| 86802 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
السلام علیکم! اللہ آپ کو صحت دے ۔ میرا نام جہانزیب ہےمیری عمر37 سال ہے ۔3 سال پہلےمیری شادی ہوئی تھی۔ میں سعودی عرب میں رہتا ہوں ۔ میری بیوی ہمیشہ سے بےتمیزی کرتی ہے ۔ مجھے غصہ آیا میں اپنے ہوش میں نہ تھا پھر میرے دوست کو فون کر کہ میں نے کہاکہ میں پیپر بھیج رہا ہوں جس پر 1طلاق لکھی ہے۔ ہائی کورٹ کے اسٹامپ پیپر پر طلاق نامہ پرنٹ کر کے بھجوا دو ۔ اور دوست نے بھجوا دیا میرے نام سے وه بھی 3 طلاق والا اورنہ میرے دستخط نہ کچھ۔ نہ میری نیت تھی طلاق کی نہ دینا چا ہتاتھا جو میں نے کاغذ اپنے دوست کو بھیجا تھا طلاق اول والا فارمیٹ، اس نے بولا وہ نہیں بنے گا تو اس نے دوسرا بنوا کے بھیج دیا اس وقت طلاق اول دویم یا سوئم کا پتہ نہیں تھا مجھے۔ میں نے بنا پڑھے بنا دیکھے بنا گواہوں کے اور بغیر میرے دستخط کے کورئیر کے زریعےبھجوا دیا نہ میں فون کیا اور نہ میں کال پہ کچھ بولا۔ کیا میری طلاق ہو گئی ہے ۔ میں آپ کو طلاق اول والا فارمیٹ بھیج رہاہوں۔ رہنمائی فرما ئیں۔جزاک اللہ!
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں صرف ایک طلاق واقع ہو گئی ہے جو کہ آپ نے خود لکھی تھی۔اب آپ عدت کے دوران رجوع کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.( رد المحتار :3/ 246)
في الهندية: ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. (الفتاوى الهندية: 1/ 378)
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ:وكذا التكلم بالطلاق ليس بشرط فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة وبالإشارة المفهومة من الأخرس لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ والإشارة المفهومة تقوم مقام العبارۃ.
(بدائع الصنائع: 3/ 100)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب.
(رد المحتار: 3/ 246)
قال العلامۃ الملا الخسرو رحمہ اللہ :ولو قال للصكاك اكتب طلاق امرأتي تطلق كتب أو لم يكتب كذا في العمادية. )درر الحكام: 2/ 363)
في الهندية :وكذلك كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية:1/ 379)
محمدادریس
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
/14رجب المرجب1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن غلام محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


