03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تعمیر کے بعد موروثی مکان کی تقسیم میں کونسی قیمت معتبر ہوگی؟
86708میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں، ہمارے والد کا انتقال 2015 میں ہوا، انہوں نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا اور ریٹائرمنٹ کی کچھ رقم جو کہ ان کے انتقال کے بعد 2019میں ملی، جب وہ رقم ملی تو ہم نے اس کا وہ حصہ جو بہن کا بنتا تھا بشمول مکان کی ویلیو جو اس وقت بنتی تھی ادا کر دیا(تینوں بھائیوں نے)، مکان کی حالت بہت خراب تھی اس لیئے 2021 کے آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ اسے گرا کر دوبارہ تعمیر کیا جائے، 2022جنوری میں کام شروع ہوا تو ایک بھائی نے کہا کہ میں اس تعمیر میں شامل نہیں ہوں گا، تعمیر شروع ہونے کے بعد ہماری والدہ کا انتقال اپریل 2022 میں ہو گیا، اب وہ بھائی جو تعمیر میں شامل نہیں تھا اپنا حصہ الگ کرنے کا کہہ رہا ہے۔ اس کی ترتیب کس طرح ہو گی، جب وہ الگ ہوا اس وقت کے مطابق یا آج کی ویلیو کے مطابق؟واضح رہے کہ بھائی کے حصے کی ادائیگی یکمشت نہیں کی جائےگی،  قسطوں میں ادائیگی کی جائے گی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس مکان کی آج کی ویلیو کے مطابق کل مالیت ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی،جن بھائیوں نے اپنے لیے اس میں تعمیرات کی ہیں تو اس تعمیر کے بدلےاضافی طور پر  ملبے کی بقدر قیمت ملے گی ۔قسطوں میں رقم لینے پر بھائی راضی ہوتو اس کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 314 ) :

 إذا عمر أحد الشريكين الملك المشترك ففي ذلك احتمالات أربعة: ...

الاحتمال الثاني :إذا عمر أحدالشريکين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا۔

الاحتمال الرابع - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة. انظر شرح المادة (529) ما لم يكن رفعها مضرا بالأرض ففي هذا الحال يمنع من رفعها.

درر الحكام في شرح غرر الأحكام(2/ 243) :

 (صح الإعارة) أي إعارة الأرض (للبناء والغرس) ؛ لأن منفعتها معلومة تملك بالإجارة فتملك بالإعارة (وله) أي للمعير (أن يرجع) ؛ لأن الإعارة ليست بلازمة (ويكلف قلعهما) أي البناء والغرس؛ لأنه شاغل أرضه بملكه فيؤمر بالتفريغ إلا إذا شاء أن يأخذهما بقيمتهما إذا استضرت الأرض بالقلع فحينئذ يضمن له قيمتهما مقلوعين، ويكونان له ؛كي لا تتلف أرضه عليه ،ويستبد ذلك به؛ لأنه صاحب أصل، وإذا لم تستضر به لا يجوز الترك إلا باتفاقهما، ولا يشترط الاتفاق في القلع، بل أيهما طلبه أجيب (وضمن رب الأرض ما نقص) البناء والغرس بالقلع (إن وقت) لعارية؛ لأنه مغرور من جهته حيث وقت له والظاهر هو الوفاء بالعهد فيرجع عليه دفعا للضرر عن نفسه (وكره) أي الرجوع (قبله) أي قبل وقت عين؛ لأن فيه خلف الوعد۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

27/ رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب