03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا ایٹم بم کو منجنیق پر قیاس کیا جا سکتا ہے ؟
86392متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علما ئےکرام اس بارے میں کہ کیا ایٹم بم  جو اپنے اندر  تباہ کن مواد رکھتا ہے جس سے نہ صرف مسلمانوں  بلکہ بے قصور کفار (مراد غیر حربی کفار) کا نقصان ہونا واضح ہے ، ایسے مہلک ہتھیار کو منجنیق پر قیاس کیا جا سکتا ہے ، جسے حضور ﷺ نے سیکھنے اور استعمال کرنے کا حکم دیا تھا جو اتنا مہلک نہیں جتنا ایٹم بم ہوتا ہے ،یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت کے حوالے سے یہی جدید ہتھیار تھا لہذا ایٹم بم  بنانا  بھی صحیح تھا؟اگر چہ اب ضروری ہو چکا ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جدید اسلحہ (منجنیق ہو یا ایٹم بم) کا حصول طاقت میں توازن کے ذریعے امن اور سلامتی کی ضمانت ہے۔ لہذا ایٹمی قوت کا حصول  اگر احتیاط اور ذمہ داری سے استعمال کے ساتھ ہو تو  یہ بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے،اس لیے ایٹمی قوت کی ایجاد کو غلط قرار دینا  درست نہیں ۔ اس قوت کو حاصل کرنا بھی" وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ  [الأنفال: 60] " کے زمرے میں آئے گا۔ مہلک ہونے کی وجہ سےاس کا استعمال کم سے کم اور انتہائی ناگزیر صورتوں میں ہی کرنا درست ہو گا۔ نیز استعمال کے وقت نقصانات کو کم سے کم رکھنے کی حکمت عملی بھی بہت اہم ہو گی۔تاہم ان تمام خدشات کی وجہ سےاس کے حصول کو غلط کہنا عسکری میدان کے تقاضوں سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔

حوالہ جات

سعد امین  بن میر محمد اکبر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

14/رجب  المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سعد امین بن میر محمد اکبر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب