| 86293 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
اسلام علیکم میرے والد نے ایک مجلس میں میری والدہ کو تین بار "طلاق" کے الفاظ کہے تھے۔ تاہم، اس وقت وہ نشے کی حالت میں تھے۔ بعد میں، میرے والد نے ایک عالم کو بلایا اور والدہ کے خاندان والوں سے بات کی، یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں واقع نہیں ہوتیں۔ اس وضاحت کے بعد میرے والدین نے رجوع کر لیا تھا اور دوبارہ ساتھ رہنے لگے۔ اب میں اس معاملے میں الجھن کا شکار ہوں اور رہنمائی چاہتی ہوں کہ آیا یہ رجوع درست تھا یا نہیں اور شریعت کی روشنی میں اس کا حکم کیا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نشہ کی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے، لہذا اگر آپ کے والد نے نشہ کی حالت میں تین طلاقیں دی ہیں تو آپ کی والدہ پر فقہ حنفی، ائمہ اربعہ اور سعودیہ عرب کی لجنہ فقہیہ کے فتوی کے مطابق تین طلاقیں واقع ہو چکی تھیں، رجوع اور تجدید نکاح کی گنجائش نہیں تھی ۔ان کاکسی عالم کے کہنے پر رجوع کرنا ایک مرجوح قول ہے جو شرعاً درست نہیں ۔ ان کو فوری طور پر الگ ہو جانا چاہیے ، تین طلاقیں دینے کے بعد اب تک جو عرصہ ساتھ گزارا، اس پر تو بہ واستغفار کریں ۔ اب ان کا دوبارہ نکاح اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ آپ کی والدہ اپنی عدت پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہوا اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک ) گزار کر کسی اور سے نکاح اور ازدواجی تعلق قائم کریں۔ پھر اگر وہ دوسرا شوہر انہیں طلاق دے دے، یا وہ خلع لے لیں، یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے، تو عدت گزارنے کے بعد وہ آپ کے والد سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہیں۔ لیکن یہ دوسرا نکاح باقائدہ شرط لگا کر کرنا حرام ہے اور اس پر لعنت آئی ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے والدین سے اس مسئلے پر نہایت ادب احترام اور نرمی سے بات کریں، انہیں واضح اور آسان الفاظ میں سمجھائیں کہ شرعی احکامات پر عمل کرنے میں ہی ان کی دنیا و خرت کی بھلائی ہے ، انہیں بتائیں کہ ان کا ایک ساتھ رہنا شر عادرست نہیں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالی انہیں ہدایت اور صبر عطاء فرمائے ۔ امید ہے والدین آپ کی بات کا سمجھیں گے ۔خدانخواستہ وہ عمل نہ کریں تو آپ گناہ گار نہ ہوں گے ۔
حوالہ جات
[وفی القرآن الکریم :]فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (230)
(قال): وخلع السكران وطلاقه وعتاقه واقع عندنا. (المبسوط للسرخسي :6/ 176)
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران ....( رد المحتار :3/ 235)
وأما السكران إذا طلق امرأته فإن كان سكره بسبب محظور بأن شرب الخمر أو النبيذ طوعا حتى سكر وزال عقله فطلاقه واقع عند عامة العلماء وعامة الصحابة رضي الله عنهم. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:3/ 99)
وفي الهندية :
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز. (الفتاوى الهندية:1/ 473)
(قال) ولا تحل له المرأة بعد ما وقع عليها ثلاث تطليقات حتى تنكح زوجا غيره يدخل بها والطلاق محصور بعدد الثلاث ولا خلاف بين العلماء أن بيان التطليقتين في قوله تعالى {الطلاق مرتان} [البقرة: 229] وإنما اختلفوافي الثالثة فقيل هي في قوله {أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229]. (المبسوط للسرخسي :6/ 9)
(قوله وكره بشرط التحليل للأول) أي كره التزوج للثاني بشرط أن يحلها للأول بأن قال تزوجتك على أن أحللك له أو قالت المرأة ذلك أما لو نويا كان مأجورا لأن مجرد النية في المعاملات غير معتبر، وقيل المحلل مأجور، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر كذا في البزازية، والمراد بالكراهة كراهة التحريم فينتهض سببا للعقاب. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق :4/ 63)
وأما السكران :أما إذا كان سكره من طريق محرم، بأن شرب المسكر باختياره من غير حاجة أو ضرورة حتى سكر، فقد اختلف الفقهاء في اعتبار ظهاره بناء على اختلافهم في اعتبار طلاقه، فمن قال منهم باعتبار طلاقه قال باعتبار ظهاره، وهم أكثر الحنفية، ومالك، والشافعي وأحمد في رواية. (الموسوعة الفقهية الكويتية:29/ 203)
عبدالوحیدبن طاہر
دارالافتاءجامعہ الرشید ،کراچی
١١رجب المرجب ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالوحید بن محمد طاہر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


