| 86308 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
کسی لڑکی کا رشتہ مانگنے اور منظور ہونے کے بعد عام راویت میں ایک رسم منگنی ہوتی ہے، ہم رشتے کے منظور ہونے کی اگر کوئی تقریب یا خوشی کا اظہار کرنا چاہیں تو شرعی طور پر ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
منگنی شرعی اعتبار سے نکاح کرنے کے وعدہ کا نام ہے، اس کا مقصد مستقبل میں ہونے والے نکاح کے عقد کو پختہ کرنا ہوتا ہے، منگنی کے لیے شریعت نے کوئی مخصوص طریقہ مقرر نہیں کیا، لہذا شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے اس موقع پر فریقین کا اپنی استطاعت کے مطابق کھانا تیار کرنا اور ایک دوسرے کو کپڑوں اور نقدی وغیرہ کی صورت میں ہدیہ دینے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ کسی بھی فریق کی طرف سے ہدیہ وغیرہ دینے پر مجبور اور اس کا نہ مطالبہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ مہندی لے جانے اور دیگر ایسی رسوم وغیرہ سے پرہیز کیا جائے، جن سے غیر مسلم یا فساق کے ساتھ مشابت لازم آتی ہو۔
حوالہ جات
شعب الإيمان (7/ 346) مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض:
عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه "
سنن أبي داؤد( ج 2،ص:559)،كتاب اللباس،باب لبس الشهرة:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»
الدر المختار وحاشیة ابن عابدین( 3/ 304) باب المهر، ط: مکتبة زکریا، دیوبند:
(خطب بنت رجل وبعث إلیها أشیاء ولم یزوّجها أبوها فما بعث للمهر یسترد عینہ قائما) فقط وإن تغیر بالاستعمال (أو قیمتہ هالکا) لأنہ معاوضة ولم تتم فجاز الاسترداد (وکذا) یسترد (ما بعث هدیة وهو قائم دون الهالک والمستهلک) لأنہ فی معنی الهبة....(قولہ ولم یزوجها أبوها) مثلہ ما إذا أبت وهی کبیرة ط (قولہ فما بعث للمهر) أی مما اتفقا علی أنہ من المهر أو کان القول لہ فیہ علی ما تقدم بیانہ (قولہ فقط) قید فی عینہ لا فی قائما، واحترز بہ عما إذا تغیر بالاستعمال کما أشار إلیہ الشارح. قال فی المنح لأنہ مسلط علیہ من قبل المالک فلا یلزم فی مقابلة ما انتقص باستعمالہ شیء ح (قولہ أو قیمتہ) الأولی أو بدلا لہ لیشمل المسمی (قولہ لأنہ فی معنی الهبة) أی والهلاک والاستهلاک مانع من الرجوع بها، وعبارة البزازیة؛ لأنہ هبة اہ ومقتضاہ أنہ یشترط فی استرداد القائم القضاء أو الرضا، وکذا یشترط عدم ما یمنع من الرجوع، کما لو کان ثوبا فصبغتہ أو خالطتہ، ولم أر من صرح بشیء من غیر ذلک فلیرجع إلخ .
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
10/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


