03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلبہ کا کھانا بند کرنا
86258وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

ہمارےمدرسہ میں تمام طلبہ اپنے ذاتی خرچ سے  کھانا کھاتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ طلبہ ماہانہ بنیاد پر رقم جمع کرواتے ہیں ، جس  کے بدلےمیں ان کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے ،کچھ طلبہ کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک بناکر پیسے ان کے حوالے کردیے جاتے ہیں ،اور وہ  طلبہ ان پیسوں کے بدلے مدرسہ سے کھانا خریدتے ہیں ۔ہمارے ملک کے اکثر مدارس میں یہی طریقہ رائج ہے ، البتہ بعض مدارس میں  کچھ طلبہ مدرسہ سے مفت میں امدادی کھانا  بھی لیتے ہیں ۔اب اگر کوئی طالب علم  درس میں حاضر نہ ہو، یا امتحان میں ناکام ہو، یا مدرسے کے کھلنے کی تاریخ پر بروقت حاضر نہ ہو، یا کسی اور خلاف ورزی کا مرتکب ہو، تو مدرسے کی انتظامیہ ایسے طلبہ  کا کھانا بند کر دیتی ہے ۔طلبہ سے پورے ماہ کے کھانے کا خرچ وصول کیا جاتا ہے اور جب تک کھانا بند رکھا جاتا ہے ، اس مدت کا خرچ واپس نہیں کیا جاتا۔ سوال یہ ہے کہ شریعت کی نظر میں اس طرح کھانا بند کرنا جائز ہے ؟

وضاحت : مذکورہ بالا سوال  میں تنقیح کے بعد ضروری تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 جو طلبہ اپنا ذاتی خرچ ، یا اپنی مملوکہ زکوٰ ۃ کی رقم مدرسہ میں جمع کرواتے ہیں اور اس کے بدلے کھانا وصول کرتے ہیں ، مدرسے کی انتظامیہ کا ان طلبہ کا کھانا بند  کرنا  اور طلبہ کے کھانے کی مد میں جمع کروائے گئے پیسے واپس نہ کرنا ،یہ تعزیر بالمال (مالی جرمانہ عائد کرنا)ہے ۔ فقہ حنفی کے راجح قول کے مطابق  مالی جرمانہ عائد کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ لہذاصورت مسئولہ میں طلبہ کی غیر حاضری یا  کسی اور وجہ سے بطور سزا زجراً وتنبیہاً کسی بھی صورت میں ان سے مالی جرمانہ لینا یا  وصولی کی صورت میں اسے خرچ کرنا یا استعمال میں لانا  جائز نہیں،  اس سے اجتناب کرنالازم ہے، اور اس رقم کو واپس لوٹانا واجب ہے۔

البتہ جو طلبہ مدرسے سے امدادی طور پر مفت کھانا لیتے ہیں ،مدرسے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں وہ اس سہولت کے مستحق نہیں رہتے ، اس لئے کہ طالب عالم جب سال کے شروع میں داخلہ فارم پر کرتا ہے ، تو اس میں وعدہ کرتا ہے کہ میں مدرسہ کے قواعد وضوبط اورنظم کی پوری طرح پابندی کرونگا، اس کے بعد طالب علم کا مدرسہ کے نظم کی پابندی نہ کرنا ، بلاعذرسبق میں ناغے کرنا ، امتحان میں ناکام ہونا وعدہ کی خلاف ورزی ہے جوکہ ناجائز اور گناہ ہے ، چنانچہ ایسا طالب علم مدرسہ کی سہولیا ت کا مستحق نہیں رہتا ،  صورت مسئولہ میں اگر انتظامیہ نے پڑھائی میں سستی اورغفلت کی وجہ سےایسے طلبہ کا کھانا بند کردیا ، تو شرعا اسکی گنجائش ہے ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)( 4/61):

قال العلامۃابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ:مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه.

البحر الرائق (5/44):

قال العلامۃابن نجیم  رحمۃ اللہ علیہ:ولم يذكر محمد التعزير بأخذ المال وقد قيل روي عن أبي يوسف أن التعزير من السلطان بأخذ المال جائز كذا في الظهيرية وفي الخلاصة سمعت عن ثقة أن التعزير بأخذ المال إن رأى القاضي ذلك أو الوالي جاز ومن جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال اهـ.وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي...والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 382)

قال في البحر واستفيد من عدم صحة عزل الناظر بلا جنحة عدمها لصاحب وظيفة في وقف بغير جنحة وعدم أهلية واستدل على ذلك بمسألة غيبة المتعلم، من أنه لا تؤخذ حجرته ووظيفته على حالها إذا كانت غيبته ثلاثة أشهر، فهذا مع الغيبة فكيف مع الحضرة والمباشرة وستأتي مسألة الغيبة وحكم الاستنابة في الوظائف قبيل قول المصنف ولاية نصف القيم إلى الواقف، وفي آخر الفن الثالث من الأشباه إذا ولى السلطان مدرسا ليس بأهل لم تصح توليته؛ لأن فعله مقيد بالمصلحة خصوصا إن كان المقرر عن مدرس أهلا فإن الأهل لم ينعزل وصرح البزازي في الصلح، بأن السلطان إذا أعطى غير المستحق فقد ظلم مرتين بمنع المستحق وأعطاه غير المستحق اهـ ملخصا. .

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

07/رجب /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب