکہ مضارب اپنے مال سے اس نقصان کی تلافی کرے گا۔  

صورتِ مسئولہ میں چونکہ دونوں حضرات نے مل کر لوگوں سے مضاربت کے طور پر رقم لی تھی، اس لیے مذکورہ بالا تفصیل دونوں سے متعلق ہو گی، لہذا اگر یہ نقصان ان دونوں کی کوتاہی اور غفلت کی وجہ سے ہوا ہے تو یہ دونوں نقصان کے ذمہ دار ہیں اور اگر ان میں سےکسی ایک کی تعدی اور کوتاہی سےہوا ہوتو ایسی صورت میں وہی كوتاہی كرنے والا مضارب  ہی نقصان کا ذمہ دار ہو گا۔

 اوراگر فریقین یعنی انویسٹرز اور مضارب کے درمیان نقصان کے وقوع میں اختلاف ہو جائے، جس میں  رب المال مضارب کی کوتاہی اور تعدّی کا دعوی کرے اور مضارب اس کا انکار کرے تو ایسی صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ رب المال یعنی انویسٹر کے ذمہ تعدّی اور کوتاہی کے وقوع پر شرعاً معتبر ثبوت جیسے گواہ وغیرہ  پیش کرنا ہوں گے، بصورتِ دیگر مضارب کا قول اس کی قسم کے ساتھ معتبر ہو گا، لہذا مذکورہ صورت میں انویسٹرز کے پاس کوتاہی اور تعدی پر ثبوت نہ ہونے کی صورت میں نقصان کا دعوی کرنے والے مضارب  سے قسم لی جائے گی اور قسم کے دوران نقصان کی تفصیل  بھی پوچھی جاسکتی ہے کہ یہ نقصان کیسے ہوا؟ اور پھر اس تفصیل میں کاروباری ماہرین  كی رائے كے مطابق اگر کسی کوتاہی اور تعدی کا عنصر پایا جائے تو اس کو سرمایہ  کا ضامن ٹھہرایا جا سکتا ہے، اور اگر کوتاہی وغیرہ نہ ہو تو مضارب قسم اٹھا کر برئ الذمہ ہو جائے گا اور وہ کسی قسم کا ضامن نہیں ہو گا،نیز اس صورت میں مضاربین کو ان کے کام کی اجرت (نفع) بھی نہیں ملے گی۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي، کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج:5،ص:67،ط:المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة):

قال - رحمه الله - (وما هلك من مال المضاربة فمن الربح)؛ لأنه تابع ورأس المال أصل لتصور وجوده بدون الربح لا العكس فوجب صرف الهالك إلى التبع لاستحالة بقائه بدون الأصل كما يصرف الهالك العفو في الزكاة قال - رحمه الله - (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن المضارب)؛ لأنه أمين فلا يكون ضمينا للتنافي بينهما في شيء واحد.

مجمع الضمانات(باب في مسائل المضاربة،الفصل الأول في المضاربة،ص: 303،ط:دار الکتب الإسلامی)

"ثم المدفوع إلى المضارب أمانة في يده لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه لا على وجه البدل والوثيقة، وهو وكيل فيه لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه فإذا ربح فهو شريك فيه، وإذا فسدت ظهرت الإجارة حتى استوجب العامل أجر مثله، وإذا خالف كان غاصبا لوجود التعدي منه على مال غيره".

تنویر الابصار مع الدر المختار (کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فی المتفرقات فی المضاربۃ،ج:5،ص:656،ط:سعید)

 (وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين (وإن قسم الربح وبقيت المضاربة ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح ليأخذ المالك رأس المال وما فضل بينهما، وإن نقص لم يضمن) لما مر".

حاشية ابن عابدين (5/ 649) دار الفكر-بيروت:

 أن التصرفات في المضاربة ثلاثة أقسام: قسم: هو من باب المضاربة، وتوابعها فيملكه من غير أن يقول له: اعمل ما بدا لك كالتوكيل بالبيع والشراء والرهن والارتهان والاستئجار والإيداع والإبضاع والمسافرة، وقسم: لا يملك بمطلق العقد بل إذا قيل اعمل برأيك كدفع المال إلى غيره مضاربة أو شركة أو خلط مالها بماله أو بمال غيره، وقسم: لا يملك بمطلق العقد، ولا بقوله: اعمل برأيك إلا أن ينص عليه، وهو ما ليس بمضاربة ولا يحتمل أن يلحق بها كالاستدانة عليها ا. هـ

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

6/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب