| 86298 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
السلام علیکم ! میری شادی 2023 میں ہوئی تھی ، میرا شوہر کے ساتھ اچھا تعلق تھا ، پھر ان کے گھر والوں سے یہ برداشت نہیں ہوا ،اچانک سے میرے شوہر کا رویہ میرے ساتھ تبدیل ہوگیا اور میرے گھر والوں کی طرف سے خلع کا دباؤ بڑھنے لگا ، جبکہ میرا شوہر مجھے خلع یا طلاق نہیں دینا چاہتے تھے ۔پھر بات بڑھتے بڑھتے اتنی بڑھ گئی کہ میرے اور ان کے گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے ہمارے درمیان خلع واقع ہوگیا ، جبکہ نہ میں چاہتی تھی نہ میرا شوہر ،پر میں اس خلع کے لیے راضی نہیں ہوں ۔اب عدت گزارنےکے بعد حلالہ کےبغیر اپنے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر خلع کے دوران تین طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے صرف خلع کا لفظ استعمال ہوا ہے تو خلع ایک طلاق بائن ہے،خلع کے بعد عورت عدت کے اندریا عدت کے بعد سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے،حلالہ کی ضرورت نہیں۔البتہ اگر خلع کے وقت شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں یا خلع سے تین طلاق کی نیت کی تھی تو حلالہ شرعی کے بغیر دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔
حوالہ جات
قال العلامة الحصكفي رحمه الله:(و) حكمه أن (الواقع به) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصريح (على مال طلاق بائن).
قال العلامة ابن عابدین رحمه الله:قوله:( أن الواقع به) أي بالخلع ولو بلفظ البيع والمبارأة ،بحر.
قوله: )والخلع من الكنايات) لأنه يحتمل الانخلاع عن اللباس، أو الخيرات، أو عن النكاح عناية، ومثله المبارأة (قوله: فيعتبر فيه ما يعتبر فيها) ويقع به تطليقة بائنة إلا إن نوى ثلاثا فتكون ثلاثا . (الدرالمختار مع ردالمحتار:3/444)
و فی الھندیۃ:(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين.(فتاوی الھندیۃ:1/488)
محمد یونس بن امین اللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
11/رجب المرجب، 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


