03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حالتِ ارتداد میں دورانِ عدت دی گئی طلاق کا حکم
86391طلاق کے احکامزوجین یا ان میں سے کسی ایک کے مرتد ہونے کا بیان

سوال

السلام علیکم!  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ مجھے طلاق کے بہت وسوسے آتے تھے، میں ڈر گیا تھا، مجھے لگا کہ میں اپنی بیوی کو کھو دوں گا۔ تو نکاح سے بغیر طلاق کے نکلنے کے لیے میں نے کلمہ کفر بولا۔ کلمہ کفر جو میں نے بولا وہ یہ تھا کہ میں مسلمان نہیں ہوں اور میں اللہ کو نہیں مانتا۔ (نعوذ باللہ) میں جانتا ہوں کہ مجھ سے بہت بڑی خطاء ہو گئی ہے۔ حضرت!کیا جو نکاح ختم ہوا ہے، وہ طلاقِ بائن ہے؟ اور کیا نکاح ٹوٹنے کے بعد بیوی کی عدت کے دوران بغیر تجدیدِ نکاح کیے اگر طلاق کے الفاظ نکلے ہوں تو کیا وہ واقع ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ارتداد سے جو نکاح ختم ہوتا ہے وہ طلاق نہیں ہوتی بلکہ نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔اس کے بعداسی خاتون سے  دوبارہ نکاح  کیا جا سکتا ہے۔  نکاح کے بعدبھی اس کے پاس تین طلاقوں کا اختیار باقی رہتا ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر حالتِ ارتداد میں دورانِ عدت کوئی طلاق دی تھی تو وہ معتبر ہو گی۔

حوالہ جات

قال جمع من العلماء رحمہم اللہ: ارتد أحد الزوجين عن الإسلام وقعت الفرقة بغير طلاق في الحال قبل الدخول وبعده، ثم إن كان الزوج هو المرتد فلها كل المهر. (الفتاوى الهندية:1/ 339)

وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:(وارتداد أحدهما) أي الزوجين (فسخ) فلا ينقص عددا.

 (الدر المختار ،ص:199)

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:( ومحله المنكوحة) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي، أو بائن غير ثلاث في حرة وثنتين في أمة، أو عن فسخ بتفريق لإباء أحدهما عن الإسلام، أو بارتداد أحدهما.

( رد المحتار :3/ 230)

سعد امین  بن میر محمد اکبر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

14/رجب المرجب  1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سعد امین بن میر محمد اکبر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب