| 86410 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میں نے اپنی بیوی کو دس دسمبر کو کچھ جھگڑوں کی وجہ سے ایک طلاق دے دی ۔پھر شام کو ہم نے آپس میں رجوع کرلیا اور ہمبستری بھی کی۔پھر 19، 20تاریخ کی رات کو میری بڑی سالی نے مجھے گندی گالیاں دیں، الزامات لگائے اور نامرد بولا ،میں اس بات سے طیش میں آگیا اور میں نے غصے میں اپنی بیوی کو ایک میسیج کیا، جس میں لکھا کہ" پہلے میں نے ایک دی تھی، اب دو ایک ساتھ دے رہا ہوں"۔اس وقت بیوی کے پیریڈز چل رہے تھے جو 18تاریخ کی رات سے شروع ہوگئے تھے،وہ حالت حیض میں تھی اوراس وقت میری بیوی میرے سامنے نہیں تھی ۔میں نے وہ میسیج بیوی کی ایک سہلی "نادیہ "کو بھی بھیجا تھا۔اب سوال یہ ہے کیا طلاق واقع ہوگئی ہے؟اگر ہوئی ہے تو کیا رجوع ہوسکتا ہے؟جبکہ ہم رجوع کرنا چاہتے ہیں ۔اگر طلاق نہیں ہوئی ہے تو ہم آپس میں مل سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جس طرح زبان سے طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اسی طرح کسی چیز پر لکھ دینے یا میسج میں لکھ کر بھیجنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔صورت مسئولہ میں دس دسمبر کوایک طلاق دی تھی جس کے بعد رجوع کرنے پر ازدواجی تعلق برقرار رکھنا جائز تھا،البتہ شوہر کو مزید دو طلاقیں دینے کا اختیار حاصل تھا ۔
پھر 19،20تاریخ کی رات بیوی کو میسیج بھیجنے سے جس میں لکھا کہ" پہلے میں نے ایک دی تھی، اب دو ایک ساتھ دے رہا ہوں" مزیددو طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، یہاں اگرچہ طلاق کا لفظ مذکور نہیں ہےلیکن شوہرنے اپنے اس(پہلے میں نے ایک دی تھی)جملے سے پہلی والی طلاق کے ساتھ اپنے کلام کو جوڑدیا،لہذااس دوسرےوالے (اب دو ایک ساتھ دے رہا ہوں)جملے کو سابقہ طلاق پر مرتب کرتے ہوئےلفظِ طلاق کومقدراً محذوف ماناجائےگااور طلاق کے لفظ کا حکماً اعادہ سمجھاجائے گا،اس لئے اس صورت میں بھی "دو"کی عدد محذوف لفظِ طلاق کی صفت بننے کی وجہ سے دو طلاقیں واقع ہوجائیں گی،اگر چہ آپ غصہ وطیش میں اور بیوی حالتِ حیض میں تھی ،نیزاس طرح حالت حیض میں طلاق دیناگناہ بھی ہےجس کی وجہ سے آپ پرتوبہ و استغفارلازم ہے۔
تین طلاقیں واقع ہونے کی وجہ سے میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے حلال نہیں رہے،موجودہ حالت میں رجوع بھی نہیں ہوسکتا اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے ،البتہ اگر عدت گزرنے کے بعد بیوی دوسری جگہ شادی کرےاور دوسرا شوہرہمبستری کے بعدکسی وجہ سے اس کو طلاق دےدے یاشوہر فوت ہوجائے تواس کی عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سےنئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔
حوالہ جات
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 378):
«[الفصل السادس في الطلاق بالكتابة]
(الفصل السادس في الطلاق بالكتابة) الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 275):
«ورأيت بخط السائحاني: مقتضى ما في الخانية من قوله ولو قال لامرأته: أنت بثلاث. قال ابن الفضل: إذا نوى يقع أنه يقع هنا إذا نوى. وفيها أيضا إذا قال: طالق فقيل: من عنيت فقال: امرأتي طلقت؛ ولو قال: أنت مني ثلاثا طلقت إن نوى أو كان في مذاكرة الطلاق، وإلا قالوا: يخشى أن لا يصدق اهـ وكذا نقل الرحمتي عبارة الخانية الأولى ثم قال: والظاهر أن قوله هكذا مثل قوله بثلاث. اهـ.»
أقول: أي لأن كلا منهما مرتبط بلفظ: طالق مقدرا، وقول الرملي إن اللفظ لا يشعر به غير مسلم، وما نقله عن الزيلعي لا ينافيه لأن المراد بالاسم المبهم لفظ هكذا المراد به العدد الذي أشير به إليه، وسماه مبهما لكونه لم يصرح بكميته كما حققه في النهر. والاسم المبهم مذكور في مسألتنا، فيفيد العلم بعدد الطلاق المقدر الذي نواه المتكلم، كما أن قوله بثلاث دل على عدد طلاق مقدر نواه المتكلم، ولا فرق بينهما إلا من جهة أن العدد في أحدهما صريح وفي الآخر غير صريح، وهذا الفرق غير مؤثر بدليل أنه لا فرق بين قوله: أنت طالق هكذا مشيرا إلى الأصابع الثلاث وبين قوله أنت طالق بثلاث، هذا ما ظهر لي فافهم»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 287):
«[مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به]
(قوله والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها أنت طالق ثلاثا طلقت ثلاثا، ولو كان الوقوع بطالق لبانت لا إلى عدة فلغا العدد، ومن أنه لو قال أنت طالق واحدة إن شاء الله لم يقع شيء ولو كان الوقوع بطالق لكان العدد فاصلا فوقع ثم اعلم أن الوقوع أيضا بالمصدر عند ذكره، وكذا بالصفة عند ذكرها»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 306):
«مطلب الصريح يلحق الصريح والبائن
(قوله الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا»
القرآن الکریم(سورۃ البقرہ:230):
فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُها لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ.
«مسند أحمد» (41/ 195 ط الرسالة):
«عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في رجل طلق امرأته ثلاثا، ثم تزوجها آخر، ثم طلقها من قبل أن يمسها، قال: " لا ينكحها الأول حتى تذوق من عسيلته، ويذوق من عسيلتها "»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15/رجب /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


