03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“اگر میں پاگل ہوں تو تمہیں طلاق”کہنے کا حکم
86262طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

 میری بیوی سے لڑائی ہوئی ، میری بیوی نے غصے میں آ کر مجھے پاگل کہا ،جس کے جواب میں اسے ڈرانے کے لئے میں نے ان سے کہا کہ اگر میں واقعی میں پاگل ہوں تو میری طرف سے آپ کو طلاق ہے، لیکن میں نے یہ شرط رکھی ہے کہ اگر میں واقعی  پاگل ہوں ،اگر میں واقعی میں پاگل ہوتا تو طلاق ہو جانی تھی ،لیکن میں پاگل نہیں ہوں ۔اس کے بارے میں مجھے بتایا جائے کہ طلاق ہوگئی ہے یا نہیں ہوئی ؟

تنقیح:سائل نے بتایا کہ اس نے یہ جملہ بیوی سے فون پر جھگڑتے ہوئے ،غصے کی حالت میں کہا تھا ،جبکہ مقصد بیوی کو خاموش کرانا تھا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ اس طرح کی صورت حال میں شرط کا ذکر تعلیق کے لئے نہیں ہوتابلکہ بدلہ لینے کے لئے ہوتا ہے،اس لئے مسئولہ صورت میں  آپ کی بیوی نے جب  آپ کو پاگل کہا اور آپ نے  جواب میں  غصے کی حالت میں  کہا کہ" اگر میں پاگل ہوں تو آپ کو طلاق ہے"تواس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ۔اب حکم یہ ہے کہ اگرعدت(تین ماہواریوں)  کے اندر اندر آپ نے رجوع کرلیا(یعنی زبان سے کہا کہ: میں تم سے رجوع کرتاہوں یا آپ نے  بیوی کے ساتھ زوجین والے تعلقات قائم کرلیے) تو سابقہ نکاح  برقرار ہےگا،اور نئے نکاح کی ضرورت نہ ہوگی،لیکن اگر بغیر رجوع کیے عدت گزر گئی تو پھر موجودہ نکاح ختم ہوجائے گا اورپھر ساتھ رہنے کے لئےباہمی رضا مندی سے نئےمہر کے ساتھ تجدید نکاح  لازم  ہوگا۔دونوں صورتوں میں آئندہ کے لیے آپ کو فقط دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 343):

وأن لا يقصد به المجازاة، فلو قالت يا سفلة فقال: إن كنت كما قلت فأنت كذاتنجيز كان كذلك أو لا وذكر المشروط(قوله وأن لا يقصد به المجازاة إلخ) قال في البحر: فلو سبته بنحو قرطبان وسفلة، فقال: إن كنت كما قلت فأنت طالق تنجز، سواء كان الزوج كما قالت أو لم يكن لأن الزوج في الغالب لا يريد إلا إيذاءها بالطلاق، فإن أراد التعليق يدين وفتوى أهل بخارى عليه كما في الفتح اهـ يعني على أنه للمجازاة دون الشرط كما رأيته في الفتح وكذا في الذخيرة. وفيها والمختار والفتوى أنه إن كان في حالة الغضب فهو على المجازاة وإلا فعلى الشرط اهـ ومثله في التتارخانية عن المحيط. وفي الولوالجية: إن أراد التعليق لا يقع ما لم يكن سفلة.

المحيط البرهاني (3/ 421):

إذا قالت المرأة لزوجها: "بامه" ،.... أو قالت ما «قلينان» ، فقال الزوج: إن كنت أنا … ، فقال أو قال: إن كنت أنا «قلينان» فأنتِ طالق، فحاصل الجواب في هذه المسألة وأجناسها أنّ الزوج ينوي، إن أراد التعليق لا يقع الطلاق ما لم يكن كذلك، وإن أراد المكافأة والمجاراة «وفارسيّة حشم رادن» يقع الطلاق وإن لم يكن الزوج كذلك، ومعنى المجاراة بالعربيّة: أني طلقتك مجاراة على مقالتك هذه، ومعنى «خشم رايدن» بالفارسيّة: إنك أغضبتني بهذه المقالة «خشم فيويش باين طريق راندم كه طلاق دادمت» ، وإن لم يكن للزوج نيّة تكلم المشايخ فيه والمختار للفتوى: أنّه إن كان في حالة الغضب يحمل على المكافأة والمجاراة، وإن لم يكن في حالة الغضب يحمل على التعليق.... فإذا قالت لزوجها: ‌يا ‌سفلة، ‌فقال الزوج: إن كنت أنا سفلة فأنتِ طالق وأراد به التعليق لا يقع الطلاق ما لم تكن سفلة.

مختصر القدوري (ص159):

إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض والرجعة أن يقول: راجعتك أو راجعت امرأتي

أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها شهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة.... ‌والطلاق ‌الرجعي لا يحرم الوطء وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في عدتها وبعد انقضاء عدتها.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

06/رجب /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب