03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترک گھر تقسیم کرنے کا حکم
86478تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

سوال یہ ہے کہ ہم چار بھائیوں نے مشترکہ گھر بنانے کا ارادہ کیاہے، مشورہ یہ ہوا کہ جو تین بھائی کاروباری پارٹنرز ہیں، آدھے پیسے یہ تینوں پارٹنر بھائی مل کر دیں گے اور باقی آدھے پیسے میں اکیلا دوں گا۔ میرے مالی معاملات تعمیر شروع کرنے سے پہلے ہی  ان سے الگ تھے اور اب بھی الگ ہیں۔ یہ فیصلہ ہوا کہ گھر تینوں کا مشترکہ ہوگااور میرا چوتھائی حصہ ہوگا۔

گھر کی تعمیر مکمل ہونے کے قریب تھی کہ میرے بھائیوں کی طرف سے پیسوں میں خردبرد کے معاملات سامنے آئے، میں نے بھائیوں سے کہا کہ گھر تقسیم کرتے ہیں، گھر کی تعمیر میں آدھے پیسے میں نے اکیلے خرچ کئے ہیں، اس لیے آدھا گھر میرا ہے اور آدھے گھر کے پیسےآپ لوگوں نے مل کر دیے ہیں، تو آدھا گھر آپ لوگوں کا ہے۔بھائیوں نے کہا کہ تم آدھے گھر کا مطالبہ نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ تم نے آدھے پیسے مکمل دیے ہیں، لیکن ہم نے تعمیر کے وقت مزدوروں کی نگرانی اور دیکھ بھال بھی تو کی ہے۔میں نے کہا: ٹھیک ہے، اگر تم دیکھ بھال کا دعویٰ کر رہے ہو، تو اس کا معاوضہ بھی دے دوں گا ،پھر میں نے ڈھائی تولہ سونا ان کو دے دیا اور دیتے وقت یہ بھی بتا دیا کہ یہ تمھاری دیکھ بھال کا معاوضہ دے رہا ہوں۔

کیا شرعی لحاظ سے اس صورت میں آدھا گھر میرا حق بنتا ہے یا نہیں؟ اگر آدھا  گھر میرا حق نہیں بنتا تو کیا میرے بھائیوں نے جو مجھ سے مزدوروں اور تعمیر کی  دیکھ بھال کے عوض ڈھائی تولہ سونا لیا  جو کہ میرے ذمے نہ تھا، وہ ان کو واپس کرنا پڑے گا یا نہیں؟

تنقیح:سائل نے استفسار  پر وضاحت کی کہ جس زمین پر گھر تعمیر کرایا گیا ہے وہ ہم سب بھائیوں کی مشترکہ زمین  ہے،اور اس کی تقسیم میں کوئی مسئلہ نہیں کہ زمین بڑی ہے اورقابل تقسیم ہے،گھر کی تقسیم سے کسی کو ضرر لاحق نہیں ہوگا،نیز میرے بھائی آدھا گھر دینے پر راضی ہیں۔ استفتاء کا مقصد گھر کی عمارت کے اعتبار سے  میرے لئے آدھے  گھر کا شرعا جائز ہونے کے بارے میں پوچھناہے،باقی زمین کے اعتبار سے جرگہ میں طے ہوا  کہ گھرکی   زمین میں  جو  کمی بیشی ہوگی  تو وہ ہم دوسری جگہ سے پوری کرلیں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 صورت مسئولہ اگریہ  تفصیل حقیقت میں ایسی ہی ہےجیسے سائل نے بتائی توگھر کی تقسیم  کا حکم درج ذیل ہے:

آپ اور تین  بھائیوں نے مل کر جو گھر بنایا ہے   یہ  سب بھائیوں کی مشترکہ ملکیت ہے،اورمشترک  گھر میں  ہر بھائی کی ملکیت اتنی  ہےجس قدر  اس نے گھر کی  تعمیر میں سرمایہ خرچ کیا ہے، جس بھائی نے آدھا گھر اپنے پیسوں سے بنایا ہےتو آدھا گھر اس کی ملکیت ہے اور  باقی تین بھائیوں کے درمیان باقی آدھا گھر مشترک ہوگا  ۔گھر کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ پورے  گھر کی قیمت لگائی  جائی گی  اور قیمت کے اعتبار سے آدھا گھر آپ کی ملکیت ہوگااورباقی آدھا گھر تین بھائیوں کے درمیان تعمیر میں خرچ کئے گئے سرمایہ کے تناسب سے مشترک ہوگا۔

گھر کی تعمیر کے دوران آپ کے بھائیوں نے مزدوروں کی دیکھ بھال اور نگرانی کی، اس خدمت کے بدلے مناسب معاوضہ لینا جائز ہے۔ لہٰذا، ڈھائی تولے سونا جو آپ نے ان کو نگرانی کے معاوضے کے طور پر دیا ہے، بھائیوں کے لیے لینا درست ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 207):

‌دار ‌بين ‌رجلين ‌نصيب ‌أحدهما أكثر فطلب صاحب الكثير القسمة وأبى الآخر فإن القاضي يقسم عند الكل وإن طلب صاحب القليل القسمة وأبى صاحب الكثير فكذلك وهو اختيار الإمام الشيخ المعروف بخواهر زاده وعليه الفتوى في البيت الصغير بين رجلين إذا كان صاحب القليل لا ينتفع بنصيبه بعد القسمة فطلب صاحب القليل القسمة قالوا: لا يقسم وذكر الخصاف دار بين رجلين نصيب كل واحد لا ينتفع به بعد القسمة وطلب القسمة من القاضي فإن القاضي يقسم وإن طلب أحدهما القسمة وأبى الآخر لا يقسم لأن الطالب متعنت وإن كان ضرر القسمة على أحدهما بأن كان نصيب أحدهما أكثر ينتفع به بعد القسمة فطلب صاحب الكثير القسمة وأبى الآخر فإن القاضي يقسم وإن طلب صاحب القليل لا يقسم.

 مجلة الاحكام (مادة١١٤٨):

حيث كانت العرصة والأراضي من الذرعيات  فتقسم بالذراع أما ما عليها من الأشجار والأبنية فيقسم بتقدير القيمة.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 253):

وشرعا (جمع نصيب شائع له في مكان معين. وسببها طلب الشركاء أو بعضهم الانتفاع بملكه على وجه الخصوص) فلو لم يوجد طلبهم لا تصح القسمة.(وركنها هو الفعل الذي يحصل به الإفراز والتميز بين الأنصباء) ككيل وذرع (وشرطها عدم فوت المنفعة بالقسمة) ولذا لا يقسم نحو حائط وحمام.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

15/ رجب/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب