| 86347 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
ایک امام مسجد کے انتخاب میں کن چیزوں اور خوبیوں کو دیکھنا چاہئیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
امامت کا منصب حقیقت میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نیابت کا منصب ہے،اس لیے امام خود بھی متقی پرہیزگار خدا ترس ہو۔ امت کا غم اور قوم کی اصلاح کی فکر رکھتا ہو، عبادات وغیرہ سنت کے مطابق صحیح اداء کرتاہو اور قوم کے اندر بھی اس جذبہ کو بیدار کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہو، خود بھی بدگمانی بدزبانی غیبت جھوٹ جیسے کبائرسے دور رہے اور دیگر مسلمانوں کو بھی ان گناہوں سے بچانے کی فکر رکھے ، امام دینی علوم کا ماہر ہو تاکہ لوگوں کو ان کے روز مرہ کے پیش آمدہ مسائل کا شرعی حل بتاسکےاور ان کے عقائد ونظریات کی حفاظت کرسکے، یا کم ازکم مسائل نماز سے واقف ہواور قرآن شریف قواعدِ تجوید کی رعایت کے ساتھ پڑھ سکتا ہو،یہ جملہ اوصاف اور ذمہ داریاں منصب امامت کی ہیں،باقی ہر امام پر خاص وہ ذمہ داریاں جواس کے فرائض منصبی کی بابت،معروف طریقے سے اس کی تقرری کے وقت مسجد کمیٹی کے ساتھ طے پائی ہوں ان کو پورا کرنا بھی اس کے ذمہ لازم ہے،نیز قوم کی ذمہ داری بھی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ان کے ادب واحترام کو ملحوظ رکھے، اپنے کسی طرز وانداز سے ان کے احترام کو پامال نہ کرے،اور ان کی ضروریات ،علمی قابلیت اور صلاح وتقوی کو ملحوظ رکھ کر معقول مشاہرہ اور تنخواہ کا انتظام کرے۔
حوالہ جات
الدر المختاروحاشیہ ابن عابدین (4/219):
ويجب على الإمام أن يتقي الله تعالى ويصرف إلى كل مستحق قدر حاجته من غير زيادة فإن قصر في ذلك كان الله تعالى عليه حسيبا. اهـ. وفي البحر عن القنية: كان أبو بكر - رضي الله تعالى عنه - يسوي في العطاء من بيت المال، وكان عمر - رضي الله تعالى عنه - يعطيهم على قدر الحاجة والفقه والفضل، والأخذ بهذا في زماننا أحسن فتعتبر الأمور الثلاثة اهـ أي فله أن يعطي الأحوج أكثر من غير الأحوج، وكذا الأفقه والأفضل أكثر من غيرهما وظاهره أنه لا تراعى الحاجة في الأفقه والأفضل، وإلا فلا فائدة في ذكرهما، ويؤيده أن عمر - رضي الله تعالى عنه - كان يعطي من كان له زيادة فضيلة، من علم، أو نسب أو نحوه ذلك أكثر من غيره، وفي البحر أيضا عن المحيط والرأي إلى الإمام من تفضيل وتسوية من غير أن يميل في ذلك إلى هوى، وفيه عن القنية وللإمام الخيار في المنع والإعطاء في الحكم.
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
11/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


