| 86291 | زکوة کابیان | عشر اور خراج کے احکام |
سوال
میں نے رواں سال آلو کی فصل کاشت کی جس کی آمدنی منڈی میں بک جانے کے بعد 6لاکھ بیس ہزار روپے تھی جبکہ فصل کے کل اخراجات 7 لاکھ کے قریب تھے، اس صورتحال میں عشر واجب ہوگا کہ نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عشر زمین کی پیداوار کی زکاۃہےاور عشر کے باب میں کوئی حد مقرر نہیں ہے، پیداوار کم ہو یا زیادہ، دونوں صورتوں میں پیداوار پر عشر لازم ہو گا۔اگر زمین بارانی یا نہری ہو یعنی بارش کےپانی سے سیراب ہوتی ہے توکل پیداوا کا دسواں حصہ( 10%) دینا واجب ہوتا ہے اور اگر زمین کو پانی لگانے میں رینٹ وغیرہ کا خرچہ آتا ہے (مصنوعی آب رسانی کے آلات مثلا ٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب کیا جاتا ہے )تو کل پیداوا کا بیسواں حصہ ( 5%) دینا واجب ہوتا ہے ۔لہذا مذکورہ صورت میں اگر آپ کی زمین سال کے اکثر حصے میں قدرتی آبی وسائل یعنی بارش، ندی، چشمہ وغیرہ سے سیراب کی جاتی ہے تو اس میں عشر یعنی کل پیداوار کا دسواں حصہ واجب ہو گا، اور اگر وہ زمین مصنوعی آب رسانی کے آلات و وسائل یعنی ٹیوب ویل یا خریدے ہوئے پانی سے سیراب کی جاتی ہے تو اس میں نصف عشر یعنی کل پیداوار کا بیسواں حصہ واجب ہو گا۔
حوالہ جات
وفي الهندية:وهو فرض وسببه الأرض النامية بالخارج حقيقة .....الخ(الفتاوى العالمكيرية :1/ 185)
ويجب العشر عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة والشعير والدخن والأرز، وأصناف الحبوب والبقول......وما سقي بالدولاب والدالية ففيه نصف العشر، وإن سقي سيحا وبدالية يعتبر أكثر السنة فإن استويا يجب نصف العشر كذا في خزانة المفتين. ..الخ۔
(الفتاوى العالمكيرية :1/ 186)
وما سقي بقرب أو دالية أو ساقية، ففيه نصف العشر....الخ.( المحيط البرهاني:2/ 327)
و تجب في (مسقي سماء) أي مطر (وسيح) كنهر...(و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة.( رد المحتار :2/ 326)
ويجب العشر عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة والشعير والدخن والأرز،.... وأشباه ذلك مما له ثمرة باقية أو غير باقيةقل أو كثر الخ ۔(«الفتاوى العالمكيرية :1/ 186)
قال أبو جعفر: كان أبو حنيفة يقول: في قليل الثمار والزروع، وفي كثيرها الصدقة، فإن كانت مما سقته السماء أو سقي فتحًا: فالعشر، وإن سقي بدالية أو سانية: فنصف العشر.( شرح مختصر الطحاوي:2/ 287)
عبدالوحیدبن محمدطاہر
دارالافتاءجامعہ الرشید ،کراچی
١١رجب المرجب ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالوحید بن محمد طاہر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


