| 86356 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہم کل ایک بہن اور دو بھائی ہیں، والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے، والد صاحب نے زندگی میں ایک سنگل سٹور مکان بنوایا تھا، جو کہ والدہ کے نام پر ہے، والد کے انتقال کے بعد میری اور بھائیوں کی شادی ہو گئی، والد صاحب کا ایک پلاٹ تھا، والدہ نے وہ فروخت کر کے ہم تینوں کو حصہ دےدیا، بھائیوں نے اسی مکان پر اس رقم سے اپنا اپنا پورشن بنوا لیا، میں نے بھی اس گھر میں سات لاکھ روپے لگائے تھے، یہ بات 2008ء کی ہے، پھر میں اسی گھر میں رہنے لگی، اب بھائی اس گھر کو فروخت کرنا چاہتے ہیں، بھائی کہہ رہے ہیں کہ آپ اس گھر میں ہی رہ رہی ہو، لہذا آپ کو وہی سات لاکھ روپیہ ہی ملے گا، اس کے علاوہ اس مکان میں سے وراثتی حصہ ملے گا۔ برائے مہربانی اس کا شرعی حل بتا دیجیے۔
وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ والد صاحب کے مکان کے اوپر ہی بھائیوں نے پورشن بنائے تھے اور ابھی تک بھی تینوں بہن بھائی اسی مکان میں رہ رہے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ وارثتی مکان کی تعمیر پر جس بھائی اور بہن نے جتنی رقم خرچ کی ہے وہ اسی حساب سے اس تعمیر کی مالک ہے اور مکان فروخت کرنے کی صورت میں ہر ایک کو اپنی خرچ کی گئی رقم کے تناسب سے نفع میں سے بھی حصہ ملے گا، کیونکہ اس مکان کی تعمیر میں مشترکہ طور پر رقم خرچ کرنے سے یہ تعمیرسب بہن بھائیوں کے درمیان مشترکہ ہو گئی اور فقہی اعتبار سے یہ شرکتِ ملک ہے، جس میں ہر شریک اپنی خرچ کی گئی رقم کے حساب سے مالک ہوتا ہے اور اسی تناسب سے وه حاصل شدہ نفع کا حق دار ہوتا ہے، خواہ وہ اس مکان میں رہائش اختیار کرے یا نہ کرے، لہذا مذکورہ صورت میں آپ کے بھائی کا یہ کہنا درست نہیں کہ آپ نے چونکہ اس مکان میں رہائش اختیار کی ہے اس لیے آپ کو صرف اپنی لگائی گئی رقم ہی ملے گی، بلکہ آپ بھی اپنے بھائیوں کی طرح نئی تعمیر میں اپنی رقم کے تناسب سے اوربقیہ وراثتی مکان میں اپنے شرعی حصہ کے حساب سے اصل اورنفع دونوں کی حق دار ہوں گی۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 56) دار الكتب العلمية،بیروت:
الشركة في الأصل نوعان: شركة الأملاك، وشركة العقود وشركة الأملاك نوعان: نوع يثبت بفعل الشريكين، ونوع يثبت بغير فعلهما. (أما) الذي يثبت بفعلهما فنحو أن يشتريا شيئا، أو يوهب لهما، أو يوصى لهما، أو يتصدق عليهما، فيقبلا فيصير المشترى والموهوب والموصى به والمتصدق به مشتركا بينهما شركة ملك.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 206) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح.
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
11/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


