03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی مال سے بچنے کا حکم
86222سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

  میرے والد میری پیدائش سے پہلے مسقط کے ایک بینک میں جاب کرتے تھے اور میری پیدائش سے کچھ ماہ قبل 1998 میں پاکستان لوٹ آئے اور یہاں آکر کوئی باقاعدہ روزگار اختیار نہیں کیا، بلکہ جو جمع پونجی تھی وہ نیشنل سیونگز میں جمع کرادی اور اس سے آنے والے منافع (سود) پر ہمارا گزر بسر ہورہا ہے۔ جب تک فہم نہیں تھا تو اس پر کبھی غور نہیں کیا۔ اب جب احساس ہوا تو ایک تو فطری طور پر والد صاحب کی قدر و منزلت میں کمی محسوس ہوئی، دوسرا اس کا حل نکالنے کا سوچا۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ کس طرح سے میں اپنے گھر والوں کو حرام خوری سے محفوظ کروں ، عنقریب میں شادی بھی کرنا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری نئی زندگی کا آغاز کسی خرابی اور حرام سے نہ ہو۔ اس وقت میں اپنی تنخواہ میں سے 32,000 والدہ کو گھر کے خرچ کےلئے دیتا ہوں اور والد صاحب اپنی نیشنل سیونگ والی آمدنی سے 27,000 دیتے ہیں۔ والدہ کوشش یہ کرتی ہیں کہ والد صاحب کے پیسے بلز وغیرہ کی مد میں استعمال ہوجائیں، جیسے گیس، بجلی اور پانی وغیرہ ،اور میرے پیسوں سے گھر کا سودا سلف وغیرہ خریدیں، لیکن بعض دفعہ والد صاحب کے پیسوں سے کچھ پیسے بچ جاتے ہیں، والدہ ان کا خیال نہیں کرتیں اور وہ گھر میں استعمال ہوجاتے ہیں۔ مجھے اس کا حل بتائیں ،کیسے اس مشکل سے نکلا جائے؟ والدہ نے والد صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ کسی ایسی جگہ پیسے رکھوادیں جہاں سے آمدنی حلال ہو، مگر وہ کم ریٹ کا بہانا بنا کر ٹال دیتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآن و حدیث میں سود کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ سود چھوڑنے کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو۔ اور اگر تم توبہ کر لو تو تمھارے لیے تمھارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔" (البقرہ 278-279)

اس لیے آپ کے والد صاحب پر لازم ہے کہ سود جیسی لعنت سے فوراً توبہ کریں، کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ اگر وہ بغیر توبہ کے دنیا سے چلے گئے تو یہ ان کے لیے آخرت میں سخت خسارے کا سبب ہوگا۔ جو رقم سود پر رکھی گئی ہے، اسے بینک سے نکال کر کسی حلال کاروبار یا غیر سودی سرمایہ کاری میں لگا دیں تاکہ آمدنی پاکیزہ ہو۔ جو سودی مال اب تک استعمال کیا جا چکا ہے، اس پر صدقِ دل سے توبہ کریں اور استغفار کریں۔ جو رقم سود سے حاصل ہوئی ہے، اس کا حساب لگا کر بغیر ثواب کی نیت کے فقراء اور مساکین پر صدقہ کر دیں۔ اگر پورا مال ایک ساتھ صدقہ کرنا ممکن نہ ہو تو اسے قسطوں میں مکمل کریں۔اگر والد صاحب سود کے معاملے میں نہیں مان رہے، تو ان کو حکمت اور محبت سے سمجھانے کی ضرورت ہے۔ سود کی حرمت اور اس کی سنگینی پر مبنی کتابیں ان کے لیے خرید کر دیں اور ممکن ہو تو انہیں علماء کی مجالس اور دینی اجتماعات میں لے جائیں۔ سود کے حوالے سے اللہ اور رسول ﷺ کی وعیدوں کا تذکرہ کریں، تاکہ ان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہو اور وہ حرام سے بچنے کے لیے سنجیدہ ہو جائیں۔

اگر وہ کم منافع کا بہانہ کرتے ہیں، تو انہیں یہ سمجھائیں کہ بحیثیت مسلمان ہمارا اس دنیا میں مقصد صرف کمانا، کھانا، یا عیش و آرام کرنا نہیں ہے، بلکہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں انسان پر مختلف قسم کی آزمائشیں آتی ہیں، اور مال کی آزمائش ان میں سے ایک ہے۔ یقیناً اگر کسی کے پاس اپنی ضروریات کے لیے بھی وسائل نہ ہوں تو یہ ایک تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی ہر مسلمان پر لازم ہے، کیونکہ یہ دنیا کے سارے امتحانات عارضی ہیں اور آخرت کی کامیابی اور خوشی ہمیشہ کے لیے ہے۔  لہٰذا محض کم منافع کا بہانہ بنا کر سود جیسے حرام مال کو اپنے لیے حلال سمجھنا ہرگز درست نہیں۔

حوالہ جات

 ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ 278 فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَا تُظۡلَمُونَ 279  

«الاختيار لتعليل المختار» (3/ 61):

«(ويأخذ رأس ماله ويتصدق بالفضل) . معناه: يأخذ من الزرع ما أخرج عليه من البذر وغيره، ويتصدق بالفضل  وقال أبو يوسف: يطيب له الفضل؛ لأنه حصل في ضمانه؛ لملكه الأصل ظاهرا؛ فإن المضمونات تملك بأداء الضمان مستندا على ما تقدم. ولهما أنه حصل بسبب خبيث، وهو التصرف في ملك الغير، والفرع يحصل على صفة الأصل، والملك الخبيث سبيله التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز. ثم إن كان غنيا تصدق بمثله، وإن كان فقيرا لا يتصدق.»

زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

    5/رجب/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب