| 86279 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
میرے والد صاحب کا آج سے تقریباً 20سال قبل انتقال ہو ا تھا اور والدہ بھی تقریباً 8 سال قبل وفات پا چکی ہیں ۔ ہم پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں جو سارے شادی شدہ ہیں، وراثت میں ہمیں 347 مرلہ زمین ملی اب ہم آپس میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ ایک زمین سمیت جو منقولہ و غیر منقولہ مال ،جائیداداورسازوسامان چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سےسب سے پہلا حق مرحوم کے تجہیز وتکفین کاہے اس کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ء ہو تو اس کو ادا کیاجائے گا،پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال میں سےوہ ایک تہائی تک ادا کیا جائےگا۔
اس کے بعد اس ساری زمین کےکل 13 حصےکیے جائیں گے،ان میں سے دو دوحصےمرحوم کےہر بیٹے کو ،اورایک ایک حصہ مرحوم کی ہر بیٹی کو دیا جائے گا۔آسانی کےلیے نقشہ ملاحظہ فرمائیں :
|
نمبر شمار |
ورثہ |
کل:13حصے |
فیصد میں |
زمین (مرلہ میں ) |
|
1 |
بیٹا |
2 |
15.38% |
53.38 |
|
2 |
بیٹا |
2 |
15.38% |
53.38 |
|
3 |
بیٹا |
2 |
15.38% |
53.38 |
|
4 |
بیٹا |
2 |
15.38% |
53.38 |
|
5 |
بیٹا |
2 |
15.38% |
53.38 |
|
6 |
بیٹی |
1 |
7.69% |
26.69 |
|
7 |
بیٹی |
1 |
7.69% |
26.69 |
|
8 |
بیٹی |
1 |
7.69% |
26.69 |
اگر والدہ کے انتقال کے وقت ان کے والدین میں سے کوئی زندہ نہیں تھا تو درج بالا تقسیم ہی کا اعتبار ہوگا ۔اگر والدہ کے والدین میں سے کوئی زندہ تھا تو ان کی تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ بھیجے۔
حوالہ جات
قال اللہ تبارک وتعالی :يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَولَٰدِكُم لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَین.(النساء:11)
قال العلامۃ سراج الدین رحمہ اللہ :وأما للأخوات لأب وأم فأحوال خمس ...ومع الأخ لأب وأم للذکر مثل حظ الأنثیین ،یصرن بہ عصبۃ؛لاستوائھم فی القرابۃ إلی المیت .
قال العلامۃ شمس الأئمۃ السرخسی رحمہ اللہ :وعند اختلاط الذكور بالإناث يكون المال بينهم للذكر مثل حظ الأنثيين ثبت بقوله تعالى {وإن كانوا إخوة رجالا ونساء فللذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 176].( المبسوط للسرخسي: 29/ 156)
ارشاد احمدبن عبد القیوم
دار الافتاءجامعۃالرشید ،کراچی
11 /رجب المرجب1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ارشاد احمد بن عبدالقیوم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


