| 86369 | سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان) | متفرّق مسائل |
سوال
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ دعوت کھانے کے بعد اجتماعی دعا کرنا کیسا ہے ، اجتماعی دعاکرنے میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟ ہمارے یہاں دعوت کھانے کے بعد پہلے زمانے سے اجتماعی دعا کرتے ا ٓرہے ہیں لیکن آج کل اس کو بدعت کہہ کر نہیں کر رہے ہیں، تو اس میں عوام لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ پہلے زمانے کے جو علماءتھے کیا وہ مسئلہ نہیں جانتے تھے؟اورآج کل کے مولوی اس کام کو بدعت کہہ رہے ہیں اگر بدعت ہے تو پہلے سے کیوں نہیں روکا ہے۔ مفصل ومدلل جواب تحریر فرمائیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کھانے کی دعوت کے بعد اجتماعی طور پر مخصوص ہیئت کے ساتھ دعا کرنا شرعاً ثابت نہیں ہے۔لہذا کھانے کی دعوت کے بعد اجتماعی دعا کو ضروری اور لازم سمجھنا اوردعانہ کرنے والے پر نکیر کرنا جائز نہیں،بلکہ یہ بدعت کے زمرے میں آتا ہے ،اس لیے اس سے احتراز لازم ہے ۔البتہ بغیر التزام کیے کسی موقع پر کھانا کھانے کے بعداجتماعی طور پر میزبان کے حق میں خیرو برکت کی دعاکر لی جائے،تو شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔اسی طرح اگر کسی کے ہاں کوئی بزرگ شخصیت مدعو ہو اور کھانے کے بعد صاحبِ خانہ برکت کی دعا کی درخواست کرے اور وہ اجتماعی دعا کردیں تو اس کی اجازت ہے۔ دعوت کھانے کے بعد میزبان کے لیے دعائیہ کلمات کہنا مسنون ہے ۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن نجيم رحمه الله:ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص بوقت دون وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به؛ لأنه خلاف المشروع.(البحرالرائق:172/2)
أخرج الإمام مسلم بن الحجاج في "صحيحه"(2042:122/6) من حديث عبدالله بن بسر قال: نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم على أبي قال: فقربنا إليه طعاما ووطبة فأكل منها، ثم أتي بتمر، فكان يأكله ويلقي النوى بين إصبعيه، ويجمع السبابة والوسطى، قال شعبة: هو ظني، وهو فيه إن شاء الله: إلقاء النوى بين الإصبعين. ثم أتي بشراب فشربه، ثم ناوله الذي عن يمينه، قال: فقال أبي، وأخذ بلجام دابته: ادع الله لنا، فقال: اللهم بارك لهم في ما رزقتهم، واغفر لهم وارحمهم .
قال العلامة النووي رحمه الله :وفيه استحباب طلب الدعاء من الفاضل ودعاء الضيف بتوسعة الرزق والمغفرة والرحمة وقد جمع صلى الله عليه وسلم في هذا الدعاء خيرات الدنيا والآخرة.
(شرح النووي:226/13)
محمد فیاض بن عطاءالرحمن
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۴ رجب المرجب ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فیاض بن عطاءالرحمن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


