| 86339 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
مستحق کوقرض دیتے وقت زکوٰۃ کی نیت کرنا اگر وہ واپس نہ کرے کیا زکوٰۃ ہوجائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زکوٰۃ کی ادائیگی کے درست ہونے کے لئے ضروری ہے کہ رقم الگ کرتے وقت یا ادائیگی کے وقت زکوٰۃ کی نیت ہو اور جس شخص کو دی جارہی ہو وہ مستحق ہو، اسی طرح اس کو مالک بناکر دی جائے،چاہے کسی بھی عنوان(مثلاً قرض یا ہدیہ وغیرہ کے نام ) سے دی جائے۔ لہذا مذکورہ صورت میں قرض دیتے وقت اگر واپس لینے کی نیت ہو،تو یہ زکوٰۃ درست نہیں ہوگی، چاہے مقروض واپس کرے یا نہ کرے ۔
لیکن اگر زکوٰۃ کی نیت سے دی جائے اور نام قرض کا ہو تو زکوٰۃ ادا ہوجائیگی،کیونکہ زکوٰۃکی ادائیگی کے لیے رقم ادا کرتے وقت یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکوٰۃکی رقم ہے ۔البتہ مقروض سے واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتے، کیونکہ اب اس رقم کا مالک مستحق(جس کو زکوۃ دی جائے) ہے ۔ خلاصہ یہ کہ دونوں نیتیں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں،کوئی ایک متعین نیت کرنا اور پھر اس کے مطابق عمل کرنا لازم ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 171):
ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلا عن المبتغى والقنية.
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 174):
وشرط أدائها) أي كونها مؤداة (نية) ؛ لأنها عبادة فلا تصح بلا نية (مقارنة له) أي للأداء... (قوله: مقارنة للأداء) المراد أن تكون مقارنة للأداء للفقير أو الوكيل ولو مقارنة حكمية كأن دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم بيد الفقير صحت ولا يشترط علم الفقير بأنها زكاة على الأصح لما في البحر عن القنية والمجتبى الأصح أن من أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة، فإنها تجزئه.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی
13/رجب /6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


