| 86313 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں نے یہ سناہے جنین میں چارمہینہ کے بعدروح پھونک دی جاتی ہے،چارمہینہ سے پہلے حمل ساقط کرناجائزہے،اس کے بعد جائزنہیں،کیایہ درست ہے؟نیزاگرکسی خاتون کوکوئی بیماری ہے توکیاوہ حمل ساقط کرسکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حمل کے چارہ ماہ مکمل ہونے سے پہلے کسی معقول عذرکی وجہ سے حمل ساقط کرناجائزہے ،جیسے عورت بچہ کودودھ پلاتی ہواورحمل کی وجہ سے دودھ خشک ہوجائے اورمتبادل انتظام نہ ہوسکتاہو یاعورت اس کی وجہ سے بہت زیادہ کمزورہوجائے یاکسی اوربڑی بیماری میں مبتلاہوتوایسے کسی معقول عذرکی وجہ سے چارماہ سے پہلے پہلے حمل ساقط کراناجائزہے،البتہ کسی معقول عذرکے بغیر حمل ساقط کراناجائزنہیں ،چارماہ مکمل ہونے کے بعدکسی بھی صورت میں اسقاط حمل کی اجازت نہیں۔
حوالہ جات
رد المحتار (ج 26 / ص 413):
"وفي الذخيرة : لو أرادت إلقاء الماء بعد وصوله إلى الرحم قالوا إن مضت مدة ينفخ فيه الروح لا يباح لها وقبله اختلف المشايخ فيه والنفخ مقدر بمائة وعشرين يوما بالحديث قال في الخانية : ولا أقول به لضمان المحرم بيض الصيد لأنه أصل الصيد ، فلا أقل من أن يلحقها إثم وهذا لو بلا عذر."
الفتاوى الهندية (ج 44 / ص 8):
"امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين ."
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۱/رجب ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


