03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نشے کی حالت میں کیے گئے جماع سے حلالہ شرعیہ ثابت ہو جاتا ہے
86393جائز و ناجائزامور کا بیانعورت کو دیکھنے ، چھونے اورجماع کرنے کے احکام

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!مفتی صاحب یہ پوچھنا تھا کہ ایک عورت کو تین طلاقین  ہوئیں۔ تین طلاقوں کے بعد اس نے  دوسرے آدمی سے نکاح کیا ۔ شوہر ثانی نے عورت کو نشہ دے کراس کے ساتھ جماع کیا۔کیا شوہر ثانی کے اس طرح نشے کی حالت میں  کیے گئے جماع سے حلالۂ شرعیہ ثابت ہو جائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نشہ کی حالت میں ازدواجی تعلق سے بھی شرط پوری ہو جائے گی۔ چنانچہ اگر  شوہر ثانی  طلاق دے دے یا فوت ہو جائے تو عدت گزارنے کے بعد  اس خاتون کا سابقہ شوہر  سے نکاح درست ہو گا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: يشترط أن يكون الايلاج موجبا للغسل، وهو التقاء الختانين بلا حائل يمنع الحرارة، وكونه عن قوة نفسه فلا يحلها من لا يقدر عليه إلا بمساعدة اليد إلا إذا انتعش وعمل ولو في حيض ونفاس وإحرام وإن كان حراما وإن لم ينزل، لان الشرط الذوق لا الشبع. قلت: وفي المجتبى: الصواب حلها بدخول الحشفة مطلقا. (الدر المختار ،ص:231)

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قلت: ورأيت في معراج الدراية: ووطء النائمة والمغمى عليه يحل عندنا وفي أحد قولي الشافعي اهـ هكذا رأيته في نسخة سقيمة فلتراجع نسخة أخرى. ثم لا يخفى أن نومه وإغماءه كنومها وإغمائها.(رد المحتار :3/ 414)

وقال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ: وأما الإنزال فليس بشرط للإحلال؛ لأن الله تعالى جعل الجماع غاية الحرمة، والجماع في الفرج هو التقاء الختانين، فإذا وجد فقد انتهت الحرمة .(بدائع الصنائع :3/ 189)

سعد امین  بن میر محمد اکبر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

14/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سعد امین بن میر محمد اکبر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب