03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کام کے عوض رشوت کی رقم رکھنے کا حکم
86284جائز و ناجائزامور کا بیانرشوت کا بیان

سوال

سوال:میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ آرڈرز بنانا افسر کا کام ہے لیکن وہ مجھ سے آرڈرز بنواتا ہےاور اپنی پوسٹ کے دوسرے کام بھی مجھ سے کرواتا ہے جو کہ میرا کام نہیں ہے۔ لیکن میں اس کا کام کرنے پر مجبور ہوں،اگر نہیں کروں گا  تو وہ  مجھے تنگ کرے گا،میری  اے ۔سی۔ آر خراب کر دے گا۔اس طرح میری ترقی میں مسئلہ بنے گا  اور نوکری جانے کا بھی  خطرہ  ہے۔ میں اپنا کام بھی کرتا ہوں اور اس افسر کا  کام بھی کرتا ہوں۔ اب افسر رشوت لیتا ہے اور کچھ رقم یونٹ کے ملازمین میں بھی  بانٹتا ہے۔میرے لیے وہ رقم لینا کیسا ہے؟ جو کام میں اپنی پوسٹ  کے علاوہ افسر کا بھی کر رہا ہوں،کیا اس کی مد میں یہ رشوت کی رقم  رکھ سکتا ہوں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

رشوت لینا جائز نہیں ہے،جبکہ اجرت لینا جائز ہے۔نیز جائز اجرت رشوت کےمتعین  پیسوں سے لینا  بھی جائز نہیں ہے۔لہذا آپ رشوت کی تقسیم میں آنے والے حصے کے لینے سے انکار کریں اور اجرت لینی ہے تو اس  کا الگ سے معاہدہ کریں،پھر اگر اس کی غالب آمدنی حلال ہے تو اس مخلوط آمدنی سے اپنی اجرت لینا آپ کے لیے جائز ہوگا۔لیکن اگر یہ یقین ہو کہ مجھے دی جانے والی رقم رشوت کی ہے تو پھر لینا جائز نہ ہوگا۔

حوالہ جات

أخرج الامام أبو داود رحمہ اللہ تعالی  عن عبدالله بن عمرو رضی اللہ تعالی قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشى.(سنن أبي داؤ:148/2)

        قال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة.

الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه.

 الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط...

الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب.(رد المحتار: 5/ 362)

          وقال أصحاب الفتاوی الہندیۃ:آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها. ( الفتاوى الهندية:5/397(

       وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى ،فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها،أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها ...وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب... (رد المحتار:490/7)

جنید صلاح الدین

دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

11/رجب المرجب6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب