| 86206 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک مسئلہ کا حل درکار ہے۔ میرے شوہر نے اپنے والد کا گھر خریدکر تمام بہن بھائیوں کو حصہ ادا کر دیا۔ والدہ کا حصہ رہ گیاتھا جو دینا باقی ہے ۔ بعد میں گھر شوہر نے میرے نام کر دِیا تھا ۔اب والدہ کا حصہ دینا ہے ۔اُن کا حصہ اِس وقت کی قیمت کے حساب سے دیا جائےگا يا پھر جِس وقت سب کا ترکہ دیا تھا اُس وقت کے حساب سے؟براہ کرم رہنمائی کر دیجیے۔
تنقیح کے یہ بعد معلوم ہوا کہ والدہ سے ان کا حصہ ان کی رضامندی اور اجازت سےخریدا تھا اور یہ بات بھی طے ہوئی کہ بعد میں والدہ کو ادائیگی کردیں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چونکہ والدہ کی رضامندی اور اجازت سے ان کا حصہ خریدا گیا تھا تو تقسیم کے دن جو قیمت تھی اسی قیمت کے لحاظ سے ادائیگی ضروری ہوگی۔موجودہ قیمت کے اعتبار سے ادائیگی ضروری نہ ہوگی۔تاہم خوشی سے زیادہ دیں تو یہ حسن ادا ہے جو شریعت میں باعث ثواب اور ستائش ہے۔
حوالہ جات
تقوم التركة الموصى بثلثها يوم اقتسامها بين الورثة والموصى له، ثم يستخرج الثلث منها للوصية
بحسب قيمتها يوم القسمة لا يوم الوفاة. (الدرر البهية من الفتاوى الكويتية (9/ 395:
فإن تقسيم التركة يكون بقيمتها الحالية مع ما تحقق من أرباحها إلى يوم القسمة بغض النظر عن قيمتها أو قدرها يوم الوفاة. (فتاوى الشبكة الإسلامية:14/ 617 ) (التبویب،فتویٰ نمبر:75793)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
7/رجب المرجب1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


