03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچے کا اپنے والد کی گاڑی کے نیچے آکر مرنے کی صورت میں دیت اور کفارے کاحکم
86235قصاص اور دیت کے احکاممتفرق مسائل

سوال

السلام علیکم! مفتی صاحب ہمارے ہاں ایک بندہ صبح ڈیوٹی پر جارہا تھا تو انہوں  نےگاڑی اسٹارٹ کی تاکہ گرم ہوجائے اور خود گھر میں چلا گیا، اسی دوران اسی بندے کا چھوٹا بیٹا (جو ابھی صحیح طرح سے کھڑا بھی نہیں ہوسکتا صرف زمین پر کھسک کے چلتا ہے ) گھر سے نکلا ،اور گاڑی کے نیچے بیٹھ گیا یا کھیل رہا تھا ،تو وہ بندہ ڈیوٹی پر چلا گیا اور بعد میں گیراج میں لگے ہوئے کیمروں سے پتہ چلا کہ بچہ ٹائر کے نیچے آگیااوراس کا  سر کچل گیا جس کی وجہ سے بچے کی موت واقع ہوگئی ہے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ والد صاحب پر کوئی کفارہ لازم ہے یا نہیں؟ جزاک اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ قتل کی صورت فقہی اصطلاح میں "جاری مجری خطا"میں داخل ہے،جس کا کفارہ مسلسل ساٹھ روزے رکھنا ہے۔ اس میں قتل  کا گناہ  تو نہیں ہوتا تاہم احتیاطی اقدامات میں کوتاہی کی وجہ  سے انسانی جان جانے کا گناہ ہوتا ہے ۔ جس پر استغفار کرنا لازم ہے، اور آئندہ مزید  احتیاط کرنی چاہیے ۔ اس قتل پر دیت بھی آتی ہے،دیت کی ادائیگی باپ کے خاندان والوں پر واجب ہے،جسے تین سال میں ادا کرنا ہوگا۔دیت  کی کم از کم مالیت 618. 30 کلو گرام چاندی یا اس کی قیمت،اور تولہ کے حساب سے یہ مقدار 2,625 تولہ چاندی بنتی ہے۔دیت کی یہ رقم مقتول بچہ کے ترکہ میں شامل ہوکر ورثہ کے درمیان میراث کے شرعی اصولوں کے مطابق  تقسیم کی جائے گی، اورجس سے قتل ہوا ہے اسے بطور وارث دیت نہیں ملے گی،البتہ ورثہ اگر معاف کرنا چاہیں تو دیت معاف ہو جائے گی،لیکن کفارہ معاف نہیں ہوگا،اس کی ادائیگی بہرحال ضروری ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ : الرابع (ما جرى مجراه) مجرى الخطأ (كنائم انقلب على رجل فقتله)؛ لأنه معذور كالمخطئ، (وموجبه) أي موجب هذا النوع من الفعل، وهو الخطأ وما جرى مجراه (الكفارة ،والدية على العاقلة) والإثم دون إثم القاتل؛ إذ الكفارة تؤذن بالإثم لترك العزيمة.

قال العلامۃ ابن عابدین الشامي رحمہ اللہ : قوله: (والرابع ما جرى مجراه ) فحكمه حكم الخطأ في الشرع، لكنه دون الخطأ حقيقة؛ فإن النائم ليس من أهل القصد أصلاً، وإنما وجبت الكفارة لترك التحرز عن نومه في موضع يتوهم أن يصير قاتلًاأيضا، وحرمان الميراث لمباشرة القتل، وتوهم أن يكون متناعسا لم يكن نائما قصدا منه إلى استعجال الإرث، والذي   سقط من سطح،  فوقع  على إنسان، فقتله ،أو كان في يده لبنة أو خشبة، فسقطت من يده على إنسان ،أو كان على دابة، فأوطأت إنسانا ،فقتله ،مثل النائم؛ لكونه قتلا للمعصوم من غير   قصد.  ....(وكفارتهما) أي الخطأ وشبه العمد (عتق قن مؤمن، فإن عجز عنه صام شهرين ولاء، ولا إطعام فيهما) إذ لم يرد به النص، والمقادير توقيفية.(الدر المختار مع رد المحتار:6/531،574)

قال في الهندية :وأما ما جرى مجرى الخطأ، فهو مثل النائم ،ينقلب على رجل فيقتله، فليس هذا بعمد، ولا خطأ ،كذا في الكافي، وكمن سقط من سطح على إنسان فقتله أو كان على دابة فوطئت دابته إنسانا، هكذا في المحيط . وحكمه حكم الخطأ :من سقوط القصاص، ووجوب الدية والكفارة، وحرمان الميراث . (الفتاوی الھندیۃ:6/3)

قال في الهندية :وكل دية وجبت بنفس القتل  يقضى من ثلاثة أشياء في قول أبي حنيفة رحمہ اللہ تعالى  من الإبل والذهب والفضة كذا في شرح الطحاوي. قال أبو حنيفة رحمہ اللہ تعالى  : من الإبل مائة، ومن العين ألف دينار، ومن الورق عشرة آلاف، وللقاتل الخيار يؤدي أي نوع شاء .كذا في محيط السرخسي.

(الفتاوی الھندیۃ:6/24)

(التبویب،فتوی نمبر:71533)

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۰۷رجب المرجب۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب