| 86409 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
بکر ایک حافظِ قرآن ہے، اور وہ رمضان المبارک کے اندر بچوں کو ایک ختم شریف پڑھنے کے لیے لے گیا۔ جن کے ہاں ختم کے لیے گیا، وہ قادیانی تھے، اور بکر ان کو جانتا بھی تھا۔ ان کے ساتھ چند سالوں سے اچھی خاصی دوستی بھی تھی۔
بکر جو بچے لے گیا قرآنِ پاک پڑھنے کے لیےوہ زید سے لے گیا۔ جب بچے ختم پڑھ کر واپس لوٹے، تو انہوں نے آ کر ساری روداد بتائی۔ سائل نے پھر بکر سے بات چیت کی، تو بکر مان گیا کہ واقعی وہ قادیانیوں کے ختم پڑھنے کے لیے گیا تھا اور ان کے لیے دعائے مغفرت بھی کی۔
جب یہ بات ہوئی تو سائل نے زید سے بات کرنا چاہی، تو زید بکر کی حمایت میں کھڑا ہو گیا، اور اس نے باقاعدہ جو جو بھی بکر کی مخالفت کر رہے تھے، ان کے ساتھ اپنی دشمنی اپنا لی اور بکر کی حمایت میں کھڑا ہو گیا۔
اب شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے بکر کے بارے میں اور زید کے بارے میں؟ کہ اب بکر پر کیا حکم لگے گا اور زید پر کیا حکم لگے گا؟ اور ان دونوں کی اصلاح کرنے کے باوجود، دونوں نے توبہ بھی نہیں کی اور دونوں اس پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ ہم ایسا ہی کریں گے۔ تو شریعتِ مطہرہ اس میں کیا فرماتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ قادیانی زندیق اور مرتد ہیں ،جن کا حکم عام کافر سے بھی زیادہ سخت ہے ۔ان کے ساتھ کسی بھی طریقے سے تعلق رکھنا جائز نہیں ،ان کے ہاں جاکر قرآن کی تلاوت کرنا اور کے لیۓ مغفرت کی دعا کرنا نا جائز اور حرام ہے ۔ لہذا صورت مسئولہ میں زید اور بکر اگر ان کے کفریہ عقائد سے واقف ہوکر ان کو صحیح سمجھ کر ان کے ہاں قرآن پڑھنے جاتے ہیں، اور ان کےلیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں تو وہ مرتد اور اسلام سے خارج ہیں، اور اگر وہ ان کے عقائد سے متفق نہیں ہیں اور نہ ان کو اچھا سمجھتے ہیں ، بلکہ صرف میل جول رکھتے ہیں تب بھی جائز نہیں اور وہ سخت مجرم اور فاسق ہیں ، کیونکہ اس میں کئی مفاسد ہیں:
۱۔ اس میں قادیانیوں کے ساتھ تعاون ہے۔
۲۔اس طرح کے معاملات میں عوام قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھنے لگتے ہیں۔
۳۔اس طرح قادیانیوں کو اپناجال پھیلانے کے مواقع ملتے ہیں۔
لہذا مسؤلہ صورت میں زید اور بکر کو حکمت کیساتھ بار بار سمجھانا چا ہیے ، اگر پھر بھی وہ باز نہ آئیں تو ان سے قطع تعلق کی بھی اجازت ہے۔
حوالہ جات
(المائدۃ:2):
قال اللہ تعالی:( وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ)
[محمد: 34]
{ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ مَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ }
(آل عمران:28)
﴿ لَايَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقَاةً وَّيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّٰهِ الْمَصِيرُ﴾.
(رد المحتار:4 /242)
قال العلامة ابن عابدين الشامي رحمه الله تعالى: فإن الزنديق يموه كفره ويروج عقيدته الفاسدة ويخرجها في الصورة الصحيحة۔
تكملة فتح الملهم،باب تحريم الهجر فوق ثلاث بلا عذر شرعي۔ (355/5)
ثم إن الهجران الممنوع إنما هو كان لسبب دنيوي،أما إذا كان لسبب فسق المرء وعصيانه،فأكثرالعلماء على جوازه.
احسن الفتاوی (کتاب الایمان والعقائد،قادیانیوں سے تعلق رکھنے کا حکم )(46/1 (
ایسا شخص جو صوم صلوٰۃ کا پابند ہے، لیکن اس کے تعلقات قادیانی جماعت کے ساتھ ہیں، اگر وہ دل سے بھی ان کو اچھا سمجھتا ہو، تو وہ مرتد ہے اور بلا شبہ خنزیر سے بدتر ہے ، اس سے تعلقات رکھنا ناجائزہے ، اگر وہ مسجد کے لیے چندہ دیتا ہے تو اسے وصول کرنا جائز نہیں ۔ اور اگر وہ قادیانیوں کے عقائد سے متفق نہیں اور نہ ہی ان کو اچھا سمجھتا ہے ، بلکہ صرف تجارت وغیرہ ، دنیوی معاملات کی حد تک ان سے تعلق رکھتاہے، تو یہ شخص مرتد نہیں ، البتہ بہت سخت مجرم اور فاسق ہے.
جمیل الرحمن
دار الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی
13/رجب 6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


