03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یتیم بچے کا مکان بیچ کر دوسری جگہ خریدکر اس کو مالک بنانے کا حکم
89766نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

میری عمر سات سال تھی، جب میرے والدین کا انتقال ہو گیا، میرے ماموں نے مجھے اپنے دامادادریس کے سپرد کر دیا، کیونکہ ان کے ہاں اولاد نہیں تھی، ادریس صاحب نے میرے والد سے ملنے والے وراثتی گھر کو بیچا اور ان پیسوں سے دوسری جگہ پچاس ہزار روپے کا ایک مکان خریدا اور انہوں نے مجھے کہا کہ بیٹا یہ مکان آپ کا ہے، آپ ہی اس کے مالک ہیں، یہ بات انہوں نے اپنی اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد کے سامنے کی بھی کئی بار کہی تھی کہ یہ مکان محمد حفیظ کا ہے، البتہ قانونی کاغذات میں انہوں نے میرے نام کی بجائے اپنے کروایا، کیونکہ میں اس وقت چھوٹا تھا،  اب ادریس صاحب اور ان کی اہلیہ کا بھی انتقال ہو چکا ہے، میں ساری زندگی ان کے ساتھ رہا اور ان کی ہر طرح کی خدمت کرتا رہا،ان کے علاج معالجہ کے اخراجات بھ برداشت کرتا رہا،  اب ان کے رشتہ دار کہہ رہے ہیں کہ  اس مکان میں ہمارا بھی حصہ ہے، سوال یہ ہے کہ یہ مکان شرعاً کس کا شمار ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یتیم بچے کے مال میں اولاً صرف باپ اور پھر دادا کو تصرف کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے، اگر ان میں سے کوئی تو ان کے وصی کو اختیار ہوتا ہے، اگر وصی بھی نہ ہو تو پھرشریعت نے قاضی کو بچے کے مال میں تصرف کرنے کا اختیار دیا ہے، لہذا اگرادریس صاحب کو آپ کے والد نے آپ کے مال میں تصرف کرنے کا وصی نہیں بنایا تھا تو اس صورت میں شرعاً ان کو آپ کا وراثتی مکان بیچنے کا حق حاصل نہیں تھا، لہذا ادریس صاحب کی طرف سے  آپ کا وراثتی مکان بیچنے پر غصب کے احکام جاری ہوں گے اور ایسی خریدوفروخت کو ختم کر کے وہی مکان آپ کے سپرد کرنا لازم تھا، لیکن جب ادریس صاحب نے ایسا نہیں کیا، بلکہ  دوسرا مکان خرید کر پہلے مکان کے عوض آپ کو اس مکان کا مالک بنا دیا تو گویا انہوں نے بیچے گئے مکان کا ضمان ادا کر دیا، اس لیےشرعاً پہلی خریدفروخت درست ہو گئی، کیونکہ غاصب کی خریدوفروخت شرعاً ضمان  ادا کرنے سے درست ہو جاتی ہےاور آپ دوسرے مکان کے مالک بن گئے، کیونکہ یتیم کے ولی اور پرورش کرنے والے شخص کا قبضہ شرعاً یتیم کا قبضہ شمار ہوتا ہے، لہذا ادریس صاحب کے قبضہ کرنے سے آپ دوسرےمکان کے مالک اورقابض شمار ہوں گے، اگرچہ قانونی طور پر یہ مکان آپ کے نام نہ ہو، کیونکہ شرعی ملکیت زبانی یا تحریری طور پر مالک بنانے اور قبضہ دینے سے حاصل ہو جاتی ہے۔ لہذا اب یہ مکان ادریس صاحب کی وراثت نہیں ہے اور نہ ہی ان کے ورثاء میں سے کسی کو اس میں مطالبے کا حق حاصل ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (6/ 714) دار الفكر-بيروت:

"الولاية في مال الصغير للأب ثم وصيه ثم وصي وصيه ولو بعد، فلو مات الأب ولم يوص فالولاية لأبي الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه، فإن لم يكن فللقاضي ومنصوبه".

حاشية ابن عابدين(ص:711،ج:6،کتاب الوصایا،باب الوصی،ط:ایج ایم سعید):

 "وفي الزيلعي والقهستاني الأصح لا لأنه نادر، وجاز بيعه عقار صغير من أجنبي لا من نفسه بضعف قيمته، أو لنفقة الصغير أو دين الميت، أو وصية مرسلة لا نفاذ لها إلا منه، أو لكون غلاته لا تزيد على مؤنته، أو خوف خرابه أو نقصانه، أو كونه في يد متغلب درر وأشباه ملخصا قلت: وهذا لو البائع وصيا لا من قبل أم أو أخ فإنهما لا يملكان بيع العقار مطلقا ولا شراء غير طعام وكسوة، ولو البائع أبا فإن محمودا عند الناس أو مستور الحال يجوز.

 (قوله أو خوف خرابه) تقدم في عقار الكبير الغائب أن الأصح أنه لا يبيعه لذلك، والظاهر أنه لا يجري التصحيح هنا لأن المنظور إليه هذا منفعة الصغير ولذا جاز هنا في بعض هذه الصور ما لا يجوز في عقار الكبير تأمل (قوله أو كونه في يد متغلب) كأن استرده منه الوصي ولا بينة له وخاف أن يأخذه المتغلب منه بعد ذلك تمسكا بما كان له من اليد فللوصي بيعه وإن لم يكن لليتيم حاجة إلى ثمنه ... (قوله مطلقا) أي ولو في هذه المستثنيات، وإذا احتاج الحال إلى بيعه يرفع الأمر إلى القاضي."

بدائع الصنائع  (ص:١٥٥،ج:5،کتاب البیوع،فصل فی ترتیب الولایة،ط:دار الكتب العلمية):

"وليس لمن سوى هؤلاء من الأم والأخ والعم وغيرهم ولاية التصرف على الصغير في ماله؛ لأن الأخ والعم قاصرا الشفقة وفي التصرفات تجري جنايات لا يهتم لها إلا ذو الشفقة الوافرة، والأم وإن كانت لها وفور الشفقة لكن ليس لها كمال الرأي لقصور عقل النساء عادة فلا تثبت لهن ولاية التصرف في المال ولا لوصيهن؛ لأن الوصي خلف الموصي قائم مقامه فلا يثبت له إلا قدر ما كان للموصي وهو قضاء الدين والحفظ لكن عند عدم هؤلاء.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 69) الناشر: دار الفكر،بیروت:

وفي مجموع النوازل: بيع المغصوب موقوف إن أقر به الغاصب أو كان للمغصوب منه بينة عادلة، فلو أجاز تم البيع وإلا فلا.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 106) الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:

لو باع الغاصب المغصوب، ثم أدى الضمان نفذ بيعه ولو أعتقه، ثم أدى الضمان لا ينفذ عتقه لما ذكرنا وكذا لو باعه الغاصب فأعتقه المشتري منه، ثم أدى الغاصب الضمان صح بيع الغاصب وبطل عتقه لما بينا ولهما أن الملك ثبت موقوفا بتصرف مطلق مفيد للملك بالوضع ولا ضرر فيه على ما مر فيتوقف الإعتاق مرتبا عليه وينفذ بنفاذه وصار كإعتاق المشتري من الراهن فإنه يتوقف وينفذ بإجازة المرتهن المبيع وكإعتاق المشتري من الوارث والتركة مستغرقة بالدين فأجازت الغرماء البيع أو إعتاق الوارث عبدا من التركة وهي مستغرقة بالدين فقضى الدين أو أبرأ الغرماء.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 126) الناشر: دار الكتب العلمية:

(وجه) الاستحسان أن قبض الهبة من التصرفات النافعة المحضة فيملكه الصبي العاقل كما يملك وليه ومن هو في عياله وكذا الصبية إذا عقلت جاز قبضها.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

21/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب