| 86330 | زکوة کابیان | صدقات واجبہ و نافلہ کا بیان |
سوال
میری ماہانہ تنخواہ 65 ہزار ہے۔ میرے پانچ بچے ہیں، تین اسکول جاتے ہیں اور میرے گھر کے اخراجات بھی زیادہ ہیں ۔ جب تقریبا 8 سال پہلے میں امی ابو سے الگ ہوا تھا تب سے لے کے اب تک میرا گھر سیٹ نہیں ہوا ، بلکہ قرض دار ہوتا گیا۔ اب بھی مجھ پر تقریبا 5 لاکھ روپے قرض ہے۔ کیا میں زکوۃ اور صدقہ لے سکتا ہوں؟ تا کہ میں اپنا قرض اتار سکوں.
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر آپ کے ذمہ قرض ہے اور آپ صاحبِ نصاب نہیں ہیں، یعنی آپ کے پاس اتنا سونا، چاندی، نقدی، یا ضرورت سے زائد اشیاء موجود نہیں کہ ان سب یا بعض کےمجموعے کی مالیت سے واجب الادا قرض کی رقم الگ کرنے کے بعد بھی نصابِ زکوٰۃ (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تقریبا) 168000) کے برابر مال باقی نہ رہے، تو ایسی صورت میں آپ کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے۔
جبکہ نفلی صدقات کسی بھی خیر کے کام میں خرچ کیے جا سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی رضا مندی سے آپ کو نفلی صدقات دے تو ان کا قبول کرنا بھی آپ کے لیے جائز ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 189):
«لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي. ولا يدفع إلى مملوك غني غير مكاتبه كذا في معراج الدراية.»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 47):
«وأما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة،»
«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (2/ 277):
(ولا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا من أي مال كان) لأن الغنى الشرعي مقدر به، والشرط أن يكون فاضلا عن الحاجة الأصلية وإنما شرط الوجوب (ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من ذلك وإن كان صحيحا مكتسبا) لأنه فقير والفقراء هم المصارف، ولأن حقيقة الحاجة لا يوقف عليها فأدير الحكم على دليلها وهو فقد النصاب
جمیل الرحمن
دار الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی
11/رجب 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


