| 86372 | وقف کے مسائل | مدارس کے احکام |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ وقف زمین سے نفع حاصل کرنا کیسا ہے؟اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے گاؤں پینگل میں ایک شخص نے مدرسے کے لیے زمین وقف کی اور یہ سٹام پیپر پر بھی لکھا۔گاؤں کے لوگوں نے متفقہ طور پر چندہ جمع کر کے اس زمین پر ایک مدرسہ بنایا ۔اب مہتمم صاحب نے مدرسے کی زمین میں اپنے لیے ایک گھر اور دکان بھی بنالیا ہے جس میں جانوروں کے ادویات اور موٹر سائیکل کی سپئیر پارٹس بیچتا ہے ۔ اس کے علاوہ مدرسے کی باقی زمین پر پپیتہ وغیرہ کے درخت لگائے ہیں جس سے پپیتے بھی بیچتا ہے،جبکہ واقف نے یہ زمین صرف مدرسے کے لیے وقف کی تھی۔ گاؤں کے لوگوں کواس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہے اور مہتمم صاحب کا لوگوں کے ساتھ رویہ بھی ایساہے جیسےیہ زمین اور مدرسہ اس کو وراثت میں ملی ہو۔ کیا اس مہتمم کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ واقف جس مقصد کے لیے زمین وقف کرے اس مقصدمیں یا اس کے مصالح میں اس زمین کو استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے، واقف کے متعین کردہ مقصد کے خلاف اس زمین کو استعمال کرنا شرعًا جائز نہیں ہے۔سوال میں بیان کی گئی تفصیلات اگر درست ہیں تو اگر زمین مدرسے کی تعمیرات وغیرہ سے زائد ہےتو اس میں مدرسے کے اساتذہ وغیرہ کے لیے گھر بنانا مدرسے کےمصالح میں سے ہونے کی وجہ سے جائز ہے،لیکن یہ گھر مدرسے کی ملکیت ہوں گے کسی کی ذاتی ملک نہیں، لیکن اگر مہتمم نے اپنے پیسوں سے اپنے لیے گھر بنایا ہے تو وہ صرف عمارت کی حد تک گھر کا مالک ہے۔آئندہ اگر مدرسےکو اس زمین کی ضرورت پڑی تو مجلس شوری یا دوسرے متولی کو گھر ہٹانے کا اختیار ہوگا۔ایسے ہی مدرسے کی زمین اگر مدرسے کی تعلیمی ضروریات سے فارغ ہو تو مہتممیا متولی اگر مناسب سمجھے تو اس پر دکانیں بنا کر کرائے پر دینے یا درخت لگا کر اس کےپھل بیچنے کی بھی گنجائش ہے۔البتہ دکان کا کرایہ اور درخت کے پھلوں کے پیسے مدرسے کی ملکیت ہوں گے۔یاد رہے کہ متولی کی طرح گاؤں والوں کا بھی ان پیسوں میں کوئی حق نہیں ہے،ان کا حق صرف تعلیم میں ہے،یہ سب وقف کی آمدن ہوگی۔اگر مہتمم صاحب نے اپنے پیسوں سے مدرسے کی زمین پر اپنے لیے دکان بنائی ہےیا درخت لگائے ہیں تو دکان کی عمارت اور درخت مہتمم کی ملکیت ہوں گے،اس کے لیے درخت کے پھل اپنے لیے بیچنا جائز ہوگا۔البتہ اس صورت میںمہتممصاحب مدرسے کی زمین پر دکان بنانے اور درخت لگانے کا معروف کرایہ مدرسے کو ادا کرے گا اور اگر مدرسے کو ضرورت پڑی تو اس دکان اور درختوں کو ہٹانا بھی جائز ہوگا۔لیکن تہمت سے بچنے کے لیے مہتمم صاحب کو چاہیے کے وہ اس کرائے کی مناسب تشہیر بھی کرے۔زیادہ مناسب یہ ہے کہ مدرسے کے لیے ایک مجلس شوری بنائی جائے جس میں مدرسے کے اساتذہ اور گاؤں کے ذمہ دار لوگوں کو بھی ساتھ ملا لیا جائے اور اس قسم کے تصرفات کو باہمی مشورے سے طے کیا جائے تاکہ کسی انتشار کا سبب نہ ہو۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:قولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به.(رد المحتار: 433/4)
وقال أصحاب الفتاوی الھندیۃ:ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته،فلا يجعل الدار بستانا ...ولا الرباط دكانا إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف.(الفتاوى الهندية:2 / 490)
وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك.
وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:وفيه:بنى المتولي في عرصة الوقف إن من مال الوقف فللوقف، وكذا لو من مال نفسه، لكن للوقف ولو لنفسه من ماله، فإن أشهد فله وإلا فللوقف بخلاف أجنبي بنى في ملك غيره.(رد المحتار:747/6)
وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:والمتولي بناؤه وغرسه للوقف ما لم يشهد أنه لنفسه قبله.
وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:قوله:(ما لم يشهد أنه لنفسه قبله) أي قبل البناء، وهو متعلق بيشهد، وهذا إذا بناه من ماله كما علم مما مر قبله، وقيد بالإشهاد تبعا لجامع الفصولين وغيره لكن صرح الخصاف بأن القول قوله: إذا اختلف هو وأهل الوقف بأن قال زرعتها لنفسي ببذري ونفقتي وقالوا: بل لنا لأن البذر له فما حدث منه فهو له بمنزلة الواقف فيما يزرع له.(رد المحتار :4/ 455)
وقال أصحاب الفتاوی الھندیۃ: متولی المسجد لیس لہ أن یحمل سراج المسجد الی بیتہ و لہ أن یحملہ من البیت الی المسجد ... و اذا أراد أن یصرف شیئا من ذلک الی امام المسجد أو الی مؤذن المسجد فلیس لہ ذلک الّا ان کان الواقف شرط ذلک فی الوقف،کذا فی الذخیرۃ .و لو شرط الواقف فی الوقف الصرف الی امام المسجد و بین قدرہ یصرف الیہ ان کان فقیرا و ان کان غنیا لا یحل و کذا الوقف علی الفقھاء و المؤذنین .(الفتاوى الهندية:463/2)
جنید صلاح الدین
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
14/رجب المرجب6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


