| 86268 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
میرا ایک شخص پر 12 لاکھ ڈالر غبن کا دعوی ہے اور مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے ۔چند روز قبل افغانستان میں عدالت کی طرف سے ہم جانبین کوصلح کی ترغیب دی گئی، ہم نے صلح کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کر لیا۔پھر ہمیں مصلحین کی طرف بھیج دیا گیا ،ہم نے مصلحین کو عام اور تا م اختیارات دے دیا کہ وہ ہمارے درمیان صلح کروادیں ۔ بعد میں مصلحین نے دھوکہ کیا اور ہمیں بتائے بغیر اس طرح صلح کروائی کہ بارہ لا کھ مدعیٰ بہ ڈالر ز میں سے ہمارے لئے فقط ایک لاکھ ڈالر رکھ دیےکہ اس پر صلح ہوگئی ہے۔ پھر مصلحین خاموشی سے عدالت کے پاس یہ صلح لے کر چلے گئے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا بغیر ابلاغ کے،یہ صلح مقبول ہے یا نہیں؟ میں کہتا ہوں کہ صلح نہ میں موجود تھا ، نہ ہی مجھے اطلاع دی گئی تھی ، فقط مصلحین کی زبانی مجھے یہ پتہ چلا کہ بارہ لاکھ مدعی ٰبہ ڈالر میں سےایک لاکھ ڈالر پر صلح کرلی گئی ہے۔ کیا غبن کے ساتھ یہ فریب شدہ صلح مقبول ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وضاحت: سوال مذکور میں بہت سے امور قابل ِتنقیح تھے ، سائل سے رابطہ نہ ہوسکا، اس لیے مطلق حکم لکھا جاتا ہے ۔
صورت مسئولہ میں عدالت نے فریقین کو مصلحین کے پاس بھیجا اور فریقین نے مصلحین کے پاس جاکر انہیں مقدمہ بتاکر فیصلہ کرنے کا عام اختیار دےدیا تھا ۔ تو ایسے میں مصلحین نے جو ایک لاکھ ڈالر کا فیصلہ سنایا ہے ،اگر اس قسم کی صورتِ حال میں رقم کی اتنی مقدار پر صلح عرف کے تحت معقول اور قابل قبول ہو تو یہ فیصلہ نافذ اور لازم ہوگا،اور کسی فریق کو رجوع کا اختیار نہ ہوگا ،البتہ اگر اس قسم کی صورت ِحال میں رقم کی اتنی مقدار پر صلح معروف نہ ہو اور اس فیصلہ میں غبن ِفاحش پایا جا رہا ہو تو یہ فیصلہ منسوخ ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص474): الاصل أن حكم المحكم بمنزلة الصلح. (فإن حكم لزمهما) ولا يبطل حكمه بعزلهما لصدوره عن ولاية شرعية.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 273):
قال رحمه الله (ولو ظهر غبن فاحش في القسمة تفسخ) وهذا إذا كانت القسمة بقضاء القاضي فظاهر لأن تصرفه مقيد بالعدل والنظر.
وقال أبو جعفر الهندواني يجوز أن يقال لا تصح هذه الدعوى لأن القسمة بمعنى البيع فلا تنقض
لظهور الغبن الفاحش فيها كما في البيع، وإذا وقعت بالقضاء يجب نقضها بالغبن الفاحش؛ لأنه
حصل بغير رضا المالك
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار(ص475):
(ويمضي) القاضي (حكمه إن وافق مذهبه وإلا أبطله) لأن حكمه لا يرفع خلافا (وليس له) للمحكم (تفويض التحكيم إلى غيره وحكمه بالوقف لا يرفع خلافا) على الصحيح خانية (فلو رفع إلى موافق) لمذهبه (حكم) ابتداء (بلزومه) بشرطه (ولا يمضيه) لأنه لم يقع معتبرا.
(قوله ويمضي حكمه) أي إذا رفع حكمه إلى القاضي إن وافق مذهبه أمضاه وإلا أبطله، وفائدة إمضائه هاهنا أنه لو رفع إلى قاض آخر يخالف مذهبه ليس لذلك القاضي ولاية النقض فيما أمضاه هذا القاضي جوهرة وفي البحر ولو رفع حكمه إلى حكم آخر حكماه بعد فالثاني كالقاضي يمضيه إن وافق رأيه وإلا أبطله.(قوله لأن حكمه لا يرفع خلافا) لقصور ولايته عليهما بخلاف القاضي العام.
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


